ایران اور سعودی عرب تنازعہ اغیار کی سازش

Iran, Saudi Arabia, Conflict

Iran, Saudi Arabia, Conflict

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
آج ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازعہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوجارہاہے اَب اگر اُمتِ مسلمہ نے اپنے دونوں برادر ممالک کے تنازعہ کو حل کرنے میں اپنا اپنا تعمیر ی کردار ادا کرنے میں دیر کی اور ایرا ن و سعودی عرب تنازعہ کسی دوسرے رخ میں چلا گیا تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ” ایران اور سعودی عرب تنازعہ مسلم اُمہ کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی اغیارکی سازش ہے؟اگرواقعی ایسا ہے تو پھرآج یہ اُمت مسلمہ کے لئے بڑے افسوس اور شرم کا مقام ہونا چاہئے تھا مگرایسا نہیں ہے کیونکہ ہم نے کبھی یہ سوچابھی نہیں ہے کہ بس ایک ہم ہی ایسے مسلمان ہیں جو آپس کے مسلکی،فرقہ واریت اور فروعی بنیادوں پرسخت ترین اختلافات رکھتے ہیں۔

ایک دوسرے پر کفرو ایمان قتل اور واجب القتل کے فتویٰ جاری کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں یوں ہم اِن حوالوں سے خود کو تقسیم کئے ہوئے ہیں مگر ایسے میں بھی ایک اغیارہی ایسے ہیں جو ہمیں صرف اور صرف مسلمان ہی سمجھتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج اغیار اور اسلام دُشمن طاقتیں مزید کمزورسے کمزور تر کرنے کے لئے ہم ہی میںسے کبھی طالبان اورتوکبھی داعش جیسے خطرناک دہشت گرد گروپس پیداکردیتے ہیں جو ہمارے بکھرے پن کا فائدہ اُٹھاکرے ہماری ہی آستینوں میں پل رہے ہیں اور جب بھی اِنہیں ہماری تباہی و بربادی کا اشارہ ہوتا ہے تو وہ اپنے زہریلے اور تیز نشترسے ہمیں گھائل کردیتے ہیںیوں یہ ا ورسلام دُشمن سازشی طاقتیں ہماری رہی سہی ملی یکجہتی اور اتحاد کا شیرازہ بکھیررہی ہیں۔

اگرآج ہم پچھلی چنددہائیوں سے وسطیٰ ایشیا بالخصوص عرب ممالک میں ہونے والی سیاسی ومذہبی اور معاشی اور معاشرتی نوعیت کی المناک رونما ہوتی تبدیلیوں کا جائزہ لیں تو یقیناہمیں اِن عرب ممالک کی جغرافیائی اور سرحدی حدود میں ہونے والی تبدیلیوں اور ترامیم میں بھی اسلام دُشمن طاقتوں کا ہی ہاتھ نظرآئے گا اور آج عراق اوریمن وشام اور ایران و سعودی عرب میں جتنے بھی خطرناک اقسام کے تنازعات سامنے آرہے ہیں یا پیداکئے جارہے ہیں اِن تمام تنازعات کے درپردہ بھی ہنڈریٹ پلس ہنڈریٹ فیصدامریکا، اسرائیل ، روس اور اُمت مسلمہ کی ملی یکجہتی اور اتحاد کے دُشمنان ِ عظیم یورپی ممالک کی ہی سازشین کار فرما ہیں۔

Iran and Saudi Arabia

Iran and Saudi Arabia

اَب ایسے میں ہمیںعراق اوریمن وشام اور ایران و سعودی عرب کے درمیان موجودہ سراُٹھاتے نئے تنازعہ میں اُمتِ مسلمہ کو جو ش کے بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے اُن محرکات کا ضرور جائزہ لینا ہوگا جن کی وجہ سے اِن ممالک میں تنازعات پیداہوئے یا کئے گئے اور اَب سنگین ہوتی ہوئی صورتحال میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اُمتِ مسلمہ تقسیم سے تقسیم تر ہونے کو ہے اور اپنا ملی اتحاد کا شیرازہ بکھیر کرچھوٹے چھوٹے بلاکس اور گروہوں میں بٹنے کو ہے خدانخواستہ اگر ایسا ہوگیاتو اِس کا فائدہ ہمارے چھوٹے چھوٹے گروہوں اور ٹکڑیوں میں بٹنے والوں کو تو خیرکیا ہوگا..؟؟ مگراِسلام دُشمن وہ طاقتیں جو اپنی سازشوں سے اُمتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھیر نے کی سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں اِنہیں ہی سارا کریڈٹ جائے گااور پھراِس طرح وہ بڑی آسانی سے ٹکڑیوںمیںبٹی اُمتِ مسلم کو اپنی کم طاقت کے استعمال سے ہی نیست ونابود کردیں گیں اور قصہ ءپارینہ بنا دیں گیں۔

آج ایک ایسے وقت میں کہ جب اسلام دُشمن طاقتیں اُمتِ مسلمہ کی تباہی اور بربادی کی سازشوں میں مصروف ہیں اور مسلمانان عالم کے لئے زمین تنگ کرتی جارہی ہیں ایسے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کسی بھی صورت میں اُمت مسلمہ کے لئے قابل برداشت نہیں ہے جبکہ اُمتِ مسلمہ کا موجودہ صورتِ حال میں ایران اور سعودی عرب کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور مذہبی اور معاشی اور معاشرتی مسائل اور اختلافات کو تحمل مزاجی اور افہام وتفہیم سے حل کریں اور دونوں جانب سے سراُٹھاتے تنازعات کو فوری طور پر حل کرنے کے لئے اپنے سفارتی تعلقات استوار کریں کہیں ایسانہ ہوکہ ایران اور سعودی عرب کی ضد اور اَنا کی وجہ سے ساری اُمتِ مسلمہ کئی بلاکس میں تقسیم ہوجائے اور اغیاراپنی سازشوں میں کامیاب ہو جائے۔

اَب یہاں میں اپنے قارئین کو یہ بتاتاچلوں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تنازعہ کیوں اور کن وجوہات کی بنیاد پر زورپکڑگیاہے تو اطلاعات یہ ہیں کہ پچھلے دِنوں سعودی وزراتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات پر ایک ہی دن میں سعودی عرب کے 12شہروں میں 47دہشت گردوں کے سرقلم کردیئے گئے اِس پر سعودی وزراتِ خارجہ کا کہناتھاکہ جن افراد کے سرقلم کئے گئے ہیں ہماری مصدقہ تحقیقات کے مطابق یہ 2003سے 2006تک کی درمیانی مدت میںسعود ی عرب میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے جبکہ اِس حوالے ایک سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کا کہناتھاکہ تمام افرادکو ایک ہی روزسزائے موت ہوئی، دہشت گردوں میں سے زیادہ تر کا تعلق القاعدہ سے تھاسزاپانے والوں میں مبلغ نمرالباقر العمر اور فارس الشویل بھی شامل تھے پھانسی کی سزاپانے والے 45افرادسعودی شہری تھے اور ایک مصری اور چاڈکے شہری کو بھی دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دی گئی ، دہشت گردوں کو ریاض، مکہ ، مدینہ، مشرقی ریجن،قسیم، حیل،شمالی سرحد، عصیر، جوف ، نجران، بابااور تبوک میں سزادی گئی“۔ظاہر سی بات ہے کہ جرم کرنے والے کو سزا لازمی ہے۔

Terrorism in Saudi Arabia

Terrorism in Saudi Arabia

اگر ایسانہ کیاجائے تو دہشت گردی میں ملوث عناصر کو تقویت ملتی ہے معاشروں اور مُلکوں میں بگاڑپیداہوتاہے آج بھی دنیا کے جن ممالک میں مجرم کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں وہاں جرائم کم ہیں اور جو عناصر دہشت گرد ی میں ملوث ہوں اور اِن عناصر کا کسی بھی طرح سے طالبان اور داعش سے ذراسابھی تعلق ہوتو ایسے عناصر کا سرقلم کردینا ہی بہتر ہے خواہ ایسے عناصر مبلغ ہوں یا کسی بھی مقدس ترین شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں اگر اِن عناصر کا تعلق طالبان یا داعش اور دہشت گردتنظیموں سے ثابت ہوجائے تو ایک لمحہ ضایع کئے بغیر ہی اِن کے سر قلم کر دیئے جائے۔

یوںآج صورتِ حال یہ ہے کہ معروف سعودی عالم شیخ نمرالنمر کو سزائے موت دیئے جانے کے بعدایران اور سعودی عرب میں جاری تنازع وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیارکرتاجارہاہے خبر ہے کہ تہران میں قائم سعودی عرب کے سفارت خانے پرمشتعل ایرانی مظاہرین کے ہجوم نے دھاوابول دیااندرگھس کرتوڑ پھوڑ کی اور دفاتر پر پٹرول اور آگ بڑھ کانے والے کیمیکل بموں سے حملہ کرکے اِس کو آگ لگادی جس کے بعدسعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑلئے ، اور ایرانی سفارتی اہلکاروں کو 48گھنٹے میں مُلک چھوڑنے کا حکم دیدیاپھ تواُدھر ہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ ہوتی صورت حال پر بحرین اور سوڈان کے بعد کویت نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑلئے ہیں جبکہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ ہوتی۔

خطرناک ترین صورت حال پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اِس اُمتِ مسلمہ کے اتحاد کو سپوتاژ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اپنا مخلصانہ اور دوستانہ ثالثی کردار اداکرنے کی کھلے دل سے پیشکش کردی ہے اور کہا ہے کہ اُمید ہے کہ بہت جلد دونوں ممالک موجودہ صورتحال کو امت ِ مسلمہ اور عالم ِ اسلام کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو تقویت دینے کے خاطر اپنے مسائل اور اختلافات کو تحمل مزاجی سے جلد حل کریں گے“ پاکستان کی تشویش اپنی جگہہ درست ہے مگر اَب ایران اور سعودی عرب کو بھی اپنی ذمہ داری اداکرنی چاہئے اوردونوں ممالک کو یہ ضرورسوچناچاہئے جو ہواسوہوامگر اَب ہمیں جو ش کے بجائے ہوش سے کام لیناچاہئے ، اور ایران کو بھی یہ ضرور سوچنااور سمجھناچاہئے کہ وہ عالمی سازشی طاقتوں کا آلہءکار نہ بنے اور کسی بھی معمولی تنازعہ کو اتناہوانہ دے کہ اِ س کے ایرانی شہری ایرا ن سمیت ساری دنیا میں کسی ملک کے خلاف مشتعل ہوجائیں اور اِس طرح وہ ایران کے لئے ہی باعث نقصان ہوں۔

آج اگرایران سعودی عرب میں ایک معروف سعودی مبلغ اور عالم شیخ نمرالنمر کو سزائے موت دیئے جانے کے واقعہ کو اپنی اناکا مسئلہ نہ بناتاتو ایران اور سعودی عرب تنازعہ بھی پیدانہ ہوتااور اگر ایران کو عالم شیخ نمرالنمرکی سزائے موت پر تحفظات بھی تھے تو وہ اِس پر سعودی عرب سے سفارتی طور پر رابطے کرتااور اپنے خدشات اور تحفظات سے سعودی عر ب کو آگاہ کرتامگر ایسا نہیں ہواتہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر ایرانی مشتعل ہجوم نے دھاوابول دیااور اِس کے بعد ایران اور سعودی عرب تنازعہ اتناسنگین ہوگیاہے کہ اَب ایران سے سعودی عرب کے بعدسوڈان اور بحرین کی طرح کویت نے بھی اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیاہے جبکہ پاکستان کی اِس ایران اور سعودی عرب تنازعہ میں غیرجانبداررہ کراپنا کرداراداکرنے کی پیشکش ہے، دیکھیں موجودہ ایران اور سعودی عرب تنازعہ کب اور کہاں جاکر اور کن شرائط کے ساتھ اختتام پذیر ہوتاہے..؟؟ اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعہ میں ثالث کے کردار اداکرنے کی پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کو پہلے سعودی عرب پاکستان کو خوش آمدیدکہتاہے یا ایران پاکستانی ثالثی کردار کو قبول کرتا ہے۔

Azam Azim Azam

Azam Azim Azam

تحریر: محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com