عالمی تنظیم برائے حیاتیاتی صحت کا دیہی علاقوں سے غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔ حیات خان بوسن

Sikandar Hayat Khan Bosan

Sikandar Hayat Khan Bosan

پیرس (پریس ریلیز) پاکستان جانوروں کی بیماریوں کے کنٹرول اور غربت کے خاتمے کیلئے عالمی تنظیم برائے جانوروں کی صحت کے ساتھ اپنی شراکت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

یہ بات جناب سکندر حیات خان بوسن وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ، سکیورٹی و ریسرچ نے او آئی ای کے 85 جنرل سیشن جو کہ آج پیرس میں منعقد ہوا میں اپنی تقریر کے دوران کہی۔ اس تقریب میں 180 ممالک کے مندوبین کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے مبصرین نے بھی شرکت کی۔

ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جانوروں کی صحت کیلئے عالمی تنظیم کا کردار خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں دیہی سماجی و اقتصادی ترقی، خوراک کے تحفظ اور غربت کے خاتمے کیلئے بہت ہم ہے۔

پاکستان کی اقتصادی اور معاشی ترقی میں جانوروں کی صحت اور انکی مناسب دیکھ بھال بہت اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 80 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کی آمدنی کا دارومدار جانوروں سے متعلق کاروبار سے ہے۔

انہوں نے پاکستان میں حیاتیات کو درپیش خطرناک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جانوروں کو لاحق بیماریوں پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے او آئی ای کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ او آئی ای ترقی پذیر ملکوں میں جانوروں کو درپیش صحت کے مسائل سے نمٹنے کیلئے بیش قیمت مدد فراہم کر رہی ہے۔

جناب وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے کامیابی سے Rinderpest کی بیماری پر 2007 میں قابو پالیا تھا۔ جبکہ ملک سے برڈ فلو کا خاتمہ 2008 میں کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے قومی پروگرام پر عمل درآمد کررہا ہے جس کے تحت جانوروں میں کھروں اور منہ کی بیماریوں سے نجات دلانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ عالمی ادارہ براوے صحت حیاتیات، ترقی پذیر ملکوں میں رہنما اصول مرتب کرے گا۔ تاکہ جانوروں کو درپیش بیماریوں سے سائنسی بنیادوں پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے صحت حیاتیات کے چار روزہ اجلاس کے موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین ادارہ کے اجلاس کے ذریعے سے مختلف ملکوں میں جانوروں کی صحت کے بارے میں معیار کو بہتر کریں گے تاکہ جانوروں کے سلسلے میں بیماریوں پر قابو پانے کے طریقوں کو بہتر بنیا جاسکے اور جانوروں کی بین الاقوامی تجارت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔