علمی مجلس کے زیر اہتمام شکیل اعظمی کے اعزاز میں شعری نشست

Poetry

Poetry

پٹنہ (کامران غنی) علمی مجلس بہار کے زیر اہتمام گزشتہ شام ممبئی سے تشریف لائے معروف شاعر شکیل اعظمی کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ نشست کی صدارت پروفیسر علیم اللہ حالی نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ علمی مجلس کے جنرل سکریٹری پرویز عالم نے انجام دیا۔اس موقع پر مہمان شاعر شکیل اعظمی نے اپنی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات بیان کئے۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بہارکی علمی و ادبی فضا بہت ہی سازگار ہے۔ خورشید اکبر اور عالم خورشید نے شکیل اعظمی کی شخصیت اور شاعری کے تعلق سے اپنے تاثرات پیش کئے۔نشست میں شکیل اعظمی کے علاوہ سلطان اختر، خورشید اکبر، پروفیسر علیم اللہ حالی، عالم خورشید، قوس صدیقی، اسرار جامعی، ابرار مجیب، ظفر صدیقی، احسن راشد، میر سجاد، کامران غنی صبا، معین گریڈیہوی،غلام ربانی عدیل، محمد نصر عالم نصر، نیاز نذر فاطمی اور عامر نظر نے بھی اپنے کلام پیش کئے۔

پرویز عالم کے شکریہ کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔پروگرام میں مشتاق احمد نوری، نواب عتیق الزماں، شاہد جمیل خاں اور ڈاکٹر نور الحق اعظمی سمیت کثیر تعداد میں باذوق سامعین موجود تھے۔ اس مخصوص شعری نشست میں پیش کئے گئے کلام کا منتخب حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا تا ہے۔
پڑھے لکھے ہو تو تلوار رکھ کے بات کرو
زبان والے زباں کو زباں سے کاٹتے ہیں

شکیل اعظمی
مجھے خبر بھی نہیں کیا قصور ہو گیا ہے
کہ آئینہ مرے چہرے سے دور ہو گیا ہے
سلطان اختر
صبا، خوشبو، ستارے، نور ، لہریں
چھپوگے چلمنوں میں جانے کب تک
علیم اللہ حالی
وہ ایک آئینہ چہرے کی بات کرتا ہے
وہ ایک آئینہ پتھر سے ہے زیادہ کیا
خورشید اکبر
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ہر سمت سیاہی
کیا اب کے چراغوں میں دھواں اور ہے کوئی
عالم خورشید
مزاج لذتِ نا آشنا شناس ہوا
تمام رات نئے ذائقے سے گزرے کیوں
قوس صدیقی
اب فقط شعر ویر کہتا ہوں
پہلے میں کام کاج کرتا تھا
ابرار مجیب
مسجد کو توڑ پھوڑ کے مندر بنا دیا
اب آبروئے شیوۂِ اہل وطن گئی
اور وہ شہید بابری مسجد ائے جامعی
دل میں کروڑوں صاحب ایماں کے بس گئی
اسرار جامعی
تقسیم گھر کو کرنے سے پہلے یہ سوچ لو
ایسا نہ ہو بڑھاپے میں بیٹا نکال دے
معین گریڈیہوی
زندگی کتنا آزمائے گی
آخرش وہ بھی ہار جائے گی
کامران غنی صبا
کتنا معصوم ہے اور کتنا فرشتہ سجاد
اپنے قاتل کو جو جینے کی دعا دیتا ہے
میر سجاد
بنا رہے ہیں بندوق گولی ڈھالتے ہیں
برائے امن کبوتر وہی اچھالتے ہیں
ظفر صدیقی
واقف ہیں گرچہ عشق کے اندھے کنواں سے ہم
نکلا ہے کون گر کے جو نکلے یہاں سے ہم
نیاز نذر فاطمی
یہ آشیانے تمہیں تو بہت سہانے لگے
اسے بنانے میں مجھ کو کئی زمانے لگے
نصر عالم نصر
اس فضائے نیلگوں میں گردشِ لیل و نہار
ائے خدا تیرے علاوہ کس کی یہ تخلیق ہے
غلام ربانی عدیل
پہچان اپنے رکھتے ہیں ہندوستاں سے ہم
دنیا کو موہ لیتے ہیں شیریں زباں سے ہم
احسن راشد
خرد قرار جو پائے تو ہم بھی دیکھیں گے
ہیں انتشار کے دامن میں مسئلے کیا کیا