خواب سے تعبیر تک (ولید اقبال)

Iqbal Day

Iqbal Day

تحریر : شاہ بانو میر
9 نومبر ولادت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا دن ـ نئی نسل کچھ سال بعد یہ سوال اتھائے گی جب 9 نومبر میں کہیں کہیں وہ اس نام کو سنیں گے ـ کہ یہ کون تھے؟ یہ وقت وہ ہوگا جب ذہنی غلامی اس قدر عام ہوگی کہ نصاب کتب پر اغیار کی اس قدر اجارہ داری ہے کہ شائد علامہ اقبال اور ان کا کلام ان کا فلسفہ شاہین دینی کتب کی طرح فرسودہ سمجھ کر بھلا دی جائیں گی ـ تب شائد کوئی گھر کا بڑا انہیں بتائے گا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال وہ تھے جن کی سوچ نے پاکستان کا قیام ممکن بنایا ـ افسوس کہ ہم ایسے ہی بنتے جا رہے ہیں اسلاف کی قربانیوں کو خدمات کو بھلا کر جینے والے ـ اسی لئے تو آج ملک کا اس کے نظام کا حکمرانوں کا برا حال ہے ہم نے قدر اور شکر ادا کرنا چھوڑ دیا اپنے محسنوں کو بھلا دیا ـ قیام پاکستان سے پہلے ملک کا آزادی کا ناممکن تصور تھا جو علامہ اقبال نے بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کیلئے اپنی شاعری سے ممکن بنایا ـ پھر بیدار ہوئے مسلمانوں نے قائد کے ساتھ مل کر دنیا کا نقشہ بدلا اور ایک اور ناممکن کو ممکن پاکستان کی صورت بنایاـ

قیام پاکستان مشروط ہے اقبال کی شاعری سے ان کا شاعرانہ انقلابی انداز اور کلام لوگوں کا لہو گرماتا ٬ ان کے کلام کو لوگ گروہ در گروہ سننے آتے تھے ـ جو شعور انہیں مدرسوں سے نہیں حاصل ہوا تھاوہ انہیں کچھ منٹ کا کلام دیتا ـ در حقیقت اللہ پاک نے جس کو زندہ رکھنا ہو اسے اپنی کتاب کا شعور عطا کرتے ہیں ـ انہی خوش نصیبوں میں ایک علامہ اقبال بھی ہیں جن کو معرفت الہیٰ قرآن پاک سے شاعری کی صورت نصیب ہوئی اور وہ جاوداں ہوگئے ـ علامہ اقبال با وضو ہوتے اور قرآن پاک کو کہیں سے بھی کھولتے سامنے جو آیات مقدر ہوتیں انہیں اپنے تئیں بہترین خوشنما الفاظ میں ڈھال دیتے ـ وہ کلام جب ایک ان پڑھ سادہ لوح انسان سنتا تو مشکل الفاظ کی بندشوں کے باوجود وہ اسے اپنی روح میں سرایت کرتا ہوا محسوس کرتا ـ یوں اقبال کی شاعری نے قیام پاکستان کے حصول کیلئے غیرت کو جگایا سوچ کو غیور بنایا ـ پاکستان ان کی سوچ میں تھا اور وہ ایک سوئے ہوئے مسلمان کو مسلسل جگا رہے تھے ـ اس کی اسلامی روشن تاریخ اور اللہ کے کلام سے اس کی خوابیدہ زندگی کو متحرک کر ہے تھے۔

Freedom

Freedom

وہ سوچتے تھے کہ ہندو اور مسلم دو الگ متضاد معاشرتی کردار ہیں جن کو آزادی ہونی چاہیے کہ اپنے دین پر عمل پیرا ہو سکیں ـ ان کا مزاج ان کا انداز مکمل طور سے ہندوں سے الگ ہے لہٰذا اس مسلمان کو جبر میں صبر نہیں کرنا بلکہ جرآت ہمت سے اللہ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے اپنے لئے کوشش کرنی ہے اور اپنےلئے الگ زمین کا ٹکڑا حاصل کر کے دینی دنیاوی زندگی گزارنی چاہیے جس ملک میں مکمل ضابطہ حیات القرآن کے مطابق نظام سلطنت اور معاشرت قائم ہو ـ یہ سوچ یہ فلسفہ ان کی شاعری کی روح ہے پھر سارے جہان سے اچھا ہندوستان ہمارا جیسی نظم کیوں لکھی؟ یکم نومبر 2016 کو اقبال کے پوتے نامور قانونی ماہر ولید اقبال کو پولیس نے بنی گالہ کے باہر جب بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا تو نجانے کیوں مجھے اقبال کی اس نظم کی بازگشت بار بار کانوں میں سنائی دی جیسے سرگوشی “” شکوہ جواب شکوہ”” سنائی دے رہا ہو کہ میں جانتا تھا کہ اس ملک میں میرے بچوں کے ساتھ یہی کچھ ہوگا ـ ذرا نگاہ دوڑاؤ بھارت میں اگر میرا خاندان ہوتا سوچو جو لوگ میری ایک نظم کواتنا مقام دیتے ہیں تو میرے بچوں کو وہ کیسے سر آنکھوں پر بٹھاتے۔

اسی سوچ نے ان سے یہ نظم لکھوائی ہندوستان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس نظم کی صورت مسلمانوں کیلئے ایک”” چِڑ “” کیوں چھوڑ گئے ـ شائد یہ ہوگا وہ جانتے تھے ؟ نجانے کیوں مجھے یہی خیال آیا کہ علامہ کا وجدان انہیں سمجھا گیا تھا کہ ان کیلئے پاکستان جیسی بہشت لے بھی لی جائے تب بھی یہ ناشکرے لوگ مانیں گے نہیں کہ اس ملک کی بنیاد میں ان کا کتنا بڑا ہاتھ ہے ـ رہی سہی کسر آج کے جدید نصاب نے تمام اکابرین کو کتابوں سے نکال کر بین القوامی نظریہ ضرورت کے تحت شخصیات کو پیش کرنا شروع کر دیا ـ ہم اپنے محسنوں کو بھولتے جا رہے اور ان کے فلسفہ کوبھی کیونکہ نصابی کتب میں ان کا ذکر ہی نہیں ملتا شائد اغیار کا منصوبہ ہے کہ پاکستانی بچے اقبال نہ پڑہیں تا کہ ان میں عقابی روح بیدار نہ ہو اور نہ وہ شاہین بن کر اس سڑے گلے نظام کے خلاف اٹھیں ـ غلامی سے نجات جیسا اقبال کا پیغام اس دور میں فوت ہوتا جا رہا ہے ـ گلوبل ویلج نے غلامانہ سوچ کو تقویت دے کر مسلمان کی منفرد شناخت “” خودی “”کو ختم کر دیا۔

Allama Iqbal

Allama Iqbal

مگر آج اس سبق کی تکمیل کیلیے اقبال کے پوتے ولید اقبال آگئے اقبال کی تعلیمات کو فلسفہ شاہین اور خودی کو لے کر ـ اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان جو اقبال کا نام ذاتی زندگی کی کامیابیاں شارٹ کٹ سے حاصل کرنے کیلئے کبھی استعمال نہیں کرتے بلکہ خاندانی شناخت کیلئے مخصوص رکھتے ہیں ـ ذاتی محنت پر پختہ یقین رکھتے ہیں ـ “”خون اقبال “” کہ رہا تھا کہ اب اس ملک کی تباہی میں کوئی کسر باقی نہیں ہے جمود توڑو اور عملی طور پے دادا کے خواب کیلئے تعبیر دینے کیلئے کچھ کرو ـ اسی لئے سیاست میں آئے کیسے اور کس کے ساتھ ؟ یہ مشکل سوچ تھی جسے عمران خان نے آسان کر دیا اور ان کیلئے فیصلہ بہت آسان ہوگیا ـ نظام کو بدلنا ہے اسی سوچ کے ساتھ تحریک انصاف کا چناؤ کیاـ مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دینے بنی گالہ پہنچے مگر دنیا بھر میں شائد صدمے سے زبان کو گنگ کر دیا ہو جب عظیم شاعر کی خدمات کا ثمر ان کے پوتے کو سر عام گھسیٹتے ہوئے دیکھا ہو۔

جو اعلان تھا نیا پاکستان بن کے رہے گا اپنے دادا کے خواب کی مکمل تعبیر حاصل کر کے دم لیں گے ـعمران خان کی سوچ کی سچائی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا؟ کہ ماضی کے تاریخی کرداروں کی اگلی نسل نئی تاریخ بنانے کیلئے بزرگوں کی طرح آج پھر ڈٹ گئ ہے ـ ظلم کے خلاف جبر کے خلاف اور سادہ لوح انسان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کل علامہ کے ساتھ قائد اعظم تھے خواب دیکھنے والا 1937 میں تہہ زمین چلا گیا اور تعبیر 1947 میں قائد اعظم دلواتے ہیں ـ آج اقبال کا خواب پھر سے ولید اقبال کی صورت متحرک ہے ان کے ساتھ عمران خان ہے نیا پاکستان تو بن کے رہے گا انشاءاللہ یقین خود بخود مستحکم ہو جاتا ہے کرپشن سے ۔پاک پاکستان بن کے رہے گا انشاءاللہ۔

Shah Bano Mir Adab Academy

Shah Bano Mir Adab Academy

تحریر : شاہ بانو میر