بزم غزل کے زیر اہتمام شاندار بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کا اہتمام

Mushaira

Mushaira

پٹنہ (کامران غنی) جدید طرز کے آن لائن انٹرنیشنل مشاعروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ادبی فورم ‘بزم غزل’ کے زیر اہتمام گزشتہ شب ایک شاندار بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت پروفیسر اسرائیل رضا، سابق صدر شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ معروف شاعر ایم آر چشتی نے انجام دیا۔بسمل عظیم آبادی کی مشہور غزل ” سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے” کے اسی مصرعہ پر شعرائے کرام نے طبع آزمائی کی ۔ ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے شعرا و شاعرات مشاعرہ میں شامل ہوئے اور اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ کثیر تعداد میں باذوق ناظرین بھی مشاعرہ میں شامل تھے۔

اس مشاعرہ میں جن شعرا و شاعرات نے اپنے کلام پیش کئے ان میں رضوان احمد دربھنگوی، پنکج کرن، ایم رضا مفتی، مظہر وسطوی، انعام عازمی، نصر بلخی، جمیل اختر شفیق، چاندنی پانڈے، منصور قاسمی، احمد عثمانی ، اصغر شمیم، کامران غنی صبا، ڈاکٹر منصور خوشتر، ایم آر چشتی، احمد اشفاق، امجد علی سرور اور پروفیسر اسرائیل رضا کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ مشاعرہ کے لیے کثیر تعداد میں بیرونی شعرائے کرام نے بھی اپنی تخلیقات ارسال کی تھیں۔ ان میں رمیش کنول، بشر رحیمی، جمال کاکوی، عطاء الرحمن عطا، منور راہی، حیدر وارثی، تنویر پھول، سید منظر زیدی اور پروفیسر عبد المنان طرزی کے نام قابل ذکر ہیں۔ اختتام سے قبل صدر مشاعرہ پروفیسر اسرائیل رضا نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے کامیاب مشاعرہ کے انعقاد پر منتظمین مشاعرہ کو مبارکباد پیش کی۔

انھوں نے کہا کہ منتظمین بزم غزل کے خلوص اور محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک ماہ کے قلیل عرصہ میں ‘بزم غزل’ کی مقبولیت اتنے بلند و بالا گراف پر پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے احمد اشفاق، ڈاکٹر منصور خوشتر، ایم آر چشتی اور کامران غنی صبا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اتنے پر ہی مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا ہے بلکہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس عہد میں شعر و سخن کے بحر ذخار میں غواصی کرتے ہوئے اردو کی نئی نئی دنیائوں میں بھی زور دار اور اثر دار دستک دینی ہے۔ صدارتی کلمات اور شکریہ کے ساتھ مشاعرہ کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

واضح رہے کہ ‘بزم غزل’ کے زیر اہتمام 3 اکتوبر 2015 کو ایک موضوعاتی مشاعرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس مشاعرہ کے لیے ”بیٹی” کا عنوان منتخب کیا گیا ہے۔ شعرائے کرام سے التماس ہے کہ وہ ‘بیٹی’ کے عنوان سے اپنی نظم اس ماہ کے آخر تک منتظمین مشاعرہ کو اپنے تعارف اور تصویر کے ساتھ ارسال فرما دیں۔ قارئین کی خدمت میں طرحی مشاعرہ میں پیش کئے گئے کلام کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے:

رضوان احمد دربھنگوی
دشمنوں کی ہے نظر اب بھی ہمارے ملک پر
سامنے آئے مگر ہمت کہاں بزدل میں ہے
رمیش کنول
تم ادب سے سر جھکائو، پیش اپنا دل کرو
دیکھو کیا عزم جواں، کیا بانکپن قاتل میں ہے
منور راہی
نیند کیوں آتی نہیں بے چین ہوں میں اس قدر
ائے خدا! ہمسایہ کیا کوئی مرا مشکل میں ہے
ایم رضا مفتی
مسلک و مذہب کے جھگڑے عام ہیں کچھ اس قدر
باپ کو بیٹا بتاتا ہے کہ تو باطل میں ہے
انعام عازمی
کس کو اپنا دوست مانوں ، کس کو میں دشمن کہوں
ایک ہی خوبی مرے ہمدرد اور قاتل میں ہے
جمال کاکوی
ہم جفا کش کے لئے راحت پیام موت ہے
زندگانی کا مزہ تو وادیٔ مشکل میں ہے
مظہر وسطوی
جذبۂ انسانیت باقی کہاں ہر دل میں ہے
اس لئے تو آج کا ہر آدمی مشکل میں ہے
بشر رحیمی
ڈوبنا بحر وفا میں زیست کی معراج ہے
یہ تو سب ہی جانتے ہیں عافیت ساحل میں ہے
تنویر پھول
دین و دنیا کی بھلائی ہے بس ان کا اتباع
زندگی کا درس شہ کے اسوئہ کامل میں ہے
عطاء الرحمن عطا
اتنی نفرت ہم سے کیوں کرنے لگا ہے ہر کوئی
تم بتائو کیا ہمارا نام ہی قاتل میں ہے
منصور قاسمی
سانحہ اس شہر میں شاید کوئی ہونے کو ہے
آج کل غم خوارِ ملت صحبت قاتل میں ہے
منصور خوشتر
قاتلِ سفاک! خنجر ہی سے اپنے پوچھ لے
جو کہانی قطرئہ خونِ دل بسمل میں ہے
سید منظر زیدی
دشمنی رکھتے تھے جو وہ سب کنارہ کش ہوئے
دوست ہی میرا ستم ایجادکی محفل میں ہے
نصر بلخی
اس قدر مہر و محبت لمحہ لمحہ التفات
میں عجب الجھن میں ہوں کیا کیا تمہارے دل میں ہے
منظر صدیقی
غم پہ غم کی بارشوں سے دل بڑی مشکل میں ہے
وقت کا سورج نہ جانے آج کس منزل میں ہے
اصغر شمیم
غیر کی محفل میں مجھ کو ڈھونڈنے مت جائیے
میرا چرچا ان دنوں تو آپ کی محفل میں ہے
کامران غنی صبا
چیخ کر کہتی ہے مقتل میں مری زنجیر پا
‘سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے’
ایم آر چشتی
ہو گئی تقسیم دو حصے میں میری زندگی
کوئی میرے روبرو ہے کوئی میرے دل میں ہے
حیدر وارثی
ہاتھ میں ہے پھر حکومت ظالموں کے وارثی
‘سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے’
احمد اشفاق
کاوشِ منصور و چشتی کامیاب و کامراں
کہکشاں علم و ادب کی آج اس محفل میں ہے
عبدالمنان طرزی
بیچ دریا میں تو مانگی تو کنارے کی دعا
وائے قسمت! اک تلاطم سینۂ ساحل میں ہے
اسرائیل رضا
کل تلک تو ڈوبتی تھیں کشتیاں مجدھار میں
حیف! یہ کشتی رضا اب ڈوبتی ساحل میں ہے