مسئلہ کشمیر کی آڑ میں مفاداتی ٹولہ اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہے، انجم جرال

Press Conference Anjum Jarral

Press Conference Anjum Jarral

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) مسئلہ کشمیر کی آڑ میں مفاداتی ٹولہ اپنی سیاست چمکا نے میں مصروف ہے ، جو لوگ اپنی عورتوں کی عزتیں تا ر تار کرنے والے ہیں ان سے بھلا کشمیر کی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالہ سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ، با العموم برطانیہ اور با الخصوص اسلام میں عورت کو جو عزت اور مقام دیا گیا ہے جو لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے تو وہ مسلمان کہلوانے کے بھی لائق نہیں ہیں ۔ ان خیالات کا اظہا ر مشیر وزیر اعظم آزادکشمیر انجم جرال نے مقامی ہال میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران الیکٹرانک اور پر نٹ میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا اس موقع پر دیگر خواتین اور اوورسیز مشیر وزیراعظم آزادکشمیر محمد سعید مغل ایم بی ای بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔

انجم جرال نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خلا ف جو افراد احتجاج کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے وہ قابل احترام ہیں لیکن جو لوگ مسئلہ کشمیر کے نام سے گذشتہ طویل عرصہ سے کمیونٹی کوبر ادری ازم اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر تقسیم کرکے محض اپنے مفادات اٹھا رہے ہیں انکا احتساب بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دوگروپوں کے دو دن علیحدہ علیحدہ احتجاج رکھنے سے احتجاج میں عوام الناس کی تعداد میں خاصی کمی واقع ہوئی تھی اگر یہی احتجاج کسی ایک دن ملی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہو ئے کیا جاتا تو خا طر خواہ نتائج برآمد ہو تے۔

انہوں نے کہاکہ کوئی بھی تحریک اور سیاسی اقدام کامیاب نہیں بنایا جا سکتا ہے کہ جب تک خواتین اس میں شمولیت اختیار نہ کریں مسئلہ کشمیر کو شہید ذوالفقا ر بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو شہید نے دنیا میں اجا گر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور خواتین کے حوصلے بلند کیے ۔ انہو ں نے کہاکہ جو خواتین محض کشمیر کاز کی خاطر مخلصانہ اور رضاکا رانہ طور پر اینٹی مودی احتجاج میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے گئی وہا ں انکو برابری کی سطح پرنما ئندگی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا ۔ انہو ں نے کہاکہ جو گھریلو خواتین وہاں سردی اور موسم کی خرابی کے باوجود طویل سفر کرنے کے بعد پہنچیں تو انہیں نظر انداز کیا گیا انہیں سٹیج پر بولنے کا نہ ہی موقع فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی خا طر خواہ عزت دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ جو لوگ عورت کی عزت کرنا نہیں جا نتے تو وہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے یا کسی بھی مثبت اقدام میں کیا مو ئثرکردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 13 نومبر کو منعقدہ اینٹی مودی احتجاج کے دوران جب انتظامیہ اور فہیم سے خواتین نے اپنی نمائندگی کا حق مانگا تو انہو ں نے نہ صرف بد تمیزی کرنا شروع کردی بلکہ سیکیورٹی کے زریعہ سے انہیں ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی گئی ۔ انہو ں نے کہاکہ جو ما ں بہن اور بیٹی کے روپ میں موجود عورت کو عزت و احترام نہیں دے سکتے تو وہ بھلا کشمیر کی آزادی یا مجبور و مظلوم کشمیری قوم کو کیا پیغام دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جو کشمیر کاز کی آڑ میں پیسہ اکھٹا کرتے اور اپنی پسند نہ پسند کا خیال رکھتے ہو ئے آزادی کے نعرے لگا تے ہیں ایسے افراد کو منظر عام پر لانا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ کشمیر کاز سے مخلص خواتین پر کیچڑ اچھا لتے ہیں انہیں ایک بار اپنے گھروں میں موجود عورتوں پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ مدت سے ایسی منفی حرکات برداشت کرتے آئے ہیں لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہر اس شخص کو بے نقاب کریں گے جوکشمیر کے نام پر مفادات اٹھا تا اور خواتین کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔