کراچی کی خبریں 28/3/2016

Karachi

Karachi

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلشن اقبال پارک لاہور میں خود کش حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت سینکڑوں افراد کی ہلاکت نے امن کے جھوٹے حکومتی دعووں کا پول کھولنے کے ساتھ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جب تک اقتدار کے ایوانوں میں عوام دشمن ‘ منافق ‘ مفاد پرست عناصر رہیں گے‘ بالائی سطح سے دہشتگردوں کی سرپرستی کی جاتی رہے گی اور اداروں کو دہشتگردوں کے معاون کاروں سے پاک نہیں کیا جائے گا قوم اسی طرح اپنے پیاروں کے جنازے اٹھانے پر مجبور رہے گی ۔یہ بات محب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے گلشن اقبال پارک خود کش حملے کے کے شہداءکے ایصال ثواب کیلئے روشن پاکستان ہاوس میں منعقدہ فاتحہ خوانی کی محفل کے بعد ایم آر پی کے صدر محمد سلیمان راجپوت کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ امیر پٹی نے مزےد کہا کہ فوج دہشتگردی کے خاتمے کی عظیم جدوجہد میں مثالی قربانیاں پیش کررہی ہے مگر اس کے باوجود دہشت گردی کا تسلسل جاری ہے جس کی وجہ سے قوم اب آرمی چیف سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوچکی ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کا ان کا عزم پایہ تکمیل تک پہنچ بھی پائے گا یا جمہوریت کو بچانے کیلئے عوام کو قربان کرنے کی روایت ہمیں کسی بھیانک انجام تک لیجانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی پریس کلب پر حملہ صحافت کیخلاف دہشتگردی ہے ‘ جی کیو ایم
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار امیر سولنگی عرف پٹی والا المعروف سورٹھ ویر نے کراچی پریس کلب پر شر پسندوں کے حملے نجی چینل کی وین نذر آتش کرنے اور صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حق صداقت کے صحافتی عمل کو روکنے اور عوام تک حقائق کی منتقلی میں رخنہ اندازی کیلئے صحافیوں کو دھمکیاں دینے ‘ ان پر تشدد کرنے اور انہیں قتل کئے جانے کے واقعات تو ملک میں عام تھے ہی اب پاکستان کے پہلے اور سب سے بڑے پریس کلب یعنی کراچی پریس کلب پر شر پسندانہ حملہ یقینا صحافت کیخلاف دہشتگردی اور صحافیوں کے عدم تحفظ کا بین ثبوت ہے کیونکہ جب شر پسند کھلے عام اور دن دہاڑے کراچی پریس کلب کو شر پسندی کا نشانہ بناسکتے ہیں تو پھر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں و قصبوں کے پریس کلب اور صحافیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوسکتا یہ وہ سوال ہے جو قوم اور صحافیوں دونوں کیلئے پریشان کن ہے اور ا سکا جواب صرف سیکورٹی اداروں و حکمرانوں کے پاس ہے مگر وہ جواب دینا پسند نہیں کرینگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک دشمن تمام عالمی این جی اوز پر پابندی عائد کی جائے ‘ راجونی اتحاد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عالمی این جی اوز کی جانب سے دہشتگردوں کو فنڈز کی فراہمی کے وفاقی وزیر خزانہ کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان راجونی اتحاد میں شامل ایم آر پی چیئرمین امیر پٹی ‘ خاصخیلی رہنما سردار غلام مصطفی خاصخیلی ‘ سولنگی رہنما امیر علی سولنگی © ‘راجپوت رہنما عارف راجپوت ‘ ارائیں رہنما اشتیاق ارائیں ‘ مارواڑی رہنما اقبال ٹائیگر مارواڑی ‘ بلوچ رہنما عبدالحکیم رند ‘ میمن رہنما عدنان میمن‘ہیومن رائٹس رہنما امیر علی خواجہ ‘خان آف بدھوڑہ یحییٰ خانجی تنولی ‘ این جی پی ایف سربراہ عمران چنگیزی و دیگر نے کہا ہے کہ عالمی این جی اوز کی جانب سے ملک توڑنے کیلئے فنڈنگ کے الزامات میں صداقت ہے تو پھر ایسی این جی اوز پر پابندی عائد کرنے میں حکومتی شرم و ندامت یا ناکامی و بے بسی کیا معنی رکھتی ہے جبکہ حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کو ایسی این جی اوز سے متعلق مکمل آگہی کی فراہمی کے ساتھ ملک دشمن این جی اوز کا محاسبہ کرے اور ملک توڑنے والے قوانین کے تحت انکے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ موجودہ حکومت سے قبل اور حکومت میں شامل جو لوگ ان سازشوں سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش رہے انکا کردار بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ غیر محب وطن قیادت سے عوام بھی آگاہ ہو سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ کو بالغ نظر ‘ حقیقت پسند اور معتدل مزاج صدرچاہئے‘ سولنگی اتحاد
امریکی عوام یقینامتعصب وتنگ نظر ٹرمپ کو مسند صدارت پر بٹھانے
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان سولنگی اتحاد کے سینئر وبزرگ رہنما امیر سولنگی اور سردار اکرم سولنگی ‘ سردار شبیر سولنگی ‘ سردار راحیل سولنگی ‘ سردار خادم حسین سولنگی ‘ ایڈوکیٹ کرم اللہ سولنگی ‘ ایڈوکیٹ اقبال سولنگی و دیگرنے امریکی صدر بارک اوبامہ کی جانب سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کو راست و خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشت میں مسلمانوں کا کردار انتہائی اہم ہے مگر اسے نظر انداز کرکے محض چند بھٹکے ہوئے عناصر کی بنیاد پر اسلام کے تمام پیروکاروں کو بدنام کرنا یقینا نا انصافی اور حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اسلئے ہمیں امریکہ کے باشعور شہریوں سے یہ توقع ہے کہ وہ صدارتی امیدوار ٹرمپ کی ہرزہ سرائی پر توجہ دینے کی بجائے ان کے بیانات کو ان کی محدود سوچ اور معتصبانہ طرز عمل جانتے ہوئے صدارتی انتخابات میں انہیں مسترد کرکے امریکہ کیلئے ایسے صدر کا انتخاب کرینگے جو حقائق پسند ‘ معتدل مزاج ہونے کے ساتھ امریکی عوام کی عالمی تنہائی کو دور کرنے کیلئے دنیا بھر سے محبت کرنے کی اہلیت کا حامل بھی ہو۔