باباےَ صحافت مولانا ظفر علی خان کی یاد میں ادبی نشست

Maulana Zafar Ali Khan, Adabi Nishast

Maulana Zafar Ali Khan, Adabi Nishast

الریاض (جاوید اختر جاوید) گذشتہ دنوں حلقۂ فکروفن کے تحت بطل حریت مو لانا ظفر علی خان کی یاد میں ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری کی رہائش کاشانہَ ادب میں ایک ادبی ریفرنس منعقد ہوا۔ حمدو ثنا کے بعد جاوید اختر جاوید نے کہا کہ مو لانا ظفر علی خان کا تعلق کرم آباد وزیر آباد سے تھا وہ ایک مجاہد ملت تھے ان کی شہرہ آفاق نعت ” وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برسوں تک غاروں میں ” آج بھی فکرو نظر کو جلا بخشتی ہے۔ ان کی شاعری حریت فکر کا نمونہ ہے۔

ان کے اندر حریت فکر کا ایک جذبہ کارفرما تھا۔ ان کی حریت فکر سے انسانی وقار اور سر بلندی کی شمعیں فروزاں ہو تی ہیں، اُن کی راست گو ئی اور بلند آہنگ لہجے اور جرات اظہار نے انھیں منفرد مقام عطا کیا۔ مو لانا ظفر علی خان کی شخصیت منبع علم و کمال اور مخزن فکر و فن تھے۔ اور ان کی کتابیات تاریخی دستاویز ہیں۔

ڈاکٹر محمدریاض چوہدری کہتے ہیں وہ بیباک صحافی ایک نامور خطیب اور ایک مو رخ تھے۔ وطن اور اہل وطن کے ساتھ اُن کی وابستگی وہ بڑا امتیاز ہے جس کی مثال ملنی محال ہے ۔ انھوں نے اپنی نظم و نثر میں جن افکار کو مو ضو ع سخن بنایا ہے وہ ان کی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کے آئینہ دار ہیں ان کی شاعری احساسات اور جذبات کی واسع معانی عطا کرتی ہے وہ تحریک پاکستان کے جانثار سپاہی اور ملی درد آشنا تھے۔

جنگ آزادئ میں ان کا بہادر مجاہد کی طرح انگریز حکمرانوں کو للکارنا اور آزادئ تقریر و تحریر کے جرم میں طویل عرصہ تک قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنا یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے مولانا ظفر علی خان کا بڑے سے بڑا سیاسی مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا افسوس کہ ہم نے بطور قوم مولانا ظفر علی خان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ ہر لحاظ سے حقدار تھے۔ ان کا مشہور شعر ہے کہ

؎ قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
تو مجھ سے سیکھ لے فن اور اس میں بے مثال بن
ایک دوسری جگہ حمد باری تعاٖلیٰ بیان کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ

؎ دلوں کو معرفت کے نور سےتو نے کیا روشن
دکھایا بے نشاں ہو کر ہمیں اپنا نشاں تو نے

اس مو قع پر عبدالرزاق تبسم اور وقار نسیم وامق نے پنجابی اوراردومیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان اپنی ذات میں انجمن اور ادارہ تھے اور زمیندار ان کی پہچان اور شناخت تھی ۔جس نے اردو صحافت میں نیا اسلوب پیدا کیا۔ اعجاز بٹ اور دیگر سامعین نے ظفر علی خان کے شہرہ آفاق اشعار سنائے۔ دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔