بزم غزل کے زیر اہتمام بین الاقوامی آڈیو مشاعرہ کا اہتمام

Bazme Ghazal

Bazme Ghazal

پٹنہ (پریس ریلیز) بزم غزل کے زیر اہتمام واٹس ایپ پر شاندار بین الاقوامی آڈیو مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت ریاض میں مقیم معروف شاعرہ نور جمشید پوری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ترانۂ بہار کے خالق نوجوان شاعر ایم آر چشتی اور طیب فرقانی نے مشترکہ طور پر انجام دئیے

اس موقع پر پروفیسر اسرائیل رضا سابق صدر شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی نے معروف شاعر و ادیب زبیر رضوی کے انتقال پر تعزیتی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند دنوں میں اردو شعر و ادب کے کئی مشہور ہستیاں داغ مفارقت دے گئیں۔ ان عظیم شخصیات کا رخصت ہو جانا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی مستقبل قریب میں ممکن نظر نہیں آتی۔ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے شرکت کی ان کے اسمائے گرامی اور کلام کا نمونہ پیش خدمت ہے۔

نور جمشید پوری
آئو لگ جائیں گلے بھول کے شکوے سارے
بے سبب آپسی تکرار میں کیا رکھا ہے
احمد اشفاق
لوگ چہرہ چھپائے پھرتے ہیں
آئینہ جانے کس کے ہاتھ میں ہے
پروفیسر اسرائیل رضا
یادوں کے سب نقوش گہر بن کے رہ گئے
پاس حیا سے راز بتایا نہیں ہنوز
ڈاکٹر منصور خوشتر
اس کو لکھنا تھا کم نظر لیکن
ہائے عالی جناب لکھ بیٹھے
ایمان گونڈوی
اب خود ہی منتظر ہوں کہیں کھو گیا ہوں میں
وہ دن ہوا ہوئے کہ ترا انتظار تھا
ایم آر چشتی
مجھے احساس ہی کیا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے
میں قطرہ تھا یا دریا تھا بچھڑنے سے ذرا پہلے
ڈاکٹر مظفر بلخی
عرض وصال جو کیا اس نے جواب یہ دیا
تو ہے فریب خوردہ دل محور جاں کچھ اور ہے
کامران غنی صبا
ترک تعلقات میں کیسا مقام ہے صبا
میں ترے انتظار میں تو مرے انتظار میں
نصر بلخی
تمام شہر ہوا ہے تمہارے زیر نگیں
تم اپنے ساتھ یہ کیسا شباب رکھتے ہو
چونچ گیاوی
آج کے نیتا کو دیکھا ہے بارہا ائے چونچ
دیکھتے دیکھتے سرکار گرا دیتے ہیں
ریاض شاہد
ہماری آنکھ سے آنسو چھلکنے لگتے ہیں
خطائے دل یہ ترے شاخسانے لگتے ہیں
اصغر شمیم
جو مکیں تھے شہر کے سب اپنے گھر میں چھپ گئے
کیا کوئی فتنہ جگا ہے کچھ نہ کچھ تو بات ہے
منصور قاسمی
راہ حق پہ جان و دل سے ہم کو چلنا چاہئے
دشمن اسلام سے ہرگز نہ ڈرنا چاہئے
نذر نیاز فاطمی
بنے رہو گے مرے ساتھ ہی سدا کے لئے
یہ بات جھوٹ سہی بول دو خدا کے لئے
جہانگیر نایاب
اپنے جہاں میں مست ہیں اس دور میں سبھی
فرصت کسے یہاں جو کوئی ٹوٹ کر ملے
انعام عازمی
ایک عجیب بے چینی میرے دل میں رہتی ہے
وقت کی ہتھیلی پہ حادثہ لکھا ہے کیا
یوسف جمیل
کھانا لے کر آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منھ میں نوالے پڑ گئے
مرغوب اثر فاطمی کی نظم ” ہے خبر گرم” بھی بہت پسند کی گئی۔ نور جمشیدپوری کے صدارتی کلمات اور ایم آر چشتی کے شکریہ کے ساتھ یہ خوب صورت مشاعرہ ختم ہوا۔