مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کی کمزرور حکمت عملی سے کشمیری عوام میں مایوسی کی کیفیت طاری ہے۔ مسفر حسن

Musafar Hassan

Musafar Hassan

برنلے (پ- ر) مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کی کمزرور حکمت عملی سے کشمیری عوام میں مایوسی کی کیفیت طاری ہے، نریندر مودی کے دورہ سعودی عرب سے قبل ہندوستان کے حق میں اقدامات کرنا اس کمزور پالیسی کی عکاسی ہے حکومت پاکستان آج بھی اگر مسئلہ کشمیر پر محمد علی جناح کی پالیسی اختیار کرے تو حالات تبدیل ہو سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار لبریشن لیگ برطانیہ کے صدر ڈاکٹر مسفر حسن نے اپنے بیاں میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تحریک آزادی کو 1990 میں کشمیری نوجوانوں نے لازوال قربانیاں رقم کرکے ایک نئی جہت دی جس کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں لیکن ایں عظیم قربانی کے باوجود آج بھی کشمیریوں کی مبنی پرحق تحریک کو بین الاقوامی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جو ان قربانیوں کا تقاضہ تھا انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کا فقدان ہے۔

انہوں نے حال ہی میں امریکہ کی جانب سے وزیراعظم ہندوستان مودی کے دورہ سعودی عرب سے قبل جس پالیسی کا اخیا کیا ہے وہ کشمیری قوم کیلئے کسی تازیانے سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے ایک سیاسی حکمت عملی وضع کی تھی جس کے تحت مظفر آباد میں ہری سنگھ کی باغی حکومت قائم ہوئی تھی لیکن محمد علی جناح کی وفات کے فوراً بعد پاکستان کے سرکاری ملازمین نے اس حکمت عملی سے انحراف کیا۔

1961 میں محمد علی جناح کے سیکرٹری اور تحریک پاکستان کے ہیرو جناب کے ایچ خورشید نے اس پالیسی کا احیا کرنے کی کوشش کی تو وہی سرکاری ملازم پھر راستے کی رکاوٹ بن گئے حالانکہ اگر 1962 میں جناب خورشید کی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا گیا ہوتا تو یہ صرف کشمیر آزاد ہوتا بلکہ پاکستان خطے کا مضبوط اور خوشحال ملک ہوتا۔

انہوں نے حکومت پاکستان کے ذمہ داروں سے کہا کہ کشمیریوں کی روائتی روش ترک کرکے کشمیر دوست پالیسی اختیار کرے اور مظفر آباد حکومت کو پوری ریاست کے عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کرکے کشمیریوں کے منتخب نمائندوں کو اپنی تحریک میں ایک فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے اگر حکومت پاکستان کے ذمہ داروں نے اپنی موجودہ روش تبدیل نہ کی تو پھر پاکستان کی اپنی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو جائیں گے۔