جرمنی میں پناہ کے متلاشی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایک مستقل خوف میں زندگی گزار رہی ہے۔

Refugees

Refugees

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) جرمنی میں پناہ کے متلاشی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایک مستقل خوف میں زندگی گزار رہی ہے۔ ان کے جرمنی میں رہائش کے اجازت نامے عارضی ہیں اور انہیں ہر وقت اپنے ملک بدر کیے جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

جرمنی میں پناہ کے متلاشی ایسے نوجوانوں کی اصل تعداد کا کسی کو بھی علم نہیں۔ ان کے ہاتھ سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جرمنی میں رہائش کے ایسے عارضی اجازت ناموں کی وجہ سے یہ نوجوان نہ تو کسی تربیتی پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا کام کر سکتے ہیں۔ اس دوران یہ لوگ خود اپنی کوئی رہائش بھی تلاش نہیں کر سکتے اور انہیں اس وقت تک پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے مراکز میں ہی رہنا پڑتا ہے جب تک کہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم جرمن حکومت اس صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں مختلف کاروباری ادارے بھی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر رضامند ہیں۔

جرمنی میں ایسے بہت سے کاروباری ادارے ہیں، جنہیں ہنر مند افراد کی فوری ضرورت بھی ہے اور وہ مختلف شعبوں میں نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے۔ جرمن شہر بون میں AsA نامی ایک تنظیم پناہ کے متلاشی ایسے نوجوانوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ پناہ کے متلاشی افراد کو اس وقت تک پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے مراکز میں ہی رہنا پڑتا ہے جب تک کہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس تنظیم نے’’ ملک بدری کی بجائے موقع‘‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔

اے ایس اے ستائیس سال تک کے نوجوانوں کو مشاورت فراہم کرتی ہے جبکہ جرمن زبان یا کوئی ہنر سیکھنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے امکانات بھی تلاش کرتی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ کارمن مارٹینیز والدیس کہتی ہیں، ’’تربیتی کورسز کے دوران رہائش کے اجازت نامے کے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کوئی باضابطہ قانون تو موجود نہیں ہے لیکن زیادہ تر کمپنیاں چاہتی ہیں کہ جسے تربیت دی جا رہی ہے وہ تربیت مکمل ہونے کے بعد کم از کم تین سال تک جرمنی میں رہے۔‘‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ جب کوئی اپنی عارضی رہائشی دستاویزات کے ساتھ کسی کمپنی میں جاتا ہے تو آجر ادارہ ابتدا ہی سے غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو جاتا ہے۔ ’’یہ صورتحال درخواست گزار کے لیے بھی مایوسی کا سبب بنتی ہے۔‘‘ جرمن دستکاروں کی مرکزی تنظیم کے سربراہ ہنس پیٹر وولزائفر کے مطابق، ’’اس سے قطع نظر کہ جنگ زدہ علاقوں سے آئے ہوئے نوجوانوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی کوئی درخواست کس مرحلے میں ہے، انہیں اس وقت تک جرمنی میں رہنے کی اجازت دینی چاہیے جب تک ان کی تربیت مکمل نہیں ہو جاتی۔‘‘

جرمن پارلیمان کے ایوان بالا نے رواں سال فروری میں عندیہ دیا تھا کہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو کسی تربیتی کورس میں شرکت یا تعلیم کے حصول کے لیے رہائش کا حق دیا جائے گا تاکہ ملکی اقتصادی منڈی کے دروازے ان پر کھل سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں ایک لاکھ سے زائد افراد ایسے ہیں، جنہیں مختلف وجوہات کی بناء پر ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔