انسانیت بلاٹنگ پیپر

Blotting Paper

Blotting Paper

تحریر: شاہ بانو میر
سکول میں ہمیں ہولڈر سے لکھوایا جاتا تھا اس کے آگے نب لگا کر ہمارے ڈیسک پر ہی کارنر میں انک پاٹ چھوٹا سا بنا ہوا تھا جس میں انک ڈال کر ہم لکھتے تھے ہولڈڑ سے تحرری قلم کی طرح بہتر لکھی جاتی ہے اس لیے ابتدائی کلاسسز میں ہمیں اس سے لکھھوایا جاتا تھا اس کی موٹی سی تحریر اور نیلے رنگ کی چمکتی ہوئی گلیلی سیاہی کو فوری طور پے پھیلنے سے بچانے اور تحریر خراب ہونے سے بچانے کیلئے اس کے اوپر ہم سب بلاٹنگ پیپر رکھ دیتے تھے اور لمحہ بھر میں فالتو سیاہی بلماٹنگ پیپر جذب کر کے پنک سے بلیو ہو جاتا اور ہم آسانی سے صفحہ ٹرن کرتے ہوئے اگلے صفحے پر باقی ماندہ کام جلدی سے کر لیتے۔

اگر بلاٹنگ پیپر کی سہولت نہ ہو تو نجانے ہمیں کتنا وقت لگتا اس کے خسک ہونے کے انتظار میں ٹیچر کا پیریڈ ختم اور ہمارا کام ادھورا سانحہ یرس انسانیت سوز مظالم کی جیتی جاگتی تصویر اس کے رد عمل پر فرانس می مقیم تارکین وطن خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے سے کسی بھی ملک سے ہو سب کے دل افسردہ رنجیدہ اور اداس ہٰیں سوشل میڈیا پر دیکھ کر یکجہتی کا گلوبل ویلج ہونے کا احساس بڑہتا ہے جب ہر قومیت کا حساس انسان اس سے متاثر اور اداس نظر آتا ہے لیکندوسرا نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ آخر پیرس کے لئے اتنی اداسی کیوں؟۔

Humanity Blotting Paper

Humanity Blotting Paper

یہ تمام مناظر اور ایسے معاملات تو ہم دو دہائیوں سے مسلم دنیا کے میڈیا پر دیکھ رہے ہیں تو میرا ناقص خیال ہے کہ کہیں بھی ایسا حادثہ ہو جہاں خواتین معصوم شہری بے قصور بچے مارے جائیں وہ انسانیت کو لرزا کر تڑپا دیتا ہے اور انسان جسے اللہ پاک نے دنیا میں بھلائی امن ہدایت کیلئے بھیجا اوہ اپنا مقصد فوت کر دیتا ہے اگر اس کو کسی بھی ایسی ابتلاء میں دکھ نہ ہو انسانیت مذہب سے بالاتر ایک بلاٹنگ پیپر ہے جو کسی بھی سانحے کا شکار ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہمدردی ظاہر کر کے ایک بلاٹنگ پیپر کی طرح ان کے دکھ کو جذب کر کے ان میں کمی لاتے ہیں۔

اس کے علاوہ مسلم دنیا کشمیر سمیت تمام ظلم و ستم کی داستانوں میں ہمارے اپنے رہنما سیاسی مفادات کی بھینٹ اپنی عوام کوچڑہاتے ہیں جبکہ پیرس میں ہر کمیونٹی کا برملا خود کو فرانس حکومت کے ساتھ کھڑا کرنا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ یہاں تارکین وطن کو کوئی ایسی نسلی تصعب پرستی کا مذہبی پابندی کا سامنا نہیں ہے۔

Blood Donation

Blood Donation

جو انہیں اس موقعہ پر خاموش کرے بلکہ حکومت پر نظام پر اطمینان کی وجہ سے آج ہر پاکستانی بڑھ چڑھ کر نہ صرف خون کا عطیہ دے رہا ہے بلکہ اس افسوسناک واقعے کو تاریخی ظلم قرار دے رہا ہے اس وقت صرف ایک محرک ہے وہ ہے انسانیت اور یہ ایک بلاٹنگ پیپر ہے جس کی اس وقت صرف فرانس میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس ملک میں اشد ضرورت ہے۔

جہان جہاں دہشت گردی کا تاریک سورج چمکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے پاکستانیو!! آپ پر فخر ہے آپ نے انسانیت کا اعلیٍ ثبوت دے کر اپنے دین کا ملک کا نام روشن کیا ہے انسانیت کا مظاہرہ جذب کر رہا ہے ساری کدورت کو ساری نفرت کو سارے تعصبات کو انسانیت ہمیشہ ہی بلاٹنگ پیپر ہے کوئی سمجھے تو ؟؟؟؟۔

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر: شاہ بانو میر