کوہ نور فاؤنڈیشن، مونگیر کا علمی ،ادبی اور ثقافتی ترجمان ماہنامہ گل وصنوبر میڈیا کے افق پر

Gulo Sanobar

Gulo Sanobar

کوہ نور فاؤنڈیشن ،مونگیر کے دفتر میں میں ایک نشست رکھی گئی جس میں یہ بات طے پایا کہ کوہ نور فاؤنڈیشن مونگیر کا علمی ،ادبی اور ثقافتی ترجمان ”ماہنامہ گل و صنوبر”پھر سے ایلیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منظر عام پر آرہاہے ، یہ بہار کا واحدایلیکٹرونک رسالہ ہوگااس رسالے کو ہو بہو انٹر نیٹ کی دنیا میں ویب سائٹ www.kohenoorfoundation.org پر دیکھا اور پڑھا جاسکتاہے۔

آج کے سرعت رفتاری کے دور میں جہاں آنکھ کی پلکیں جھپکنے سے قبل ہی کوئی بھی انفورمیشن ایک جگہ سے دوسری جگہ چلی جاتی ہے۔ اس دور میں کسی بھی زبان کو زندہ اور تابندہ رکھنے کے لئے موجودہ ٹیکنکل وسائل سے جوڑنا بے حد ضروری ہے ،اِسی کے پیش نظر کوہ نور فاؤنڈیشن مونگیر کے چیئر مین مسرت کے ساتھ بتایا کہ ”گل و صنوبر ” پھر سے منظر عام پر آنے والاہے اور اس کے مدیراعلیٰ اعزازی عالمی شہرت یافتہ جناب قاسم خورشید صاحب ایس ،سی ،ای، آر،ٹی ہوں گے

موصوف کے اعزاز یہ میں یہ رسالہ اپنی توانائی کے ساتھ ، روحانی اور جسمانی ساخت کے ساتھ الیکٹرونک اور پڑنٹ میڈیا دونوں پرعنقریب منظر عام آنے والا ہے ۔ ماہنامہ گل وصنوبر کے قارئیں کے لئے فرحت ومسرت کا موقع ہوگا کہ خوبصورت انداز میں اور ایک بیٹھک میں پڑھاجانے والا واحد رسالہ پھر سے منظر عام پر آرہا ہے۔تمام اہل قلم سے گذارش ہے اپنا اپنا قلمی رشحات بھیج کر اس انوکھے انداز کے رسالہ میں جگہ بنائیں ۔جنا ب شکیل احمد شیدا نے بتایا کہ ”گل و صنوبر” کسی رسالہ کا ادبی نام ادب سے ذرا ہٹ کرہے لیکن اس کی وضاحت جناب نظام الدین قاسمی چیئر مین کوہ نور فاؤنڈیشن نے کی کہ ہندوستان میں فرقہ پرست عناصر اس بات پر مصر ہیں کہ جہاں جہاں بھی مسلم قدریں ہیں جو مسلمانوں کے شان و شوکت کی نشانی کا علم بردار ہے

ان کوچن چن کر مٹانے یا پامال کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔ مونگیربھی کسی زمانہ میں راجوں، مہاراجوں،سنت اور صوفیوں کا مسکن و دارالسلطنت رہاہے اوربنگال کا سپہ سالار”میر قاسم ” بھی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے مونگیر کی سرزمین پر جلوہ فگن تھے۔ یہ وہ پہلا فرما روا تھا جس نے انگریزوں سے لڑنے کے لئے توپ اور بندوق بنانے کا کارخانہ کھولا جو آج بھی باقی ہے۔

میر قاسم کے بچہ اور بچی کو میر قاسم کے قلعہ کے سرنگ کے منہ پرانگریزوں کی جابر و ظالم فوج نے ان کے دونوں معصوم بچے گل وصنوبرکو شہید کر ڈالا ان ہی کی یا د میں یہ ادبی اور ثقافتی رسالہ ” گل وصنوبر ” کے نام سے موسوم ہے تاکہ آنے والی نسلیں ہمارے اسلاف اور اسلاف کے معصوم بچوں کی خونی داستان کو سن کر اپنے حصلوں کو پر اور دل کو مضبوط کر کے وطن عزیز میں زندہ وپائندہ رہیں۔اور اُن فرقہ پرست لوگوں کو مہہ توڑ جواب دے سکیں جو ہمیں ہجرت کرنے کی بے سود بیان بازی میں مشغول ہیں۔