کراچی کی صورتحال پر رینجرز کی بریفنگ

Rangers in Karachi

Rangers in Karachi

تحریر: سید توقیر زیدی
رینجرز حکام نے کراچی کی صورتحال پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز کو جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور برطانیہ سے فنڈنگ جاری ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کراچی میں 7950 آپریشنز کیے گئے، گرفتار افراد میں 1236 دہشت گرد، 848 ٹارگٹ کلرز، 403 بھتہ خور اور 143 اغوا کار تھے جبکہ حیدر آباد سے 12 افراد اور کراچی سے 3 گینگ گرفتار کیے گئے’ جو رینجرز کی وردی پہن کر آپریشن کر رہے تھے۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے رینجرز کے کرنل قیصر نے بتایا کہ کراچی آپریشن کسی خاص نسل یا زبان بولنے والے شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق کیا جا رہا ہے۔

کراچی ا?پریشن میں اب تک حاصل کی گئی کامیابیاں پوری قوم کے لیے خوش آئند اور حوصلہ افزا ہیں۔ اس مقصد کے لیے دی گئی رینجرز اور پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور جلد ہی وہ دن آئے گا جب ملک کا سب سے بڑا شہر امن کا گہوارہ بن جائے گا’ جیسا یہ ماضی میں ہوا کرتا تھا؛ تاہم رینجرز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو دی گئی بریفنگ میں غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے جو کچھ بتایا’ وہ نیا نہیں ہے۔

بالکل ایسے ہی خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک آج سے چند سال پہلے کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2011ء میں قرار دیا تھا کہ کراچی کی صورت حال خراب کرنے میں جو لوگ ملوث ہیں، انہیں بھارت اور جنوبی افریقہ میں تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ کراچی میں وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اسرائیل کا بنا ہوا ہے۔

MQM

MQM

علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے لیے کام کرنے والے اور بعدازاں رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کچھ افراد نے بھی انکشاف کیا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی (را) کراچی کے حالات خراب کرنے کے لیے کچھ مخصوص گروہوں کو تربیت دے رہی ہے اور دہشت گردوں کو فنڈز بھی کر رہی ہے۔ ان ساری باتوں اور معاملات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ رینجرز نے کوئی انکشاف نہیں کیا۔ یہ باتیں سب کو معلوم ہیں۔

حیرت انگیز اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ 2011ء سے اب تک’ یعنی پانچ سال گزرنے کے باوجود’ ان غیر ملکی طاقتوں کا سدباب نہیں کیا جا سکا، جو کراچی کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ آیا رینجرز کے تین سال سے جاری آپریشن کے باوجود بھی بیرون ملک سے آنے والی اسلحے کی کھیپوں اور فنڈنگ کو روکا نہیں جا سکا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے؟ دشمن ممالک تو مخالف ریاستوں کے داخلی حالات خراب کرنے کی سازشیں اور کوششیں کرتے ہی ہیں، یہ ان ریاستوں پر ہے کہ وہ کس طرح ان کا مقابلہ اور سدباب کرتے ہیں۔

اگر گزشتہ پانچ برسوں میں ملک دشمن قوتوں کو لگام نہیں دی جا سکی اور وہ اب بھی کراچی کا امن تباہ کرنے میں مصروف ہیں تو یہ ریاست، حکومت اور عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے انتہا پسند دہشت گردی کی کوئی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو فوراً اعلان کیا جاتا ہے کہ کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن کی رفتار تیز کی جائے گی۔

Terrorism

Terrorism

ایسا کئی بار ہو چکا ہے؛ چنانچہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ جب مقصد دہشت گردی، جرائم اور مافیاز کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر بار بار کراچی آپریشن کی رفتار سست کیوں پڑ جاتی ہے؟ جو اسے تیز کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالات جس حد تک خراب ہو چکے ہیں، ان میں تجربات کی گنجائش بالکل نہیں۔ اگر بیرونی ممالک سے دہشت گردوں کو فنڈنگ ہو رہی ہے تو اس کو روکنا ملکی ایجنسیوں، پولیس اور امن قائم کرنے کے لیے ذمہ دار دوسرے اداروں کا فرض ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ رینجرز کی جانب سے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو دی گئی بریفنگ کو سامنے رکھ کر کراچی آپریشن کی تفصیلات از سر نو طے کی جائیں۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی عمل میں آ رہی ہے اور نئے وزیر اعلیٰ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے پیش رو کی طرح صوبے کے معاملات میں عدم دلچسپی کا اظہار نہیں کریں گے’ اور رینجرز کو اختیارات دے کر صوبے کے امن کو یقینی بنائیں گے۔ اس حوالے سے سول اداروں میں جو کمیاں اور سقم پائے جاتے ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے بھی اقدام کیے جانے چاہئیں۔

 Syed Tauqeer Zaidi

Syed Tauqeer Zaidi

تحریر: سید توقیر زیدی