یوم اقبال پر بزم غزل کی طرف سے بین الاقوامی طرحی مشاعرہ

Bazm Ghazal

Bazm Ghazal

کسی کا نام کہانی میں آنے والا تھا
سو ہم کہانی کا اب اختتام کرتے ہیں
پٹنہ (پریس ریلیز) یوم اقبال کے موقع پر بزم غزل کی طرف سے آن لائن بین الاقوامی طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرہ کی صدارت بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے فرمائی جبکہ نظامت کا فریضہ کامران غنی صبا اور انعام عازمی نے انجام دیا۔ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے شرکت فرمائی ان کے اسمائے گرامی ہیں مشتاق احمد نوری، احمد کمال حشمی، مرغوب اثر فاطمی، خورشید الحسن نیر،ڈاکٹر اسرائیل رضا، ایم آر چشتی، نور جمشید پوری، ، کاظم رضا،نصر بلخی، اصغر شمیم،نیاز نذر فاطمی، ڈاکٹر آفتاب مجاہد، کامران غنی صبا، جہانگیر نایاب، بشر رحیمی، منصور اعظمی، سراج عالم زخمی، انعام عازمی، جمیل ارشد خان،سرفراز الہدی قیصر، امام قاسم ساقی، نظر السلام فاتح۔مشاعرہ میں پیش کیے گئے کلام کا منتخب حصہ پیش خدمت ہے:
مشتاق احمد نوری
مجھے خبر بھی نہیں ہے کہ ایک مدت سے
وہ میرے خانۂ دل میں قیام کرتے ہیں
مرغوب اثر فاطمی
آ رہی ہے کس طرح کی روشنی
تیرگی کو بھی کوئی خفت نہیں
احمد کمال حشمی
کسی کا نام کہانی میں آنے والا تھا
سو ہم کہانی کا اب اختتام کرتے ہیں
خورشید الحسن نیر
وجود اپنا فنا سے بقا میں جاتا ہے
سو بڑھ کے دار و رسن کو سلام کرتے ہیں
ڈاکٹر اسرائیل رضا
مصیبتوں میں جو نظریں چرائے پھرتے تھے
پڑی جو خود پہ تو ہنس کر کلام کرتے ہیں
ایم آر چشتی
سنا ہے چاند سے آگے بھی ایک دنیا ہے
وہیں پہ بسنے کا اب انتظام کرتے ہیں
نیاز نذر فاطمی
رات تک ہم پانچ سو کے نوٹ تھے
صبح کو اٹھے تو کچھ قیمت نہیں
کامران غنی صبا
منافقت نہیں آتی سو رنجشوں کے بعد
تعلقات کا ہم اختتام کرتے ہیں
کاظم رضا
چراغ جس میں غریبوں کا خون جلتا ہو
ہم اس کی روشنی خود پر حرام کرتے ہیں
اصغر شمیم
خواب کے اندر بھی ہے اک خواب سا
کتنے دیکھوں خواب میں، فرصت نہیں
نور جمشید پوری
نہیں ہے خوف ہمیں راہ سے بھٹکنے کا
کہ ہم اصولوں کو اپنے امام کرتے ہیں
نصر بلخی
انہی کی شہ پہ جلایا گیا شہرِ وفا
جو بات کرتے ہوئے رام رام کرتے ہیں
ڈاکٹر آفتاب مجاہد
میں جہاں میں اور کیا دیکھوں بھلا
آپ ہی کی دید سے فرصت نہیں
منصور اعظمی
ایسی تقریروں سے کیا حاصل جناب
حق بیانی کی اگر ہمت نہیں
انعام عازمی
رسول عشق پہ ایمان ہم نے لایا ہے
سو دشمنوں کا بھی ہم احترام کرتے ہیں
بشر رحیمی
اتنے بے حس ہو گئے ہیں ہم یہاں
سچ کو سچ کہنے کی ہمت بھی نہیں
جہانگیر نایاب
تم ملے انمول تحفہ مل گیا
اور کسی بھی چیز کی حاجت نہیں
جمیل ارشد خان
کہاں سکوت ہے گھر میں ترے بغیر کہ ہم
مکاں کے بام سے ، در سے کلام کرتے ہیں
سرفراز الہدی قیصر
ہستیٔ موہوم پر نازاں ہیں جو
خود ستائی سے انہیں فرصت نہیں