یونانی حکومت نے تین مساجد کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کر لیا

Zahid Mustafa Awan

Zahid Mustafa Awan

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) یونانی حکومت نے ایتھنز کے تین مختلف علاقہ جات میں واقع تین مساجد کو اگلے سال موسم گرما میں باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کرلیاہے۔

ایک یونانی جریدے کاتھے مرینی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ ایتھنز کے مختلف علاقہ جات میں واقع تین مساجد کو بطور عبادت گاہ کادرجہ دینے کافیصلہ کیاہے جس کے بعد اگلے سال موسم گرمامیں ان کو مسجد کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ تینون مساجد میں ایک مسجد پاکستانی تارکین وطن کی ہے جو ایتھنز کے مغربی علاقے میں واقع ہے جبکہ دیگر دومساجد میں ایک ایتھنز کے مرکز کے قریب وکٹوریہ میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کی مسجد حمزہ جبکہ تیسری مسجد ایتھنز کی بندرگاہ کے علاقہ پیریامیں یونانی مسلمانوں کی ہے۔

تینوں مساجد نے قانونی درجہ کے لیے یونانی آئین کے مطابق درخواست کی تھی جس کو یونانی حکومت نے منظور کرلیاہے۔ایتھنز رہنے والے پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے مسلمان تارکین وطن کی درجنوں مساجد جن کو عمارتوں کے تہہ خانوں میں بنایاگیاہے جن کیے اسلامک مراکزیا لائبریری کے اجازت نامے حاصل کرکے ان کو بطور عبادت گاہ استعمال کیاجاتاہے۔

جبکہ ایتھنز میں باقاعدہ مسجد بنانے کے لیے تمام ترقانونی رکاوٹیں دور کردی گئی تھی تاہم کسی تعمیراتی کمپنی نے مسجدکی تعمیر کے لیے ٹینڈر نہیں دیے حکومت کی جانب سے تین مرتبہ کی کوششوں کے بعد تعمیراتی کمپنیاں تعمیر کے لیے مائل ہوسکی۔

تعمیراتی کمپنیوں کاکہناہے کہوہ مسجد کی تعمیر میں اس لیے دل چسپی نہیں لے رہی کیونکہ ان یونانی عوام کی جانب سے سخت رد عمل کا خدشہ ہے ۔یادرہے تمام تر مراحل ہونے کے باوجود بھی مسجد کی تعمیر تاحال شروع نہیں ہوسکی۔