ہر جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بہت بڑا جہاد ہے۔ ڈاکٹر علامہ احسان

Pak Mohammad Mosque Berlin Mehfil AhlyBait Ulathar

Pak Mohammad Mosque Berlin Mehfil AhlyBait Ulathar

جرمنی (APNAانٹرنیشنل نیوز/انجم بلوچستانی) برلن بیوروا ورمرکزی آفس برلنMCBیورپ کے مطابق ٢٤ اکتو بر ٢٠١٥ء کویوم عاشور کے موقعہ پرجرمنی کے دارالحکومت برلن میں پاک محمد مسجد برلن کی جانب سے”محفل اہل بیت الاطہار”کا اہتمام کیا گیا، جس میںپاکستانی کمیونٹی کے سر کردہ افراداوربرلن میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔یہ محفل ہفتہ کے دن نماز عصر سے شروع ہوکر ا نماز مغرب کے وقفہ کے ساتھ نماز عشاء تک جاری رہی۔اس پروقار محفل کی نظامت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے پاک محمد مسجد کے امام اور خطیب نصیراحمد نے بڑے پیارے اور مخصوص انداز میں اس شعر سے ابتدا کی۔

افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسین کا
نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسین کا
اک پل کی تھی بس حکومت یزید کی
صدیاں حسین کی ہیں زمانہ حسین کا

محفل کا آغازحاجی عبدالمجید کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ مسجد کے طابعلم حماد ساجد نے بھی تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔ قیصر ملک نے حمد باری تعالی اللہ ہو ، اللہ ہو سنا کر محفل کے ایمان کو گرما دیا۔پھر نعت رسول مقبول ۖ اورمنقبت کا سلسلہ شروع ہوا ، صغیراحمد نے منقبت پیش کی،اسکے بعد نصیر ملہی نے اپنے مخصوص انداز اور پیاری آواز کے ساتھ” میں تو پنج تن کا غلام ہوں” سنائی اور حاضرین محفل پر سحر طاری کر دیا ۔ پھرعبدالقدوس نے اپنی دل نشیں آواز میں پیر مہر علی شاہ کی” اج سک متراں دی ودھیری اے” پڑھی اور حاضرین محفل سے داد حاصل کی۔ اس دوران وقفے وقفے سے مسجد کا ہال نعرہ تکبیر اللہ اکبر،،نعرہ رسالت یا رسول اللہ، نعرہ حیدری یاعلی سے گو نجتا رہا۔

اس دوران علامہ نصیر ا حمدحاضرین محفل کے ایمان کی حرارت تازہ رکھنے کے لئے حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے ساتھیوں کی معرکہ کربلا میں شہادت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے رہے ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر علامہ احسان کے ہال میں تشریف لانے پرنعروں سے انکا استقبال کیا گیا،اسی دوران نماز مغرب کے لئے وقفہ کا اعلان کیا گیا۔نماز مغرب کے بعد بلا تاخیر لہدونیہ،اسپین سے ا نے والے ڈاکٹر علامہ احسان صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔انہوں نے اہل برلن وپاک محمد مسجدکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ”آپ نے اہل برلن سے دوسری مرتبہ ملاقات کا موقعہ مہیا کیا۔

یورپ میں اتنی لمبی محفل بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے، مگر برلن والوں نے آج اہلبیت سے اپنی محبت کا ثبوت فراہم کردیا ۔ آج ہم جن ہستیوں کا ذکر کرنے پاک محمد مسجدمیںجمع ہوئے ہیں،جس کا نام ہی اس عالی مرتبت کے نام پر ہے ،جسکی وجہ سے اللہ تعالی نے اس کائنات کو تخلیق کیا۔میری دعا ہے کہ اللہ پاک انکے اور اہل بیت کے صدقے ہم سب کی بخشش فرمائے ۔آمین۔

ڈاکٹر صاحب نے پہلے اپنی خوبصورت آواز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی،یوم عاشور کوذکر اہل بیت سے منسوب کرنے اور ایسی پیاری اور متبرک محفل سجانے پرمبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ” ہو سکتا یہ محفل ہی ہم سب گنہگاروں کی بخشش کا سبب بن جائے، کیو نکہ رسول اللہۖ کا فرمان ہے کہ جس نے میری اہلبیت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ،جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے اللہ سے محبت کی اسکو اللہ تعالی اپنی رحمتوں کے سائے میںلے کر ضروربخش دیتا ہے۔آپ ۖکا ارشاد ہے ”کہ آپ اسوقت تک مومن نہیں ہوسکتے ،جب تک آپ کو اپنے والدین، اپنی اولاد اور دنیا کی ہر چیزسے زیادہ مجھ سے محبت نہ ہو ، اسکے بعد آپ ۖنے اپنی اہل بیت سے محبت کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر آپ نے نے قران پاک اور میری اہل بیت کا دامن پکڑے رکھا تو آپ گمراہ نہیں ہوں گے۔”

انہوں نے کہا کہ” ابوبکر نے فرمایاکہ میںنے خود اپنے کانوں سے سنا ہے ،اللہ کے نبی ۖنے فرمایا کہ حضرت علی کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ دس محرم کے د ن کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام نماز ادا کر رہے تھے کہ شمر لعین نے سجدے کی حالت میںآپ کی گردن پر تلوار کا وار کرکے آپ کا سرمبارک تن سے جدا کردیا۔وہ سجدہ آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ جب سے دنیا بنی ہے ،اس وقت سے قیامت تک آج تک نہ کسی نے ایسا سجدہ کیا اور نہ ہی کوئی کرسکے گا۔ یہ صرف حضرت امام حسین علیہ السلام کا سجدہ ہے، جواپنے نانا ۖ کے دین کو دوبارہ زندہ کر گیا۔

یہ تمام انسانیت کے لئے ا یک پیغام ہے کہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہناسب سے بڑا جہاد ہے، اسکے لئے اگر اپنا سب کچھ بھی قربان کر ناپڑھے تو دریغ نہ کرنا۔حضرت امام حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے امت کو ایک معیار دے دیا کہ کسی بھی یزید ثانی کی بیعت نہ کرنا ۔”ڈاکٹر صاحب نے کربلا کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ” آج جو مسلمان اپنے آپ کو آقائے نامدار ۖ کا امتی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، یہ سب کربلا میں جام شہادت نوش کرنے والے شہیدوں کا صدقہ ہے، جنہوں نے یزیدیت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا۔ اب پوری دنیا میں کہیں کوئی یزیدیت کسی بھی شکل میں سر اٹھانے کی کوشش کرتی ہے تواسکے سامنے حسینیت پر عمل کرنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں اوریزیدیت منہ کے بل گر جاتی ہے۔”

خطاب کے بعدڈاکٹر صاحب نے حاضرین کے ساتھ حضور پرنو ر ۖ کی خدمت میں سلام کا نذرانہ پیش کیا ،شہدائے کربلا کیلئے فاتحہ خوانی کی اوراللہ تعالی سے اجتماعی دعامانگی کہ”وہ اپنے حبیب پاک ۖ اور شہدائے کربلا کے صدقے عالم اسلام اور پاکستان کو امن و خوشحالی عطا فرمائے،تمام بیماروں کوشفا ،بیروزگاروں کو روز گاردے ،، تما م لوگوں کے دکھ دورکر ے، پاک محمد مسجد کے تمام اراکین ، اس اللہ کے گھر کی دامے ،درمے ،سخنے معاونت کرنے والوں،نیز حاضرین محفل کی تمام مشکلات دور فرمائے اور اپنی رحمتو ںکے صدقے، آج کے دن کے صدقے، اپنے پیاروں کے صدقے، آج کی اس پاک محفل کے تما م حاضرین کو دین و دنیا کی ہر خوشی سے نواز دے۔ آمین ثمہ آمین۔

اس پاک محفل کے اختتام پر پاک محمد مسجد کے امام اور خطیب علامہ نصیر احمد نے تمام مہمانوں کا اپنی اور انتظامیہ کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد تمام مہمانوں میں لنگر الحسینی سے جو ناصر محمود محمدتقسیم کیا گیا،جو عامروذی شان نے بڑی محنت سے تیار کیاتھا۔ تقسیم کی ذمہ داری ساجد محمود ، چوہدری زبیر، محمود احمد،محمد رفیق،حبیب وائیں،چوہدری مہندی،حماد ساجد،قاسم علی، وجاہت اورشجاعت مہندی نے نبھائی۔

کمیونٹی کے سرکردہ افراد میںاسلامی تحریک برلن کے امیرعبدالوارث،انکی مجلس شوریٰ کے رکن عدیل اور رخسار انجم،جومدیر سہ ماہی دستک ہیں؛ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی کے چیرمین،عالمی سربراہ کشمیر فورم انٹر نیشنل ،پاکستان عوامی تحریک یورپ کے چیف کوآرڈینیٹر محمد شکیل چغتائی؛پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے رہنما، سابق نائب صدر پاک محمد مسجد ملک قیصر؛پاکستان مسلم لیگ(ن) برلن کے چیف آرگنائزر، پاک محمد مسجد کے خازن محمد نذیر چیمہ؛ساق صدر پاک محمد مسجد اور ادارہ منہاج القرآن محمد صدیق اکبر شامل تھے، جنہوں نے کمیونٹی کی نمائندگی کی۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد