کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے, پیچھے نہیں ہٹیں گے

Injured

Injured

سرینگر (جیوڈیسک) انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر جیسے ابل پڑا ہو۔

ابھی تک وادی کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1300 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔

زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے لایا جا رہا ہے۔

سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں زخمی داخل کیے گئے ہیں۔ یہاں کوئی پیلیٹ گولی سے تو کوئی آنسوگیس کے شیل لگنے سے یا پھرگولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد بھرتی کیا گيا ہے۔

ہسپتال کے ایک وارڈ میں تقریبا 60 زخمی ہیں۔ ان میں سے بیشتر نوجوان ہیں جنھیں مظاہروں کے دوران گولیاں لگی ہیں۔

اننت ناگ کے ایک ایسے ہی نوجوان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ مظاہروں کا حصہ نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’جب میں نے یہ خبر سنی کہ برہان وانی ہلاک کر دیے گئے تو یہاں لوگ سڑکوں پر مظاہرہ کرنے لگے۔ اسی دوران سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔ میں دودھ لینے کے لیے نکلا تھا جس دوران میری آنکھ میں پیلیٹ لگا۔ میں گذشتہ چار روز سے ہسپتال میں ہوں۔ میں ایک آنکھ سے ابھی نہیں دیکھ پا رہا ہوں۔‘

اننت ناگ کے ہی ایک اور 21 سالہ نوجوان گذشتہ پانچ دنوں سے سرینگر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ ہسپتال میں موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اس نوجوان کے پیٹ اور دونوں بازوں میں گولی لگی ہے۔ جس وقت انھیں گولی لگی اس وقت وہ سیکورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے۔

انہوں نے کہا: ’جیسے ہی برہان کی موت کی ہم نے خبر سنی تو ہم سے رہا نہیں گیا۔ کئی لڑکے سیکورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے اور سیکورٹی فورسز ہم پر گولیاں برسا رہے تھے۔ اس دوران مجھے بھی گولی لگی۔ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 130 زخمی ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر چھرے لگے ہیں اور جن میں 10 سے 15 زخمیوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔

ریزیڈسنز ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر عادل کہتے ہیں: ’یہاں زخمیوں کی بڑی تعداد ایسی لائی گئی جن کے جسم کے اوپری حصوں پر چھرے لگے ہیں۔ ایک چار سالہ بچی کو بھی پیلیٹ لگا ہے۔

پانچ نوجوانوں کی حالت اب بھی نازک ہے۔ جن زخمیوں کو یہاں پر لایا گیا ان میں سے 80 فیصد ایسے تھے جن کی عمریں 18 سے 20 برس کے درمیان ہے۔‘

ایک زخمی کی گذشتہ چار دن سے دیکھ بھال کرنے والے بشیر احمد کہتے ہیں: ’گذشتہ چار دن سے میں نے یہاں جس کو بھی دیکھا ہے اس کے سر، چہرے، سینے یا پھر پیروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جو بھی زخمی یہاں لایا گیا اس کے جسم کے اوپری حصے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ سیکورٹی فورسز انھیں ہلاک کرنا چاہتے تھے۔‘