کشمیر کانفرنس نے تحفظات کے ساتھ CPEC کو مکمل طور پر مسترد کردیا

Conference China Pakistan Economic Corridor London UK

Conference China Pakistan Economic Corridor London UK

لندن ( ایس ایم عرفان طاہر سے ) جموں و کشمیرا ینڈیپنڈنٹ پیپلز الائنس کے زیر اہتمام مقامی لائبریری ہال میں موجودہ چائنہ پاکستان اکنامک کو ریڈور اور جموں و کشمیر کے موضوع پر ایک اہم کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد درحقیقت چائنہ اور پاکستان اکنامک کو ریڈورکے جموں و کشمیر اور گردونواح میں بسنے والے ممالک پر گہرے اثرات بارے آگاہی فراہم کرنا تھا اس موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں چیئرمین یونائیٹیڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی ( یو کے پی این پی ) و سیکرٹری جنرل جمو ں و کشمیرا ینڈیپنڈنٹ پیپلز الا ئنس (جے کے آئی پی اے ) سردار شوکت علی کشمیری نے کہاکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو پس پشت ڈال کر چائنہ پاک اکنامک کوریڈور قابل قبول نہیں۔

جنوبی ایشیائی خطے کو سرد جنگ اور دہشتگردی میں جھونک کر کوئی بھی میگا پر وجیکٹ پا ئیہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ، آزادکشمیر اسمبلی نے ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی کو غیرقانونی طور پرپاکستانی حکومت کی ایماء پر نکال کر اپنی حیثیت واضح کردی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یو کے پی این پی ریاست جمو ں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور قیام امن کی بات کرتی ہے۔ جب بھی کشمیری عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو دشمنوں کو بے نقاب کرنے میں اپنی ذمہ داری پو ری کریں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ جس ملک کے اندر بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ حاصل نہیں ہے تو اس میں کوئی بھی بڑے سے بڑا منصوبہ عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب نہیں کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دہشتگرد جو حکمران طبقے یا مقتدر قوتوں کے خلاف ہیں ان کے خلا ف تو اقدامات اٹھا ئے جا تے ہیں لیکن جن دہشتگردوں سے عام لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے ان کو کھلی آزادی دے دی گئی ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ چائنہ پاک اکنامک کوریڈورکو بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جا ئے تو اس 46 بلین ڈالر کے میگا پروجیکٹ سے سرفہرست تو فائدہ چین کو پہنچتا ہے اور اسکی پاکستان کی منڈی تک رسائی میں مزید وقت اور مسافت کی کمی بھی واقع ہوگی ۔ انہو ں نے کہاکہ پو رے خطے کے بنیا دی حقوق اور تحفظات کو روند کر محض دوممالک کے حکمرانوں کے مفاد کی خاطر یہ سارا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ محض اس منصوبہ کی کامیابی کی خاطر قیمتی جنگلا ت کو تباہ کیا جا رہا ہے اور گلگت بلتستان کے اندر موجود گلیشئیرز کے پگلنے سے اس علاقہ میں موسم کی تبدیلی اور دیگر خدشات کو بھی مد نظر رکھا جا نا چا ہیے۔

انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کے خلا ف آواز اٹھا نے والوں کو آرمی اور خفیہ اداروں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان سے آزادی اظہار کا حق چھین لیا گیا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ عام آدمی کے جذبات احساسات اور خیالات کو سبوتاژ کرتے ہو ئے کوئی بھی میگا پروجیکٹ قابل عمل نہیں ہو سکتا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس منصبو بے پر عملدرآمد سے قبل جنوبی ایشیاء پر اس کے مثبت اور منفی اثرات کے حوالہ سے حکمت عملی اپنا نا بے حد ضروری ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس منصبو بے کی کامیابی اور گراس روٹ لیول تک اسکے ثمرات پہنچا نے کے لیے کشمیری سٹیک ہولڈرز کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا بے حد ضروری ہے۔

اس موقع پر سرورحسین چیف ایڈیٹر دی نیشن لندن ،سردار امجد یوسف صدر یو کے پی این پی یو رپ ،جمیل لطیف جنرل سیکرٹری یو کے پی این پی برطانیہ ،چو ہدری عبد الرشید ، ظفراقبال ، Cynthia Poyton ، مبارک بٹ ، راجہ ظہور اقبال ، راجہ رشید خان، راجہ اکرم خان، قمر خلیل جنرل سیکرٹری یو کے پی این پی برمنگھم ، رازق شفیق آرگنا ئزر یو کے پی این پی لندن ، سردار ساجد نواز اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ سیمینار کے میزبان عباس بٹ چیئرمین کشمیر نیشنل پارٹی نے کہاکہ چائنہ پاک اکنامک کوریڈورکے براعظم ایشیاء کے رہنے والوں پر گہرے اثرات مرتب ہو نگے۔ انہو ں نے کہاکہ چائنہ اور پاکستان کو اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ باالعموم ایشیائی ممالک اور با الخصوص گلگت بلتستان کے حقوق کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا ۔ انہو ں نے کہاکہ اس منصوبے کے آغاز سے گلگت بلتستان کے موسم پر تبدیلی واقع ہوگی ۔ چائنہ پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات بہتری کے ساتھ ساتھ کشمیر پالیسی پر بھی غور کرنا ہو گا اور اس خطہ میں بسنے والی دوسری اقوام کے معاشی سفارتی اور سیاسی مفادات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔

معروف برطانوی سکالر پر وفیسر ڈاکٹر آزاد ملک کا کہنا تھا کہ گوادر ائیرپورٹ سے چائنہ تک آغاز پذیر ہو نے والے اس اہم منصوبہ سے اس خطہ میں تعمیرو ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا 8 ممالک پر اس کے منفی یا مثبت اثرات مرتب ہو نگے اس سے نہ صرف اس خطے کا انفراسٹریکچر بہتر ہو گا بلکہ معاشی استحکام بھی پیدا ہو گا ۔ اس منصوبے سے قبل دہشتگردی اور انتہا پسندی کے حوالہ سے جاری کردہ آپریشن ضرب عضب پائیہ تکمیل تک پہنچ جا ئے گا اور دہشتگردی کے اس آپریشن کے اختتام پر تعمیر وترقی کا آغاز خوش آئند ہے گلف ریجن اور یو رپ تک رسائی کے لیے گوادر پورٹ کے زریعہ سے آسانی پیدا ہو گی چائنہ اس پورٹ کے زریعہ سے خطے میں امریکہ اور بھا رت کی نقل و حرکت کا بخوبی جا ئزہ لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس میگا پر وجیکٹ سے سب سے زیادہ فائدہ صوبہ پنجاب کو ہو گا ۔ عوام الناس کو روزگار کے مواقع فراہم ہو نگے اس حوالہ سے اس منصوبہ سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو تحفظ فراہم کر نے کے لیے دونوں ممالک کو اقدامات اٹھا نے ہونگے پاکستانی حکومت خالصتا اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے 12000 ہزار سپیشل فورسز مہیا کرے گی ETIM ، TTP ، ISIS اور باغی بلوچ قبائل کی اس خطہ میں موجودگی بھی قابل غور ہے جس کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے انہو ں نے کہا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز ملک کی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی معاملا ت کے حوالہ سے کارآمد شخص نہیں رہے جو شخص 80 برس سے اوپر ہوگیا ہے اسکا ذہن قدرتی طور پر مفلوج ہوچکا ہے جس کی بناء پر وہ کوئی بھی بہتر اقدامات نہیں اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس میگا پر وجیکٹ کو سب سے زیادہ خطرہ بھا رت کی طرف سے لاحق ہے اسکے علاوہ پاک افغان بارڈ رپر بھی تحفظات موجود ہیں اگر یہ منصوبہ چلنے لگتا ہے تو اس سے دونوں ممالک خطہ میں مثبت سرگرمیوں میں مصروف عمل ہو جا ئیں گے ۔رہنما جے کے ایل ڈی پی جنید قریشی نے کہاکہ اس میگا پروجیکٹ کے مضر اثرات مسئلہ کشمیر پر گہرے مرتب ہونگے جن لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے پہلے انکی اہمیت اور موجودگی کو مد نظر رکھنا ہو گا ۔ انہو ںنے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے قدرتی وسائل سے استفادہ حاصل کرنے سے قبل کشمیری قوم کے حقوق اور مفادات کا بھی خیال رکھنا ہو گا ۔ انہو ںنے کہاکہ چائنہ اور پاکستان اس خطہ میں ایک نئی گیم شروع کرکے اس دیرینہ مسئلہ کو دبانا چاہتے ہیں جس کو اجا گر کرنے اور دوسری اقوام کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کے لیے اپنی قومی اور ملی ذمہ داری نبھانا کشمیری جا نتے ہیں۔

پر وفیسر اعجاز پراچہ نے کہاکہ خیبر پختونخواہ اور دیگر صوبوں کو نظرانداز کرکے محض پنجاب کو فا ئدہ پہچانے کی خا طر یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ قدرتی وسائل کا غیر منصفانہ استعمال اور مخصوص طبقے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہو ئے کوئی بھی میگا پر وجیکٹ پو را نہیں ہو سکتا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ خیبر پختو نخواہ کی عوام کو بحرانوں اور مسائل کا شکا ر بنا کر تمام تر تعمیرو ترقی کا رخ صوبہ پنجاب کی طرف موڑا جا رہا ہے جس کے منفی نتائج مرتب ہونگے ۔ محمد عارف آجا کیانے کہاکہ پاکستان امریکہ اور سعودیہ کے ساتھ بے تحاشہ وقت ضائع کرنے کے بعد اب چائنہ سے اذدواجی تعلقا ت شروع کرنے جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ حکمران طبقہ کی نا انصافیوں اور بد دیانتی کے باعث صورتحال دن بدن پستی و تنزلی کی طرف جارہی ہے۔

سندھ کے عوام کو مکمل طو رپر نظر انداز کیا جا رہا ہے انہیں مشکلا ت مصائب اور رنج و الم میں دھکیل کر اپنے ذاتی مفادات کی طرف کوشش جا ری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کیلیے گذشتہ کئی سالوں سے ایک سڑک بھی تیا ر نہیں کی گئی ہے اور جبکہ پنجاب کے اندر سٹرکوں پلوں اور تعمیرات کے جال بچھا ئے جا رہے ہیں انہو ں نے کہاکہ سند ھ کے عوام اتنے بیوقوف نہیں ہیں کہ جو ان لوگوں کی ناانصافیوں کو مسلسل برداشت کرتے رہیں۔ انہو ں نے کہاکہ سندھ نے پاکستان کی معشیت کو استحکام بخشا لیکن اس کی عوام کے ساتھ تاحال ناروا سلوک جاری ہے انہو ں نے کہاکہ نبوت کا سلسلہ اگر رکتا نہ تو پاکستانی عوام جنرل راحیل شریف کو بھی نبی کا درجہ دے دیتی ۔ انہو ں نے کہاکہ آمریت کے پروردہ کیسے کسی کی تکلیف اور مسائل کو سمجھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پہلے تو جنرل ضیاء الحق کوامیر المومنین بنایا گیا اور پھر اس نے پاکستان کے اندر انتہا پسندی فرقہ واریت اور اسلام کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم کیا اسکے بعد دوسرے آمر جنرل پرویز مشرف کو پاکستانی عوام نے اپنے سر کا تاج بنایا جب اس نے بھی انکو ڈنگ ما را تو آج پھر اسی ڈگر پر چلا جا رہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ انہیں کمیشن اور کرپشن کے لیے تعمیر و ترقی کے منصوبے تو دکھائی دیتے ہیں لیکن خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے دیگر حصوں میں قائم وہ مدرسے نظر نہیں آتے جو کہ دہشتگرد اور انتہا پسند پیدا کرنے میں مصروف ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ حکومت پاکستان کو مولانا فضل الرحمن ، سمیع الحق اور مولانا عبد العزیز جیسے دہشتگردوں کو پروان چڑھا نے والے اور عوام الناس کی زندگیوں کو جہنم بنا نے والے لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ کے نام نہاد مجا ہد دکھائی نہیں دیتے ہیں جنہوںنے پاکستان کو خو ن اور آگ کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔

جب تک عام آدمی کے حقوق کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا ئے گاجا ن و مال کی بقاء حاصل نہ ہوگی تو بد امنی اورا فرا تفری کا سلسلہ جوں کا توں چلتا رہے گا اور یہ نیا منصوبہ پا ئیہ تکمیل تک پہنچتا ہو ا دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ شیر باز بلو چ نے کہاکہ بلوچستان کی آزادی پاکستان سے تین دن پہلے ہوئی تھی لیکن تا حال پاکستانی حکومتوں کی نا انصافی اور بدیا نتی کی وجہ سے سنگل بلوچ بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کرتا ہے 40 ہزار سے زائد بلوچی لا پتہ ہیں 14 ہزار سے زائد مسخ شدہ لا شیں ملی ہیں وہا ں پر ہر شخص محرومی و مجبوری کی ایک تصویر بنا ہو ا دکھائی دیتا ہے پاکستانی خفیہ ادارے آزاد بلوچوں کو غلام نہیں بنا سکتے ہیں۔

پاکستان اپنے استحکام اور معشیت کو مضبوط بنا نے کے لیے گلگت بلتستان سمیت بلوچوں کو انکا حق آزادی اور بنیا دی حقوق دے۔ چیئرمین جمو ں و کشمیرا ینڈیپنڈنٹ پیپلز الا ئنس محمود کشمیری نے کہاکہ کشمیر ی قوم کو غلام بنا کر پاکستان کوئی بھی تعمیر وترقی کا منصوبہ کامیاب نہیں بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اپنے ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ اس خطہ میں رہنے والے دوسرے افراد کو بھی اہمیت دینا ہو گی۔ رضوان صدیقی رہنما جموں و کشمیر عوامی نیشنل پارٹی نے کہاکہ پاکستان جب کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرتا ہے تو اس کی زمین پر بغیر اجازت کے اسکا کوئی بھی منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے اس منصوبہ میں چائنہ پاکستان اور کشمیر کا برابر حصہ ہونا چاہیے۔ سمینا ر کے اختتام پر 6 نکاتی قرار داد بھی پیش کی گئی جو اکثریتی حمایت کے ساتھ منظور کرلی گئی۔