کربلا مسلسل

Muharram

Muharram

تحریر : شاہ بانو میر
محرم کے دنوں میں زہن ویسے ہی حضرت حسین کی عظیم الشان قربانی کے لمحوں میں مغموم رہتا ہے مگر محرم میں کربلا سامنے آجائے تو مت پوچھیں کہ کیا حال ہوتا ہے ـ میری قرآن پاک کی کلاس تھی استاذہ کوکل کا سبق سنا کر آگے سبق لے رہی تھی ـ مین ڈور بند تھا گھر میں پینٹ ہونے کی وجہ سے اندر کا دروازہ کھلا تھا کہ پینٹ جلد خشک ہو سکے ـ قرآن پاک زندگی میں جب نہیں آیا تھا تب تک اس کو سننے کا احترام عام سا تھا دوران تلاوت گفتگو بھی کر لیتے تھے کیونکہ شعور نہیں تھا ـ مگر اب اس قرآن کا تقدس احترام ذات کا حصہ بن چکا ہے ـ دوران کلاس کوشش یہی ہوتی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے اپنی اساتذہ کو ڈسٹرب نہیں کرنا وہ وقت بس برداشت سے گزارنا ہے بے شک کوئی نقصان ہو یا بہت فائدہ قرآن پاک پڑھتے وقت مکمل خاموشی اور احترام گویا ساکن ہوکر حرف حرف کو سننا ہے اور دل پے اتارنا ہے ـ کلاس کے دوران اچانک جیسے ہماری روڈ پر طوفان بد تمیزی سا اٹھا ـ شور شرابہ جو یہاں عام طور سے شاز و ناظر سننے میں آتا ہے وہ سنا جا سکتا تھا۔

میں خود کو بظاہر پرسکون رکھتے ہوئے دھیان سے کلاس لینے کی تگ و دو میں مصروف تھی مگر شور تھا کہ بڑہتا ہی جا رہا تھا ـ میری ٹیچر نے بھی سنا بغیرکسی تمہید کے انہوں نے مناسب الفاظ میں سبق مکمل ہونے کا اعلان کیا اور کل انشاءاللہ کہتے ہوئے دعا پڑہی اور فون بند ہو گیا ـ اسی اثنا میں شور بھی تھم گیا ـ لیکن میرے اندر عجیب سا دکھ اتر آیا وجہ تھی یہ شور میرے قریبی ایک گھر سے اٹھا تھاـ جس میں نوجوان بیٹے نے انتہائی نا مناسب انداز میں اپنی ماں سے بد تمیزی کی اس کے پیچھے اسے مناتے یا سمجھاتے ہوئے ماں کو بری طرح جھڑک کر بے رحمی سے دروازہ بند کر کے نکل گیا ـ وہ دروازہ یوں شور سے بند ہوا جیسے ماں کے منہ پر مارا گیا ہو ـ یہ عورت کون ہے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہمیں سوچنا سمجھنا ہے اس کے حالات کو اور اس کے مسائل کوـ پاکستان میں جب تک تھی تو رسائل میں اور پی ٹی وی کے مختصر دورانیے کے انگلش ڈراموں میں یورپین عورت کو ہمیشہ ایکٹو اور فریش دیکھا۔

حتیٰ کہ قریب سے کیمرہ دکھاتا تو وہ بوڑی نظر آتیں ورنہ اپنے جدید طرز کے میک اپ سے بہترین انداز میں بالوں کی سیٹنگ اور دیدہ زیب لباس سے وہ باربی جیسی گڑیا دکھائی دیتیں ـ کہیں گاڑی ڈرائیو کرتی ہوئی کہیں سائیکل بے خوفی سے چلاتی ہوئیں کہیں جاب کرتی ہوئیں اور پھر تن تنہا چھٹیاں کسی نہ کسی مقام پے گزارتے ہوئے انہیں جب دیکھتی تھی تو سوچتی تھی کہ یہ یورپین عورتیں کس قدر خود اعتماد اور کامیاب ہیں ـ پاکستانی عورتوں کی طرح سہمی ہوئی اور ڈری ہوئی نہیں ہیں ـ ان کا ایک خاص تاثر تھا ہر پاکستانی ذہن پر اور پھر شومئی قسمت فرانس آنا ہوا ـ یہاں آکر دیکھا کہ کس طرح سے یہاں زندگی کو ایک لگے بندھے نظام میں سمو دیا گیا ہےـ جس میں جزبات اور احساسات کو نکال کر محنت کے ساتھ نظام میں کامیابی کو مشروط کر دیا گیا ہے ـ نازک احساسات کی یہاں رتی برابر گنجائش نہیں ہے ـ کام اور کام اور پھر اس سے موصول رقم سے آسائشات کی ذاتی جاگیر جس میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

Society

Society

خود غرض ذات پر مبنی سوچیں بے رحم انداز معاشرت مگر کامیاب نظام ـ ایسی معاشرت میں ہم جیسے دقیانوسی لوگ اپنے معاشرے کو اس کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے جیسے شکنجے میں کسے جاتے ہیں ـ مگر ان کا نظام ہماری سوچ میں کہیں جگہ نہیں پاتا ہم ویسے ی رشتے تعلق نبھاتے ہیں جیسے اپنے ملک میں کیونکہ ہم مسلمان اسلام پر نگاہ رکھتے ہیں ـ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ہمیشہ ہی اس مقام سے کوسوں دور نظر آتے ہیں جس بلندی پے یہ قومی یا ان کی سوچ سے متفق لوگ ترقی کر کے پہنچتی ہے ـ جس میں والدین صبح سے شام تک مشین بنے کام پر جاتے ہیں اور بچے نظام کی مضبوطی سے ملحق اداروں میں سکول پھر کالج پھر یونیورسٹی پہنچتے ہیں ـ بے خوف و خطر ذرائع آمد و رفت بے فکری سوچ میں اور کامیابی ان کا ہدف لہٰذا اسی نظام کے تحت تمام سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچے اپنے آپ ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ زندگی گزار کر اپنی محنت ملک کیلیۓ وقف کر کےبڑہاپے کی دہلیز پر پہنچ کر یہ ریٹائرمنٹ کی رقم کے ساتھ پرسکون محفوظ زندگی گزارتے ہی ـ یہ خود اپنے بچوں کے پاس رہنے کی بجائے کی بجائے اولڈ ہومز جانے کو ترجیح دیتے ہیں ـ تا کہ ان کے بچے ملک کی تیز رفتار ترقی میں بلا روک ٹوک ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں ـ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں دنیا ان کیلیۓ ہے قرآن پاک نے وضاحت سے سمجھا دیا لہٰذا کامیابی اور ترقی ان کی سوچ میں نظام کی صورت ڈھال دی گئی ـ یہ چیختی چِلاتی عورت جس نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا یہ ہے تو مسلمان مگر اس کی کہانی یورپی کرداروں سے ملتی جلتی ہے ـ مردانہ وار انتھک کام کرتے کرتے اس نے ترقی حاصل کی خود فخر سے کہتی تھی کہ شوہر کے ساتھ مل کراس سے بڑھ کر عمر بھر کام کیا۔

اللہ پاک نے 3 پیارے بیٹے عطا کئے بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے اکثر ہی اسکے بچے از خود سکول سے گھر آتے سینڈوچ بناتے اور واپس چلے جاتے ـ سادہ طرز زندگی دن رات دونوں نےخوب محنت سے لگن سے کام کیا ـ خوب پیسہ بنا لیا ـ بیوی اب تھکی تھکی سی رہنے لگی اور کمزور ہوتی بھی دکھائی دینے لگی ـ ایک روز پوچھنے پر بولی کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے درد میں مبتلا ہے اور کانوں میں سخت انفیکشن ہے ـ ڈاکٹر نے مستقل بیماری کا کہ کر کام سے منع کر دیا ہے ـ اس وقت یہ دوسرا ریسٹورنٹ پیرس میں خرید چکے تھے ـ شوہر صبح نکلتا رات گئے آتا ـ ایک روز کوئی کام تھا میرے میاں گئے اور اس کے شوہرسے بات کرنا چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ تو 5 ماہ قبل طلاق دے کر کسی اور سے شادی کرچکا ہے۔

Life

Life

بہت صدمہ ہواسن کر مگر کبھی بھی اسے دیکھ کر جتلایا نہیں ـ شوہر نے پیرس والے ریسٹورنٹ کے او پر ہی رہائش اختیار کر لی اور اس نے جیسے حالات سے سمجھوتہ کر لیا اور اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارنی شروع کی ـ سوچیں !! 3 بیٹے یورپ کا ماحول بچپن ان کا والدین سے الگ گزرا رات کودونوں دیر سے آتے تھے ـ اب اسکے کس قدر مشکل ہوگا ٹوٹا ہوا رابطہ بحال کرنا؟ شوہر کا گھر میں خاص رعب ہوتا ہے خصوصا لڑکوں کو قابو میں رکھنا ماں کیلئے شائد مشکل ہے مگر اس نے گھر کا نظام سنبھالا ـ کئی سال گزر گئے جب کبھی اچانک ملاقات ہوتی تو اس کے سرخ وسفید چہرے پے نامعلوم تفکر کی لکیریں بڑہتی دکھائی دیتیں ـ خیر خیریت سے زیادہ بات نہیں ہوتی تھی مُبادا آنکھوں میں ضبط کئے ہوئے صبرکے لمحے آنسو بن کر اُبل نہ پڑیں ـ کچھ عرصہ سے وہ خاصی پریشان افسردہ غمزدہ دکھائی دے رہی تھی ـ بیٹوں کی اپنی مصروفیات بڑہتی جا رہی تھیں ـ تعلیمی سفر جلد ہی ختم کر کے سب بیٹے کام کر رہے تھے۔

اندرونی مسائل بیرونی چہرے سے دیکھے جا سکتے تھے ـ مگر محرم کے روزے کے ساتھ چیختی چِلاتی روتی ماں کے ساتھ بد تمیزی کرتا اس کا نوجوان بیٹا آج بتا گیا کہ یورپ کی عورت بھی ایشین عورت کی طرح بے بس ہے ـ کب اسکا شوہر اس کو بغیرکسی مناسب عذرکے زندگی کے کس دوراہے پر تنہا چھوڑ دے کوئی نہیں جانتا ـ اولاد تحفة عموما عورت کے حصہ میں آتی ہے کہ وہ ہزار پریشانیوں میں سے گزرے مگراولاد پرآنچ نہیں آنے دیتی ـ کربلا مسلسل ہے میرے گرد وہی یزیدی رویے وہی اپنے کچھ ہونے کا غرور اور دوسری جانب لاچاری بیچارگی اور حسینیت کی عاجزی ـ کربلا صرف وہی نہیں تھی جو حسین ؓ پر ٹوٹی کربلا تو آج بھی ہر ظالم طاقتور توڑ رہا ہے ضروری نہیں کہ ہر کربلا کا عنوان یزید ہی ہو آجکل یزیدی رویے اس ملعون کو زندہ رکھتے ہیں۔

بے بسی کی تصویر بنی یہ عورت کتنی دیر تک دروازے میں بیٹھی سسکیاں بھرتی رہی یہ نہ اس کا بیٹا دیکھ سکا نہ ہی وہ ظالم انسان جو ذمہ داریوں سے آزاد زندگی گزار رہا ہے ـ یہ کیسے وقت کو گزار رہی ہے کون جان سکتا ہے اور ستم بالائے ستم اُس دن وہ روزے سے تھی ـ کربلا حسین ؓ کے نام سے جانی جاتی ہے مگر اس کے انداز اور رخ ہمارے سامنے”” محرم “”کے علاوہ بھی دن رات دیکھے جا سکتے ہیں ـ یہی کربلائے مسلسل ہے ـ کل کی کامیاب یورپین آج کی کمزور تنہا عورت اس کا مستقبل کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا عمر بھر کی محنت کا صلہ شوہر نے جو دیا مستقبل میں بیٹے بھی وہی دیتے دکھائی دے رہے ہیں ـ کل شوہرتھا آج بیٹا ہے ـ یہی کربلائے مسلسل جاری ہے۔

Shah Bano Mir Adab Academy

Shah Bano Mir Adab Academy

تحریر : شاہ بانو میر