بھارتی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر پابندی لگانا باعث تشویش ہے۔ ڈاکٹر سجاد کریم

Dr. Sajjad Karim

Dr. Sajjad Karim

نیلسن (پ ر) یورپی پارلیمنٹ فرینڈز آف پاکستان گروپ کے چئیرمین نارتھ ویسٹ سے رکن یورپین پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد کریم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی سوشل میڈیا اور موبائل انٹرنیٹ پر پابندی پر یورپی پارلیمنٹ میں یورپی یونین کی پہیم خاموشی پر سوال اٹھا دیا ہے پچھلے ایک ماہ سے بھارت نے بائیس عدد سوشل میڈیا سائٹس، میسجنگ ایپس، بشمول ٹویٹر، واٹس ایپ اور فیس بک ، تھری جی اور فور جی کنکشنزپر ایک ماہ سے پابندی لگا رکھی ہے بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا کو ریاست و سماج مخالف عناصر کی جانب سے غلط طور پر استعمال کئے جانے کی بنیاد پر پابندی ناگزیر ہے اقوام متحدی کی جانب سے اظہار رائے پر پابندی کے مترادف قرار دیتے ہوئے بھارتی سرکار کو متنبہ کی جا چکا ہے اور پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر سجاد کریم نے یورپی یونین کے ارباب بست و کشاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پابندی کا نوٹس لینے کے باوجود یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس (ای ای اے ایس) یورپی یونین کا سفارتی ڈیپارٹمنٹ کی خاموشی کے کیا معنی اخذ کئے جائیں ؟ سجاد کریم جو ای یو انڈیا فریی ٹریڈ ایگریمنٹ کے رپوتاژ بھی ہیں پارلیمنٹ کے فلور پر انسانی حقوق کے موضوع پربات کرتے ہوئے یورپی یونین کی اس اہم معاملے پر عدم دلچسپی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیرمیں اس آزادی رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق پرشب خون مارے جانے کے باوجود پورلیمنٹ کی امور خارجہ کی سربراہ نے تا حال خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور آزادی رائے کے حق کو سلب کرنے جس کی دنیا میں مثال کم ہی ملتی ہے لیکن ہماری امور خارجہ کی انچارج اب تک بھارتی حکومت کو یورپی یونین کی تشویش سے آگاہ کرنے میں کیوں ناکام ہوئی ہیں۔

اگر اقوام متحدہ کی جانب سے اس کا نوٹس سختی سے لیا جا سکتا ہے تو ہم اب تک کیوں خاموش ہیں ؟ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر پابندی لگا نااپنی جگہ باعث تشویش ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورت حال یورپی یونین کا اس پابندی سے صرف نظر کرنا ہے اور انہیں امید ہے کہ کمشنر مغرینی معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے مغربی جمہوری انداز فکر اور تشویش سے بھارتی حکومت کو آگاہ کریں گی تاکہ بھارت اس پابندی کو جلد از جلد ختم کرے اور اظہار رائے کی آزادی پر حرف نہ آئے۔