قل خوانی کے اجتماع سے علامہ قاری محمد اشفاق احمد سعیدی گولڑوی کا خطاب

Layyah

Layyah

لیہ : مرکزی عیدگاہ لیہ میں پیر سید سبط الحسنین شاہ گیلانی کی زیر صدارت مفتی امام بخش اعظمی رحمة اللہ علیہ کی زوجہ مفتی سرپرست جماعت اہلسنت ضلع لیہ مفتی احمد رضا کی والدہ ماجدہ جو رضائے الہی فوت ہو گئیں تھیں کی قل خوانی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل نائب صدر جماعت اہلسنت ڈیرہ غازی خان علامہ قاری محمداشفاق احمد سعیدی گولڑوی نے کہا ہے کہ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی زندگی اتباع رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں گزار دی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اورخاتون جنت رضی اللہ عنہا کی زندگی مصائب وآزمائشوں سے عبارت رہی۔ جوان سے محبت کرے گااس کی زندگی بھی آزمائشوںمیں گزرے گی۔مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی اورآپ کرم اللہ وجہہ پہلے بت شکن بھی ہیں۔قاری اشفاق احمدسعیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی امام بخش اعظمی رحمة اللہ علیہ نے اپنی زندگی علم دین کی ترویج وتبلیغ میں گزاری۔

مفتی امام بخش اعظمی رحمة اللہ علیہ کی اہلیہ جن کی قل خوانی کے اجتماع میں ہم شریک ہیں نے بھی اپنی زندگی صبرورضامیں گزاردی۔اس نیک بخت خاتون کویہ اعزازحاصل ہے کہ اس کی گودمیں علماء وحفاظ پرورش پاتے رہے۔قل خوانی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمدمحسن فیضی نے کہا ہے کہ قبرمیں جس کوسرکاردوجہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہچان ہوگئی وہ نجات پاجائے گااورپہچان اس کوہوگی جودنیا میں درودوسلام کثرت سے پڑھتارہے گا۔

انہوں نے کہا کہ قبرمیں اسی کی نجات ہوگی جواہلسنت کے عقیدہ پر ہو گا۔ قل خوانی میں تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری محمداسماعیل نظامی نے حاصل کی۔شیخ نصیرعباس، محمدعمران بریال اورنثاراحمدحسنینی نے ہدیہ نعت پیش کیا قل خوانی کے اجتماع سے مفتی محمداکرام سعیدی اور علامہ حبیب اللہ حسنی نے بھی خطاب کیا۔

قل خوانی کے اجتماع میں اجتماعی دعا پیرسیّدسبط الحسنین شاہ گیلانی نے کرائی۔قل خوانی کے اجتماع میں پیرسیّد سرداراللہ شاہ، سیّد محمدسلیم بخاری،پیرسیّدثناء اللہ شاہ، سیّدمجاہد حسین شاہ بخاری،سرپرست جماعت اہلسنت تحصیل لیہ علامہ منیراحمدنظامی،علامہ غلام رسول نوری، علامہ عبدالعزیزطاہر، قاری محمدلقمان سعیدی،قاری محمدسلیمان معینی، علامہ غلام یاسین قمر،مولانا محمدبخش ناصر،قاری صادق حسین باروی، محمد اکبر قادری، ذوالفقار احمد نقشبندی، علامہ محبوب رضا اعظمی، محسن رضا، صادق رضا، عابدرضا، احسن رضا،محمدصدیق پرہار،قاری غلام یاسین نقشبندی، علامہ محمد یامین الباروی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔