زبان اور ہماری صحت

Tounge

Tounge

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور
ہمارے چہرے کے اتار چڑھائو ہی ہماری صحت مند ہونے یا بیمار ہونے کا پتہ دیتے ہیں لیکن زبان سے بھی ہم اپنی صحت سے متعلق اندازہ لگا سکتے ہیں۔انسانی جسم میں دوسرے اعضاء کی طرح زبان بھی ایک عضو ہے۔کہتے ہیں کہ جب زبان چلتی ہے اور اس میں سے نکلے ہوئے تلخ جملے کسی کے دل کو تلوار سے بھی زیادہ زخمی کر دیتے ہیں۔اس لئے ہمیں بولنے سے پہلے سوچنا چائیے کہ اس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن آج میں آپ کو زبان کی رنگت سے متعلق یہ بتانے کی کوشش کروں گاکہ کس رنگ کی زبان سے کیا کیا بیماریاں ہو سکتی ہیں۔آپ اکثر جب بیماری کی حالت میں ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتے ہیں تو وہ طبعی آلات استعمال کرنے کے علاوہ آپ کی نبض اور زبان کو بھی دیکھتا ہے اس سے اس کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کی بیماری کی کیا نوعیت ہے یا آپ کس حد تک بیمار ہیں۔

چلیں اپنے اصلی موضوع کی طرف آتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کہ زبان کی رنگت سے کیسے صحت یا بیماری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ہم زبان کو تین حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں سامنے والا باریک حصہ،درمیانی حصہ اور آخری حصہ جو اندر کی طرف ہے۔اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اگر آپ صحت مند ہیں تو آپ کی زبان کی کیا رنگت ہو گی اس سے آپ اپنی اور اپنے گھر میں موجود افراد کی صحت کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں۔اگر آپ کی زبان کا رنگ سرخی مائل یا گلابی ہے تو آپ بالکل صحت مند ہیں یعنی آپ کا معدہ اور نظام انہظام اچھا کام کر رہے ہیں۔

سفید زبان:
اگر آپ کی زبان کی پرت پرسفید رنگ کی تہہ ہے ۔تو آپ یقیناً صحت مند نہیں ہیں ۔اس کی وجہ آپ کو قبض کا مرض لاحق ہونا بھی ہے۔اور قبض تمام امراض کی ماں کہلاتی ہے۔ایسی صورت میں اپنا علاج ضرور کروائیں۔سفید زبان دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے ۔سفید زبان ہو توٹوتھ برش سے صاف کریں لیکن اگر پھر بھی صاف نہ ہو تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔کیونکہ یہ ہمارے معدے کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔اور اگر نیم سفید ہو تو یہ بھی کسی مرض کا پتا دیتی ہے یعنی آپ کو پیٹ سے متعلق کوئی بیماری ہو سکتی ہے۔

Tounge

Tounge

سرخ زبان:
اگر زبان کا سرا نہایت سرخ ہو اور چمکدار بھی ہو تو ایسی صورت حال جسم میں کسی بیماری کا اشارہ دیتی ہے اور اگر بیماری بڑھنے لگے تو زبان کا سارا حصہ سرخ ہو جاتا ہے ۔بیماری کی وجہ سے آپ نیند کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ کو تھکاوٹ بھی محسوس ہو سکتی ہے۔اور اگر زبان اطراف سے سرخ ہو تو یہ تیز مصالحہ جات استعمال کرنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے ایسی صورت حال میں آپ تیز مصالحوں سے اجتناب کریں۔اس کی علامات میں جگر کی گرمی اور انتڑیوں کے امراض ہو سکتے ہیں۔اس کی ایک وجہ وٹامن کی کمی بھی ہے۔سرخ زبان ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے لہذا ہمیں پانیکی مقدار بڑھا دینی چاہیئے۔

جامنی زبان:
جامنی زبان زیادہ تر خواتین کی ہو سکتی ہے اس کی وجہ خواتین کے ماہانہ ایام ہو سکتے ہیں ان میں خرابی یا تکلیف اس کا باعث بن سکتی ہے۔اس کی دوسری وجہ وٹامن B2 کی کمی بھی ہے۔اس کے علاوہ ایسے افراد جن کو مستقل جسمانی درد رہتے ہوں ان کی زبان بھی جامنی ہو سکتی ہے۔

نیلی زبان:
نیلی زبان انتہائی خطرناک بیماریوں کا پتا دیتی ہے اس کا علاج فوری طور پر ہونا چائیے یہ زیادہ تر ایسے لوگوں کی ہوتی ہیجن کے نظام تنفس میں کوئی خرابی واقع ہو گئی ہو۔جیسے نمونیا،دمہ اور سانس کی بیمارں وغیرہ ہیں۔اور اگر زبان کی رنگت پیلی ہو تو یہ یرقان کی وجہ سے ہو سکتی ہے ۔اس کا علاج بروقت کرنا ضروری ہے ورنہ اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

کالی زبان:
کالی رنگت کی زبان کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔دانتوں کی صائی نہ کرنا،سانس کسے بدبو کا آنا وغیرہ ہیںاس کی اور کئی وجو ہات بھی ہو سکتی ہیں لیکن اس کے سا تھ ساتھ تمباکو نوشی ،بعض ادویات کا استعمال وغیرہ بھی ہیں۔

پیلی رنگت:
پیلی زبان ہونے کی وجہ ہمارے جسم میں گرمی کا ہونا ہے یا پھر یرقان کی صورت میں بھی پیلی ہو جاتی ہے۔اگر یرقان ہو جائے تو فوراً اس کا علاج کروائیں۔

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور