غالب اکادمی، دہلی میں گلہائے صدرنگ کا اجرا اور شعری نشست

Mahana Adbi Nashist

Mahana Adbi Nashist

دہلی (کامران غنی) غالب اکادمی دہلی میں امریکہ سے شائع ہونے والی شہرہ آفاق کتاب ‘گلہائے صد رنگ” کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ اس کتاب میں دنیا بھر کے چنندہ شعرائے کرام کے کلام کو جگہ دی گئی ہے۔ ہندوستان سے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، محترمہ ذہینہ صدیقی اور سراج دہلوی کے نام شامل ہیں۔ کتاب کی تقریب رونمائی میں معروف افسانہ نویس ڈاکٹر نگار عظیم مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے شریک ہوئیں جبکہ اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعزازی اور نوجوان شاعر و صحافی کامران غنی صبا مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔ تقریب کی صدارت جناب زہیر انور نے کی۔

اس تقریب میںغالب اکیڈمی کے سیکریٹری جناب ڈاکٹرعقیل احمد ، ہندی شاعری کی ممتاز شاعرہ مسز میناکشی ،جیجی وشا ، متین امروہوی ، ڈاکڑضیاء الرحمان ، ڈاکٹر زہیر انور ، عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار ڈاکٹر نگار عظیم ، نازِ سخن جناب ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ، سکندر راز، اور جناب نسیم عباسی بھی شامل تھے ۔ گلہائے صدرنگ سے صاحب ِ دیوان بننے والی ایک اور ممتاز شاعرہ محترمہ ذینہ صدیقی بھی اس موقع پر تشریف فرما تھیں ۔ گلہائے صدرنگ میں شامل ایک اور صاحب ِ دیوان ہندوستان کی ممتاز ادبی شخصیت جناب سراج دہلوی بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے تقریب میں شریک نہ ہوسکے ۔ انکی عدم موجودگی کو بے حد محسوس کیا گیا ۔

اس موقع پر ڈاکٹر برقی اعظمی صاحب نے اِبنِ مفتی کی کتاب گلہائے صد رنگ کے بارے میں سامعین کو بتایا اور اسکی عالمی اہمیت اور انفرادیت کے بارے میں بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے اس موقع پر کتاب کا ، صاحبِ کتاب کا اور انجمن ِ تقدیسِ ادب کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ۔ اور کتاب میں شامل سبھی شعراء کے نام اور انکے دیوان ِ مختصر کے ناموں سے حاضرین کو روشناس کروایا۔

اسکے بعد سامعین کو کتاب کے اصل محرک مفتی صاحب کے پدرِ گرامی قدر استاد الااساتذہ جناب سید عبدالستار مفتی مرحوم کا ایک مکمل تعارف پیش کیا گیا ۔حاضرین ِ محفل نے ابنِ مفتی کی کتاب گلہائے صدرنگ کی ایک تاریخی کاوش قرار دیتے ہوئے بے حد سراہا ۔ اور اسے اردو کی نئی بستیوں میں فروغ کے عنوان سے تعبیر کیا ۔ شعری نشست ہونے کے باعث یہ تقریب تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی ۔ جس میں شہر کی ممتاز ادبی اور شعر و سخن سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔