ڈنکے کی چوٹ

Danke Ki Chot

Danke Ki Chot

تحریر: پرنس انجم بلوچستانی
جرمنی ایجنسی،اپنا انٹرنیشنل کے ایڈیٹر انچیف پرنس انجم بلوچستانی نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے، نتائج کی پروا کئے بغیر، سچ کا پرچم بلند کرنے کی خاطر ایک کالم”ڈنکے کی چوٹ” کے نام سے شروع کیا ہے، جس میں پاکستان ودیگرایشیائی ممالک کی سیاسی، مذہبی،سماجی و رفاہی پارٹیوںاور تنظیمات کے کردار پر روشنی ڈالی جائے گی: گذشتہ دو ماہ سے پاکستان کے ٹی وی ٹاک شوز میں کراچی کے حلقہ نمبر این اے٢٤٦ میں سلیم گبول کی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات کا اس قدر چرچا رہا کہ یوں لگتا تھا کہ اس انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ بدل جائے گی۔

کراچی کو ویسے بھی باقی پاکستان کیلئے سوتیلی ماں بنا دیا گیا ہے۔اسلئے کراچی کے ضمنی انتخاب کی آڑ میںخوب جلے دل کے پھپولے پھوڑے گئے۔وہ تمام خود پسند،پاکستان و بیرون ملک خودرو پودوں کی طرح اگے ہوئے، بیہودہ گو،بد زبان،بد اخلاق،ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جوتیوں کے طفیل صحافتی آزادی حاصل کرنیوالے نام نہاد صحافی، تجزیہ نگار، کالم نگاراور اینکرلنگوٹ کس کر میدان میں کود پڑے اور پھر وہ گھمسان کا رن پڑا کہ الامان و الحفیظ۔انکی مدد کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے وہ بدتمیز،گالی گلوچ کے عادی،بے شرم کارکن و رہنما پہلے ہی سے موجود تھے۔جو گذشتہ ساٹھ سال سے کراچی دشمنی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔وہ بڑی معصومیت سے کراچی کے مسائل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بڑی چالاکی اور سفاکی سے”مہاجروں” ”MQM” اور ”الطاف حسین” کے خلاف وہ کرتے ہیں،جسے”ناف کے نیچے حملہ” کہا جاتا ہے۔ ادھر الطاف حسین بھی تقاریر میں سنجیدگی کا دامن چھوڑ کرارادی یا غیر ارادی طورپرلوگوں کو تنقید کا موقعہ فراہم کرتے ہیں، لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ اینکر،تجزیہ نگار وسیاسی رہنماکراچی میں بسنے والوں،خاص طور پر پر سی پی،یوپی، بہارسے ہجرت کرنے والے محب وطن خاندانوں کی عزت نفس کو مجروح کریں۔ان میں بڑے بڑے اینکر،تجزیہ نگار،صوبائی اور وفاقی سیاسی رہنما ،وزیر، مشیر سبھی شامل ہیں۔

ان اینکرز کو نادیدہ قوتوں کی حمایت یا اسکے بغیر چندایسے لوگ بھی مل گئے،جوایسے موقعوں پر کہانی میں رنگ بھرنے میں ماہر ہوا کرتے ہیں۔ مثلاً نبیل گبول،ذوالفقارمرزا ،جاوید ہاشمی وغیرہ،جنہوں نے بذات خود یا اپنے کرم فرمائوں کے ایجنڈے کے مطابق اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔ ان تمام نے مل کر یہ ثابت کردیا کہ پاکستان بنانے والوں، اسکی خاطر زمین،جائیداد،عزیز واقارب چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں، خصوصاً یوپی، سی پی کے مہاجروں کوآج بھی” مہاجر” سمجھا جاتا ہے،جبکہ مشرقی پنجاب سے آنے والے جملہ مہاجرین پنجابی زبان کی بنیاد پر شروع کی مشکلات کے بعد لسانی بنیاد پر ضم ہو گئے ،بلکہ آج بھی زبان کی بنیاد پر ” گریٹر پنجاب” اور”مشترکہ پنجاب” کی تحریکیں موجود ہیں، جنکا ذکر یہ ؟؟؟عظیم دانشور بھول کر بھی نہیں کرتے۔جبکہ میں کئی سکھ تنظیمات سے اس بارے میں سن چکا ہوں۔اسلئے یاد رکھیں کہ جب بھی یہ تمام سازشی ٹولہ ،جودرحقیقت پاکستان دشمنی میں مصروف ہے،لفظ”مہاجر” کہتا ہے تو اسکی مراد صرف اور صرف یوپی، سی پی، بہاراور دیگر بھارتی علاقوں سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجروں کے لئے مخصوص ہے۔جنہیں پناہ گزین بھی کہا جاتا ہے۔

MQM

MQM

کہا جاتا ہے کہ”مہاجر ” کا نعرہ خود مہاجروں نے اپنے لئے چنا ہے اور MQMلسانیت کے نام پر بنائی گئی جماعت ہے۔لیکن اگر اس نعرہ کی تاریخ اور MQM کے قیام کی وجہ کا جائزہ لیا جائے،تو نظر آتا ہے کہ”آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن” APMSOکا قیام رد عمل تھا ”سندھ اسٹوڈنٹس” ”بلوچ اسٹوڈنٹس”،”پختون اسٹوڈنٹس” ”پنجاب اسٹوڈنٹس” کے نام سے وابستہ طلباء کی مختلف جماعتوں کا، جو پورے ملک میں طلباء کے حقوق کے لئے کام کر رہی تھیں،جنمیںانہی علاقوں کے طلباء پیش پیش تھے۔جب APMSO کو ایک سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ ہوا،اس وقت بھی کراچی میں”پنجابی پختون اتحاد” PPIکے نام سے ایک کٹر،متعصب،مہاجر دشمن،کراچی دشمن،جنرل ضیاء الحق کی سر پرستی اور اعوان کی سربراہی میںنفرت، عداوت،قبضہ اور دہشت گردی کی سیاست کر رہی تھی۔لیکن افسوس ہے کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹی وی اور اخبارات کے ان بوجھ بجھکڑوں نے آج تک اس زہریلی جماعت کا تذکرہ نہیں کیا،جسکے سربراہ نے اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لئے کراچی میں آگ لگانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

اس زمانہ کے اخبارات کا مطالعہ کیا جائے تو اس مسئلہ کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ گویاMQMبھی ایک ردعمل کا نتیجہ ہے۔اسلئے ہو سکتا ہے کہ اسکی نشوونما فلسطینی تحریک ”انتفادہ”کی طرح ہوئی ہو،یا اس نے جرمن باد شاہت کے خلاف مشہور زمانہ،بدنام نازی تحریک کا اثر قبول کیا ہو۔تاہم اس وقت الطاف حسین نے APMSOکی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئےMQMکی بنیاد رکھی اور بعد میں اسے” مہاجرقومی موومنٹ” سے ”متحدہ قومی موومنٹ” میں تبدیل کر کے ملکی سیاست میں قدم رکھنے کی کوشش کی،جسے دیگر سیاسی جماعتوں اور صوبائی مقتدرہ نے ناکام بنانے کی حتی الامکان کوشش کی۔اسٹیبلشمنٹ کے سائے میںMQMحقیقی بنائی گئی۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر و گلگت میں کامیاب ہونے کے باوجودMQMا بھی اتنی پراعتماد نہیں کہ مہاجر کا نعرہ ترک کر دے۔

Pakistan

Pakistan

حیرت ہے کہ اس نے اپنے لئے”اردو اسپیکنگ” کا لفظ قبول کر لیا،جبکہ اسے خم ٹھونک کر کہنا چاہئے تھا کہ ہم وہ واحد جماعت ہیں،جو قومی زبان بولتی ہے۔اگر” اردو” ہماری قومی زبان ہے تو یوپی،بہار، سی پی و دیگر اردو بولنے والوں کو فخر ہونا چاہئے کہ وہ”حقیقی پاکستانی” ہیں، جو پاکستان کی قومی زبان”اردو” بولتے ہیں۔ اسے اس جھوٹی اشرافیہ اور قابض مقتدرہ کی سازش کا پردہ چاک کرنا چاہئے،جس نے آج تک اردوکو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا،بلکہ اسے ”مہاجروں ”و” ہندوستانیوں کی زبان”سمجھا، اسکا پرچار کیا اور تمام صوبائی و علاقائی زبانوں کو قومی زبان کے ساتھ پروان چڑھانے کی بجائے ان زبانوں کو قومی زبان کے مقابلہ پر لانے کی کوشش کرتی رہی۔MQM کو لسانی جماعت قرار دینے والے بھول جاتے ہیں کہ وہ ان صوبوں کے باسی ہیں،جنکی بنیاد ہی زبان ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، تو پھر وہ کس مونہہ سے یہ طعنہ دیتے ہیں۔ان مہاجروں نے ”نئے سندھی” بن کر بھی دیکھ لیا،نتیجہ وہی رہا۔مہاجرین تو اصل” پاکستانی” ہیں اب بقیہ لوگ خود فیصلہ کریں کہ وہ ” پاکستانی” ہیں یا پہلے کی طرح پنجابی، سندھی، بلوچ وپٹھان۔ یہ دوغلا پن کب تک چلے گا؟ مجھے پورا یقین ہے کہ انتخاب کے بعد اینکروں ،تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کا یہ مخصوص ٹولہ پوری ڈھٹائی سے اپنے گذشتہ تجزیات کوسچ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا اورپاکستانیوں کو” مہاجر” کہہ کر اپنے تعصب کا اظہار کرے گا۔

لہٰذا محب وطن پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ مبشر لقمان،ہارون الرشید،عارف بھٹی،عارف نظامی،حامد میر، کاشف عباسی،نجم سیٹھی،رئوف کلاسرہ،شاہین صہبائی،ندیم ملک،معید پیر زادہ،کامران شاہد، افتخاراحمد، امتیاز عالم،ابصار عالم،سلیم صافی،رانا مبشر، عصمےٰ چوہدری،بینش سلیم،عصمےٰ شیرازی،غلام حسین، عارف نظامی ، جاوید چوہدری، انصار عباسی،فواد چوہدری اور دیگر کو کراچی کی بھلائی کی آڑ میںکراچی دشمنی سے باز آجانا چاہئے۔انہیں خود بھی پاکستانی بن جانا چاہئے اور کراچی و دیگر علاقوں میں آباد مہاجرین کی اولاد کو بھی پاکستانی سمجھنا چاہئے۔”

Prince Anjum Balouchistani

Prince Anjum Balouchistani

تحریر: پرنس انجم بلوچستانی