مسلئہ کشمیر سلامتی کونسل کا نامکمل ایجنڈا ہے، حل کئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ شکیل چغتائی

M. S. Chughtai Victory

M. S. Chughtai Victory

جرمنی (APNAانٹرنیشنل نیواز/انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلنMCB یورپ کے مطابق جرمنی میں” یومِ سیاہ” کی یاد میں ٢٧ اکتوبر ٢٠١٥ء کو ،منگل کے روز، ڈھائی بجے دوپہر ،انڈر گرائونڈ اسٹیشن Kurfürsten Damm کے قریب برلن کی مشہور شاہراہ کو ڈام پر یادگاری چرچ کے سامنے پہلی مرتبہ” کشمیر فورم انٹرنیشنل” کے تحت ،کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف، انکے حق خود اختیاری کی حمایت میں اور مسلئہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ،جو مقررہ وقت پر شروع ہو کرڈیڑھ دو گھنٹے تک جاری رہا،جس میںبرلن وجرمنی میں قائم کشمیریوںو پاکستانیوں کی تنظیمات کے رہنمائوں نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ جرمنی میں کشمیریوںو پاکستانیوں کی تنظیمات پر مشتمل جرمنی کا اوّلین و فعال پلیٹ فارم ”کشمیر فورم”،جو ہر سال باقا عدگی سے ٢٧ اکتوبر کی یادمیں” یوم سیاہ” اور ٥ فروری کو ”یوم یکجہتی کشمیر” مناتارہا اور گزشتہ کئی برس سے ان مواقع پر احتجاجی مظاہروں،سیمینار ز ،جلسہ وجلوس کا اہتمام کرتا رہاہے،فورم کے مسائل اور تکنیکی وجوہات کی بناء پرفروری ٢٠١٥ء کے مظاہرے کے بعدشکاگو، USA میں قائم” کشمیر فورم انٹرنیشنل”میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اب کشمیر فورم کے تمام اراکین کشمیر فورم انٹرنیشنل کے زیر نگرانی،اس کی چھتری تلے جرمنی میںمسئلہ کشمیر کے حوالے سے کام کریں گے۔جس کی عالمی سربراہی محمد شکیل چغتائی کر رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرہ اعلان کے مطابق ڈھائی بجے شروع ہوا۔مظاہرین نے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،ان پرانڈین افواج کے کشمیریوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ، گرفتاریوں، ظلم وستم اور شہداء کی تصاویرنمایاں تھیں۔اسکے علاوہ ان پر”حق خود اختیاری” ،’ ‘غیر جانبدارانہ رائے شماری”، ”انڈین افواج کے انخلا”،”گرفتار کشمیری رہنمائوں کی رہائیُ” اور”کشمیر کی آزادی” کی حمایت نیز”ا نڈ یا کے غاصبانہ قبضہ” ، ”انسانی حقوق کی پامالی”،” ماورائے عدالت قتل”،” اغوا، عصمت دری وبہیمانہ تشدد” کے خلاف نعرے درج تھے۔

جبکہ بینر پرانڈین سیکورٹی افواج کے کشمیریوں پر مظالم کی مختلف تصاویر” مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا حال” کے عنوان سے موجود تھیں۔ پروگرام کے مطابق ٤ بجے شام مظاہرے کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا۔اختتام سے قبل خضر حیات تارڑ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ انڈیا کی غاصب افواج کشمیریوں کی تحریک آزادی پر قابو نہیںپا سکتیں۔ انشااللہ بہت جلد وادی کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔”

مظاہرے کے منتظم اعلیٰ محمد شکیل چغتائی نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو خراج تحسین پیش کیا اور مرکزی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ’ ‘میں ان کمیونٹی رہنمائوں اور دیگر افراد کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دوروز قبل کی جانے والی درخواست پراس علامتی احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔یہ کشمیر فورم انٹر نیشنل کا تعارف ہے۔انشااللہ آپ سب کے تعان اور کمیونٹی کی حمایت سے فورم کی سرگرمیاں جاری رہیںگی۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ریاستی دہشت گردی کے بعدمظلوم و مجبور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یہ مظاہرہ ناگزیر تھا۔ہم انکی جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کاحل تلاش کرنے کے لئے بڑی طاقتیں موثر کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کو اپنی منظور شدہ قراردادوںپر عمل درآمد کے لئے کوئی لائحہ عمل بنانا ہو گا۔مسلئہ کشمیراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا نامکمل ایجنڈاہے ،جسے حل کئے بغیردنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔وادی جموں و کشمیر میں بھڑکنے والی آگ آپ کے دروازے تک پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا امریکہ،برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو اپنی دوغلی پالیسی ترک کرکے جنوبی ایشیا میںامن کی خاطرانڈیا اور پاکستان کو مسلئہ کشمیر کے تصفیہ کے لئے رضامند کرنا چاہئے۔ یہی و قت کی آواز اور کشمیریوں کی پکارہے۔”خطاب کے بعد انہوں نے شہدائے کشمیر ،شہدائے پاکستان اور شہدائے کربلا کے لئے فاتحہ خوانی کروائی اور کشمیر کی جدجہد آزادی،پاکستان کی سلامتی،نیز خطہ میں امن و استحکام کی دعائیں مانگیں۔

مظاہرہ کے دوران پرنس محمدایربکان چغتائی نے راہ گزیروںمیں کشمیریوں پر مظالم کے بارے میں حریت کانفرنس کے تیار کردہ بروشر اور کشمیر فورم انٹرنیشنل کا تیار کردہ لیف لیٹ تقسیم کیا،نیز اپنا انٹرنیشنل کے لئے مظاہرے کی فوٹو گرافی کی۔

اس مظاہرے میں کشمیری و پاکستانی کمیونٹی رہنما، چیرمین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی وچیف کوآرڈینیٹرپاکستان عوامی تحریک یورپ محمد شکیل چغتائی؛ پیپلز پارٹی جرمنی کے رہنما، سابق نائب صدر پاک محمد مسجد ملک قیصر،پی پی پی برلن کے رہنما آصف شہزاد چٹھہ، پی پی پی رہنما و مدیرا علیٰ ویب سائٹ پاکبان ظہو ر احمد ؛پاکستان مسلم لیگ (ن) برلن کے رہنما تنویر خان جدون؛ ریجنل سربراہ ،برلن ،جرمن پاکستان فورم وزیر حسین ملک؛ صدر مجلس شوریٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل برلن ،سابق صدر پاکستان عوامی تحریک برلن ،خضر حیات تارڑ اور دیگر شا مل تھے۔