کراچی کی خبریں 23/4/2016

Patti

Patti

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آرمی چیف کی جانب سے کرپشن کیخلاف بیان کے بعد کرپشن میں ملوث اعلیٰ فوجی افسران کیخلاف تادیبی کاروائی کو احسن و قابل توصیف اقدام قرار دیتے ہوئے محب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے کہا کہ آرمی چیف کا اقدام قابل تحسین سہی مگر صرف چھوٹی مچھلیوں اور چھوٹے عہدیداروں پر ہاتھ ڈال سے کچھ نہیں ہوگا کرپشن کے سمندر کی صفائی کیلئے ضروری ہے کہ آرمی چیف اپنی ذات سے احتساب کا آغاز کرکے ایک نئی مثال قائم کریں اورآرمی ‘ فضائیہ و نیوی کی موجودہ و سابقہ عسکری قیادت سے ایک عام فوجی جوان تک اورنیب ‘ ایف آئی اے و پولیس سمیت تمام سیکورٹی اداروں و ایجنسیزکے سربراہان سے عام اہلکاروں تک بلا تفریق احتساب کیا جائے جبکہ موجودہ و سابقہ صدور ‘ وزرائے اعظم ‘ تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ‘ تمام گورنرز‘چیئرمین سینیٹ سے اراکین سینیٹ و اراکین صوبائی و قومی پارلیمنٹ ‘ تمام وفاقی و صوبائی وزرا ¿ ‘گورنر اسٹیٹ بنک و دیگر عہدیداران ‘ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے سیشن جج اور وفاقی اٹارنی جنرل سے ایک عام سرکاری وکیل تک ہر ایک کیخلاف تحقیقاتی و احتسابی عمل ہونا چاہئے کیونکہ پانامہ لیکس نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کے مستحکم و محفوظ مستقبل کیلئے کرپشن کے سمندر کی صفائی ضروری ہے مگر اس صفائی میں صرف چھوٹی مچھلیوں کے شکار سے اصلاح احوال نہیں ہوگی اس کیلئے مگرمچھوں اور بڑی مچھلیوں پر بھی ہاتھ ڈالنا اور انہیں احتساب کے کانٹے میں الٹا لٹکانا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار امیر سولنگی عرف پٹی والا المعروف سورٹھ ویر نے قیوم آباد پولیس چوکی میں باوردی پولیس اہلکاروں کی خاتون کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالی بھیڑوں نے امن و حفاظت کے ذمہ دار محکمہ پولیس کو خوف ودہشت کی علامت بنادیا ہے اور عوام مجرموں ‘ دہشتگردوں اور قاتلوں سے زیادہ پولیس سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ مال حرام کمانے میں مصروف پولیس افسران و اہلکار نہ صرف کرپشن میں ملوث ہیں بلکہ دہشتگردی اور جرائم کی معاونت و سرپرستی کے حوالے سے بھی ان پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں اسلئے محکمہ پولیس کی ساکھ کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ جس طر ح آرمی چیف نے کرپشن میں ملوث فوجی اہلکاروں کیخلاف محکمانہ احتسابی کاروائی کی ہے سربراہ سندھ پولیس بھی اپنے محکمہ کے تمام افسران کا اسی طرح احتساب کرتے ہوئے کالی بھیڑوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کریں وگرنہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کی سرپرستی کے حوالے سندھ پولیس کے سربراہ کی جانب بھی انگلیاں اٹھنے لگیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان راجونی اتحاد میں شامل ایم آر پی چیئرمین امیر پٹی ‘ خاصخیلی رہنما سردار غلام مصطفی خاصخیلی ‘ سولنگی رہنما امیر علی سولنگی © ‘راجپوت رہنما عارف راجپوت ‘ ارائیں رہنما اشتیاق ارائیں ‘ مارواڑی رہنما اقبال ٹائیگر مارواڑی ‘ بلوچ رہنما عبدالحکیم رند ‘ میمن رہنما عدنان میمن‘ہیومن رائٹس رہنما امیر علی خواجہ‘ خان آف بدھوڑہ یحییٰ خانجی تنولی‘ عمرا ن چنگیزی و دیگر نے کہا کہ فوج میں احتساب پر جنرل راحیل شریف کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور تمام اداروں میں احتسابی کاروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام اداروں میں آرمی چیف کی تقلید کرتے ہوئے احتسابی عمل کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب ‘ ایف آئی اے ‘ پولیس ‘ اسٹیٹ بنک اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کے سربراہان کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں احتسابی کاروائی کریں جبکہ ان تمام اداروں کیخلاف احتسابی کاروائی کی نگرانی پارلیمنٹ کو کرنی چاہئے اور اراکین سینیٹ و قومی و صوبائی پارلیمانی اراکین اور صدر و وزیراعظم سمیت سربراہ عدلیہ کیخلاف احتسابی کاروائی فوجی سربراہ کی نگرانی میں آئی ایس آئی کے ذریعے کرائی جائے تاکہ ملک و قوم کے غداروں سے نجات حاصل کرکے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر غدار محب وطن کہلاتاہے ‘ چور کو ساہوکار ہونے کا گھمنڈ ہوتا ہے ‘ دہشتگرد امن کا درس دیتا ہے اورملک و قوم کو لوٹنے والا دیانتدار کہلاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سیاسی و انتظامی نظام جس کی لاٹھی ا س کی بھینس کے فارمولے پر ٹکا ہوا ہے جس کی پردہ پوشی کیلئے اسے جمہوریت کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ بات پاکستان سولنگی اتحاد کے سینئروبزرگ رہنما امیر سولنگی ‘ سردار اکرم سولنگی ‘ سردار شبیر سولنگی ‘ سردار راحیل سولنگی ‘ سردار خادم حسین سولنگی ‘ ایڈوکیٹ کرم اللہ سولنگی ‘ ایڈوکیٹ اقبال سولنگی نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ٹیلیویژن خطاب میں کئے جانے والے اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ۔ سولنگی رہنما ¶ں نے کہا کہ وزیرا عظم کی جانب سے پانامہ لیکس پر کمیشن بنانے اور سپریم کورٹ کو خط لکھنے کااعلان عوام کو چلتے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑانے کے مترادف ہے کیونکہ قوم جانتی ہے کہ ہر کمیشن کا فیصلہ ہمیشہ صاحب اقتدار کے حق میں ہی نکلتا ہے اور میاں صاحب تو اقتدار کی ہیٹ ٹرک مکمل کرچکے ہیں اور سابقہ فوجی سربراہ طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو پھر ان کے اپنے اقتدار میں ان کا کوئی قائم کردہ کمیشن کس طرح ان کی کرپشن کو بے نقاب کرکے ان کا احتساب کرسکے گا البتہ کمیشن کی رپورٹ ان کے اوپر لگے داغوں کو دھوکرروایت کے مطابق آئندہ انتخابات میں ان کی ایکبار پھر کامیابی راہیں ضرور ہموار کرے گی۔