کراچی کی خبریں 6/8/2016

Patti Aeyadat Haneef Muhammad

Patti Aeyadat Haneef Muhammad

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت کی طرف سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پوری قوت سے اٹھانے کے اعلان پر فوری اور پوری توانائی سے عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے محب وطن روشن پاکستان پارٹی کے قائد و چیئرمین امیر پٹی نے کہا کہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ سوئی ہوئی کشمیر کمیٹی کو بیدار کیا جائے اور دنیا کو کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے پوری طرح باخبر کرتے ہوئے بھارت کیخلاف عالمی مہم چلاکر اقوام متحدہ کو کشمیر میں استصواب رائے کی اپنی قراردادوں پر بھارت سے عملدرآمد کرانے کیلئے مجبور کیا جائے کیونکہ بھارتی مظالم کیخلاف نصف دہائی سے زائد عرصہ سے جدوجہد قربانیوں کی عظیم تاریخ رقم کرنے والے کشمیریوں کی جدوجہد اپنے منطقی مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور بھارت کیلئے مزید تادیر کشمیر پر اپنا جبری قبضہ قائم رکھنا ممکن نہیں رہا ہے ۔ ان حالات میں کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پاکستان کے مخلصانہ ‘ دلیرانہ ‘ مثبت اور عالمی کردار کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سائبر کرائمز بل کی منظوری کیلئے قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں مبصر کی حیثیت سے امریکی سفارتی عملے کی موجودگی یقینا حیرت انگیز‘ تشویشناک اورسیکورٹی و محافظ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ گجراتی قومی موومنٹ کے سربراہ گجراتی سرکار امیر سولنگی عرف پٹی والا المعروفس سورٹھ ویر نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے سفارتکار بھی کبھی امریکہ کی ایسی کمیٹیوں کے اجلاس میں بطور مبصر شریک ہوئے ہیںجبکہ پاکستان میں اگر ایسے اجلاسوں میں این جی اوز اور غیر ملکی مبصرین کی شرکت کی روایت ہے تو اس کیلئے کوئی ضابطہ کار بھی ہو گامگر مذکورہ اجلاس میں چیئر مین سینٹ ہی نہیں بلکہ صدر میٹنگ بھی مبصر نما امریکی سفارتی عملے کی موجودگی سے بے خبر تھے ۔ امریکی سفارتکاروں کا یوں سینٹ کمیٹی کے اجلاس میں جا کر براجمان ہو جانا قطعی مناسب نہیں ہے۔ سائبر کرائمز کے حوالے سے کمیٹی کو کسی مشاورت کی ضرورت ہے تو وہ کسی سے بھی رابطہ کر سکتی ہے یوں امریکیوں کا کمیٹی اجلاس میں گھس جانا حساس اور نازک قومی معاملات پر امریکہ کی ڈکٹیشن کے مترادف ہے۔ جن لوگوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ایسا ہوا انکے کڑے محاسبہ کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ قومی خودمختاری میں کسی کو مداخلت کا موقع نہ مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان راجونی اتحاد میں شامل ایم آر پی چیئرمین امیر پٹی ‘ خاصخیلی رہنما سردار غلام مصطفی خاصخیلی ‘ سولنگی رہنما امیر علی سولنگی ‘راجپوت رہنما عارف راجپوت ‘ ارائیں رہنما اشتیاق ارائیں ‘ مارواڑی رہنما اقبال ٹائیگر مارواڑی ‘ بلوچ رہنما عبدالحکیم رند ‘ میمن رہنما عدنان میمن‘ہیومن رائٹس رہنما امیر علی خواجہ ‘خان آف بدھوڑہ یحییٰ خانجی تنولی فرزند جونا گڑھ اقبال چاند اور این جی پی ایف کے چیئرمین عمران چنگیزی نے حکومت سے بلدیاتی اداروں کی جلد سے جلد تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ایک مدت گزرچکی ہے مگر ابتک اس نظام کا فعال نہ ہونا اور منتخب عوامی نمائندوں کو اختیارات نہ ملنا حکمرانوں کی جانب سے اس نظام کو قبول نہ کرنے کی چغلی کھارہا ہے اور حکمران شو آف ہینڈز اور خفیہ رائے شماری کے چکر میں الجھاکر میئرز و ڈپٹی میئرز کے انتخاب کو التوا ¿ و تاخیر کا شکار کررہے ہیں ۔ حکومت کو بلدیاتی نظام میں مزید روڑے اٹکانے سے گریز کرنا چاہیے اور اسے آپریشنل کرکے عوام کو اس سے مستفید ہونے دینا چاہیے۔ بلدیاتی نظام کی کامیابی درحقیقت جمہوری نظام کی کامیابی ہے کیونکہ جمہوریت کی عمارت بلدیاتی نظام کی بنیادوں پر ہی کھڑی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی نیت اگرصاف اور وہ سنجیدہ ہوتاتو یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتامگر ایسا ہر گز نہیں ہے جس کا ثبوت سارک کانفرنس سے بھارتی وزیر داخلہ سارک کافرار اور اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات سے گریزہے ۔پاکستان سولنگی اتحاد کے سینئر و بزرگ رہنما امیرعلی سولنگی ‘ پنجاب کے صوبائی صدر ملک نذیر سولنگی‘ سولنگی اتحاد کے سینئر رہنماوں وعمائدین معین سولنگی ‘ عمر سولنگی ‘غلام نبی سولنگی‘اصغر علی سولنگی ‘سبحان سولنگی‘محمد ذبیر سولنگی‘حبیب خان سولنگی ‘اکرم سولنگی‘برخوردار سولنگی‘شفقت نذیر سولنگی‘ اکرم سولنگی ‘ شبیر سولنگی ‘ راحیل سولنگی ‘ خادم حسین سولنگی ‘ ایڈوکیٹ کرم اللہ سولنگی ‘ ایڈوکیٹ اقبال سولنگی‘ رمضان سولنگی ‘ بشیر سولنگی ‘ ارشاد سولنگی ‘ گل شیر سولنگی‘ عابد سولنگی ‘ ندیم سولنگی ‘ عباس سولنگی‘ ایاز سولنگی ‘ نعمت اللہ سولنگی ‘ صالح سولنگی ‘ ڈاکٹر قدیر سولنگی و دیگر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کم و بیش سات دہائیوں سے موجود ہے۔ پاکستان اسکے حل کے کوشاں جبکہ بھارت اس سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے اسلئے ۔ ان حالات میں بھارت کیساتھ تجارت تو کیا دوستی اور تعلقات بھی نہیں رکھنے چاہئیں!۔