حاجی پور میں چار کتابوں کا اجرا

Hajipur

Hajipur

حاجی پور: حاجی پور 21 فروری دانشوران علم و ادب کے ایک باوقار اجتماع میں اتوار کو یہاں انجمن اصلاح المسلمین کے وسیع و عریض ہال میں چار کتابوں کی رسم اجرا ادا کی گئی۔ پروفیسر ثوبان فاروقی نے ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کی ترتیب کردہ کتاب ”ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ایک شخص ایک کارواں ”،مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کے پروفیسر توقیر عالم نے کاروان ادب کے جنرل سکریٹری انوار الحسن وسطوی کی کتاب ”نقوش قلم” ، جے پرکاش یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر نبی حسن نے نائب ناظم امارت شرعیہ اور ‘نقیب ‘ کے ایڈیٹرمفتی ثناء الہدی قاسمی اور ڈاکٹر ممتاز احمد خاں نے ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ”ذوق ادب” کی رسم اجرا ادا کی۔ تقریب کی صدارت پروفیسر ثوبان فاروقی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے انجام دئیے۔

اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر ثوبان فاروقی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اردو کتابوں کی اشاعت تو ہو رہی ہے لیکن اردو کی اشاعت میں ہم کوتاہی برت رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اردو کو ان دنوں زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے گھروں میں اردو اخبارات کی جگہ ہندی اخبارات خریدے جا رہے ہیں اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر توقیر عالم نے کہا کہ ویشالی وہ سرزمین ہے جہاں سے پوری دنیا کو جمہوریت کا پہلا سبق ملا۔ یہاں اردو بھی پھل پھول رہی ہے اور یہاں اردو کے کچھ دیوانے ایسے ہیں جنہوں نے بڑی مضبوطی کے ساتھ اردو کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ پروفیسر انیس صدری نے کہا کہ انوار الحسن وسطوی اور مشتاق احمد مشتاق اردو کی مسلسل خدمت کر رہے ہیں اور ویشالی اردو کا ایک مضبوط مرکز ہے۔ جئے پرکاش یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر نبی احمد نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ آج نئی نسل اردو کو گلے لگا رہی ہے اور اردو شعر و ادب میں دلچسپی لے رہی ہے۔

اس موقع پرنائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی،اورینٹل کالج پٹنہ سیٹی کے پرنسپل ڈاکٹر سید شاہ مسعود الرحمن ، بی آر اے بہار یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ممتاز احمد خاں، اردو کونسل کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاودواں،دانش مرکز کے جنرل سکریٹری قوس صدیقی اور حسیب الرحمن راہی اور دربھنگہ ٹائمز کے مدیر اور جواں سال شاعر ڈاکٹر منصور خوشتر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے قبل بزرگ شاعر پروفیسر عبد المنان طرزی نے مفتی ثناء الہدی قاسمی اور انوار الحسن وسطوی کی کتابوں پر منظوم تبصرہ پیش کیا جبکہ اردو کونسل ہند ویشالی کے جنرل سکریٹری سید مصباح الدین احمد نے ”ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ایک شخص ایک کارواں”، بہار یونیورسٹی مظفر پور کے ریسر چ اسکالر لطیف احمد خاں نے ”ذوق ادب ”، اسی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عارف حسن وسطوی نے حرف آگہی پر اور پٹنہ یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر کامران غنی صبانے ”نقوش قلم” پر اپنے مقالے پیش کیے۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اس موقع پر جواں سال شاعر مظہر وسطوی نے اپنی مترنم آواز میں ایک خوب صورت نظم ”اردو زبان” پیش کی جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کے شکریہ پر تقریب ختم ہوئی۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا اہتمام کسی ادارے، انجمن یا تنظیم کی طرف سے نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا اہتمام انفرادی طور پر انوار الحسن وسطوی اور ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق نے کیا تھا۔تقریب میں جن اہم شخصیتوں نے شرکت نے کی ان میں پروفیسر واعظ الحق، ماسٹر علیم الدین انصاری،انظار الحسن، ایس ایم مظہر،حاجی محمد جنید، محمد یونس،حاجی محمد ابو صالح، ایس ایم طیب، بدر محمدی، نسیم الدین احمد صدیقی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔