انگور کٹھے ہیں

America

America

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری
ایک چالاک لومڑی کو سخت بھوک لگی اسے انگوروں کا ایک باغ نظر آیا وہ چھلانگیں لگا لگا کر تھک گئی مگر انگوروں کے گچھوں تک نہ پہنچ سکی ناکام و نامراد وہوکر وہ وہاں سے یہ کہہ کر چل پڑی کہ “انگور کھٹے ہیں ” یعنی “ہتھ نہ پہنچے تے تھو کوڑی “اسی چالاک لومڑی کا کردار عالمی غنڈے امریکی سامراج کا ہے کئی بیرونی ممالک کی افواج کو ساتھ لے کر بھی افغانستان پر بموں کی بارشیں برسا کر اپنا مقصد حاصل نہ کرسکاتو”گرا کھوتی توں تے غصہ کمہارتے “کی طرح اب افغانی دہشت گردوں کو ختم نہ کر سکنے کا سارا ملبہ اپنے ہی اتحادی پاکستان پر ڈال دیا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اس لیے وہ ڈرون حملوں میں تیز ی لائے گا اور پاکستان کی امداد بھی کم کر ڈالے گا جبکہ پاکستان نے اس کا اتحادی بن کر پچاس ہزار افرادسے زیادہ اپنی پاک افواج کے جوانوں ،افسروں اور شہریوں کی قربانی دی ہے۔مگر “زمین جنبد آسمان جنبد نہ جنبد گل محمد” کی طرح امریکہ کے کان پر جوں تک بھی نہیں رینگی اسے ہمارا قطعاً احساس تک نہ ہے کتوں کو گلے اور کندھوں پر لٹکانے والے کمانڈو مشرف نے ہی 9/11کے بعد ایک امریکن فون کال پر بغیر سوچے سمجھے اور کسی بھی ساتھی سے مشاورت کے بغیر ہی اپنے ہوائی اڈے امریکہ کو استعمال کرنے کے لیے دے ڈالے اور انہوں نے 71ہزار سے زائد حملے ہماری سرزمین سے افغانستان پر کیے۔ڈرون حملوں کی اجازت اور کئی دوسرے نہ ماننے والے مطالبات بھی سامراج کے مان لیے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے علاوہ ہمارے بچے بچیاں جوان بوڑھے مسلسل شہادتیں پارہے ہیں۔

ہم نے ضرب عضب اور اب رد الفساد کے ذریعے مغربی بارڈروں پر دہشت گردوں سے نمٹتے ہوئے پرامن شہریوں کو بھی در بدر پھرنے پر مجبور کرڈالا ہے نہ ہم اپنی زمین امریکنوں کو استعمال کرنے کے لیے دیتے اور نہ افغانستان کے رہائشی اور ہمارے بارڈروں پر موجود پٹھان ہمیں بھی اپنا دشمن سمجھتے ۔امریکہ تو ہر صورت افغانستان سے نکل جائے گا مگر اب ہمسایوں سے ہمارا اٹ کھڑکا مسلسل جاری رہے گا۔اگر ہمارا بزدل حکمران امریکہ کو اس وقت تُرت جواب دے دیتا تو اس کی دھمکیاں گیدڑ بھبکیاں ثابت ہو کر دم توڑ جاتیں۔ٹرمپ بھی اقتدار میں آکر پانچ سے زائد ڈرون حملے کرواچکا ہے کسی دور میں تو عمران خان نے بھی افغانستان کو جانے والے اسلحہ کے ٹرالے روک ڈالے تھے مگر آجکل وہ پانامہ پانامہ کھیل رہا ہے۔اقتدار کی جاہ پرستی نے اس کی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ ڈالی ہے اور اسے سویلین مسلمان بھائیوں کا خون ناحق نظر نہیں آ رہا۔

اور مرکزی حکومت والے تو ٹھہرے مصلحت پسند اور ڈرپوکیات کی پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کیے ہوئے کہ کچھ ہوتا رہے ہندو بارڈروں پرمعصوم فوجی جوانوں اور سویلین افراد کی ہلاکتیں کرتے پھریں انہیں “ساون کے اندھے کوہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے “کی طرح وہ بھارتی امریکی مظالم پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں شاید اسلئے کہ انکی ڈولتی اقتداری کشتی سامراجیوں کے سہارے ڈوبنے سے بچ جائے ٹرمپ اور مودی جتنے زیادہ متشدد اسلام دشمن ہیں ہمارے شریفوں کی اتنی ہی زیادہ ان سے یاری ہے جو کہ محیر العقول سوالیہ نشان ہے موجودہ کمانڈر باجوہ صاحب نے صحیح فرمایا ہے کہ یہ ڈرون حملے ہماری خود مختاری کے خلاف ہیں ان سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا ہمارا پروگرام بھی متاثر ہوتا ہے ہم انہیں قطعی طور پر برداشت نہیں کرسکتے چند روز قبل ایرانی ڈرون کاگرانا ہماری ڈرون کو گرانے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے ۔کیا امریکہ نے اپنے ٹارگٹ شدہ سارے افغانی دہشت گرد ختم کرڈالے ہیں کہ اب پاکستان میں کاروائیاں کرے گا ؟افغانی ہوں یا امریکی ہماری تمام ایجنسیاں ان سے شئیرنگ کرنے کو تیار ہیں۔

افغان طالبان جو کہ نصف سے زائد حصہ پر اب بھی قابض اور حکمران ہیں ان کی طرف سے امریکن اتحادی افواج پر جوں ہی کوئی افتاد آن پڑتی ہے تو امریکی اشیر باد سے محدود علاقے پر قابض ٹوڈی ٹولہ پاکستان پر الزام دھر دیتا ہے حالانکہ افغانستان کے اندر قیام امن تو خود ہمارے بھی مفاد میں ہے بزدلیوں کی چیمپین قابض افواج بھلا طالبان سے کیوں کر نمٹ سکتی ہیں کیا کبھی زنخوں کھسروں کے گھر بھی بچوں نے جنم لیا ہے معلوم ہو گیا کہ تم بموں کی ماں تک کو تو گرا کر ہلاکتیں کرسکتے ہومگر میدان میں لڑ سکو “کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا” والی کیفیت ہے ۔الکفر ملت ًواحدةًاور المسلم اخوةً کہ سارے کافر ایک ملت ہیں اور مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔

ہم نے تو اب چین کے ساتھ دفاعی معاہدے کر لیے ہیںروس بھی ہمارے قریب آرہا ہے اسلئے”آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے “کے مصداق ہمارا ہر عمل انہیں برا محسوس ہوتا ہے۔ہندو سامراجیوں کی طرف سے ہمارے مشرقی بازو پر حملہ کے دوران امریکی بیڑہ جلد پہنچے گا کی صدائیں بالآخر فریب محض ثابت ہوئیں ۔ہم اپنے ملک کا آدھا حصہ گنوا بیٹھے مومن ایک سوارخ سے دوبارہ ڈسا نہیں جاسکتا۔ہم اب مودی ٹرمپ کی جی حضوریوں کی جگہ ھمالہ سے اونچی چین کی دوستی پرفخر کریں خودداری کا ثبوت دیں کہ” تو جھکا جب غیر کے آگے تو تن تیرا نہ من ” اب حکمرانوں کا کہنا کہ ڈرون برداشت نہیں کریں گے بے وقت کی راگنی ہے کہ ” اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”لگتا ہے ہم نے ایٹم بم کو ڈیپ فریزر میں لگا رکھا ہے اسلئے کسی کو ڈر خوف تک نہ ہے۔یا پھر وہ بات کہ سو شیروں کی فوج کا جنرل بھیڑ ہو تو ناکامی ہوگی مگر سو بھیڑوں کی فوج کا کمانڈر شیر ہو تو کامیابی یقینی ہے۔

Dr Ihsan Bari

Dr Ihsan Bari

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری