گینتی اور عمران

Imran Khan

Imran Khan

تحریر : شاہ بانو میر
یہ قدیم چین ہے جس وقت ترقی نہ ہونے کے برابر تھی ـ ایک دور دراز مقام پر واقع گمنام گاؤں ہے جس میں صبح تڑکے کھیت پر جاتے ہوئے ایک جوان رک کر آواز لگاتا ہے ارے یہ کیا کر رہے ہو؟ کیا پہاڑ کو کھود رہے ہو؟ ہاں دوسری طرف گینتی کے ساتھ نبرد آزما جوان نے لاپرواہی سے جواب دیتے ہوئے کام کو مسلسل جاری رکھا ـ تم پاگل ہو اس معمولی گینتی سے اتنے بڑے پہاڑ کو کیسے ہٹا سکتے ہو؟ تم بوڑھے ہو جاؤ گے تب بھی اس کا ہزارواں حصہ نپیں ہٹا سکو گے نوجوان بدستور تمسخر اڑاتا رہا ـ نہ ہٹا سکوں میرے بعد میرے بیٹے اس کو جاری رکھیں گے اس کے بعد میرے پوتے اور پھر ایک دن یہ پہاڑ ختم ہو جائے گا اور میرے گاؤں میں بھی تمہارے گاؤں کی طرح چمچماتی تیز دھوپ آ سکے گی اس پہاڑ نے سورج کا داخلہ روک رکھا ہے جس سے ہماری فصلیں ناکافی ہیں۔

سوچئے سارا گاؤں سو رہا ہے اور جو جاگ رہے ہیں وہ اپنے حال میں مست ہیں گاؤں صرف اس نوجوان کا گھر تو نہیں تھا عشرہ یعنی دس افراد سے ایک گروہ بنتا ہے کم سے کم جس سے کوئی بھی باقاعدہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے ـ بڑہتی ہوئی تعداد جتنی مرضی بڑھ جائے لیکن کم سے کم مقدار تاریخ میں یہی بتائی گئی ہے۔ پہاڑ کے عین نیچے یہ چھوٹا سا گاؤں محدود نفوس کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا آسمان سے سورج کی روشنی نیچے تک پہنچ نہیں پاتی تھی جس کو یہ نوجوان ہمیشہ سوچتا تھا کہ آخر کیسے اس بلند و بالا پہاڑ کو ہٹائۓ؟۔

بِلا آخر یہی سمجھ آئی کہ اگر مایوسی سے ناکامی سے معذوری سے بچنا ہے تو بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے اس مشن کو ممکن بنانے کیلئے عملی کوشش کرنی ہے اور جتنا کر سکوں گا کر لوں گا باقی آئیندہ نسل کرے گی اس کے بعد ان کی نسل یوں یہ ناقابل تسخیر پہاڑ ہٹ جائے گا اور دوسرے گاؤں کی طرح ایک دن (خواہ زندہ ہو یا نہ ہو ) اس کا گاؤں ہرا بھرا ہوگا ـ آج کا چین اس نوجوان کی چلائی جانے والی معمولی سی گینتی کی عمدہ مثال ہے ـ نشے کی عادی قوم کو ایسے ہی پختہ عزم انسانوں نے جگایا اور آج کا چین دنیا کی دیگر سپر پاورز کیلئے درد سر بن چکا ہے ـ معاشی ترقی کا گراف 2020 تک سب سے بلند دکھائی دے رہا ہے۔

China Corridors

China Corridors

دوست مضبوط حیثیت کا حامل ہو تو کمزور دوست بھی اس کے توسط سے کامیاب ہو جاتا ہے بشرطیکہ کہ دوستی مخلصانہ ہو ـ آج اسی دوست کے ساتھ چائنہ کاریڈور نے پاکستان کو دنیا میں ایک بار پھر طاقتور ملک ثابت کر دیا ہے ـ پہاڑ کو کاٹنا معمولی گینتی سے مشکل تھا مگر اس نوجوان نے سفر کا آغاز کیا اور آج آپ چین کے ایسے ایسے دشوار گزار پہاڑوں پر ٹرینوں کو بسوں کو چلتے دیکھتے ہیں کہ عجوبہ لگتا ہے ـ دوسرا نوجوان اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا جو آج تاریخ میں کہیں نہیں ہے مگر یہ گینتی اٹھانے والا ان کی تاریخ کا روشن باب بن کر آج بھی ضرب المثل ہے سوچئے فائدے میں کون رہا؟ زندہ کون رہا؟۔

قرآن پاک میں ہے کہ زندہ وہی رہے گا جو دوسروں میں خیر بانٹے گا ـ عمران خان وہی پاکستان کے ہمالیہ سے بھی بلند کھوکھلے کرپٹ نظام کے خلاف وہی ہے جس نے اس کے خلاف اعلان بغاوت کر کے گینتی اٹھا لی ہے۔ عمران خان کی سوچ میں ناممکن کچھ نہیں ہے ـ وہ کہتے ہیں کہ کوشش کا حکم اللہ کا ہے اور نتیجہ وہ دیتا ہے توکل اللہ پے ہو تو کوئی مایوسی کوئی ناکامی اثر انداز نہیں ہوتی ـ کیونکہ سچ ہر دور میں کم رہا ہے مگر فتح اسی کی ہوتی ہے۔

عمران خان نے گینتی اٹھا کر پاکستان کے سیاسی ہمالیہ کو توڑنے کا آغاز کر دیا ہے ـ وہ جتنی کوشش کر سکتا تھا کر لی ـ جتنا ظالموں کے سامنے کلمہ حق بلند کر سکتا تھا کر لیا وہ اپنے ضمیر میں مطمئین ہے ـ ابتداء ہو چکی ہے باطل نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ـ ضرورت اس وقت اس امر کی ہے کہ حق کے راستے میں بہت دشواریاں آتی ہیں ـ وہاں عمران خان کے بعد آنے والے اگر اس کی گینتی کو تھام کر مستقل مزاجی سے سچ کیلئے انصاف کیلئے اس پہاڑ جیسے نظام کی کھدائی کا سلسلہ اسی طاقت اس ہمت اور اس عزم سے جاری رکھیں گے تو کئی نسلوں پر محیط یہ بلند و بالا جھوٹ کا پہاڑ بلاآخر ریزہ ریزہ ہو کر کامیابی کے حق کے سچ کے سورج کو ایک دن طلوع کرے گا۔

China Corridors

China Corridors

یہ نئے نظام کا سورج ہو سکتا ہے کئی دہائیاں لے مگر یہ طے ہے کہ حق کو ایک دن آنا ہے یہ سنت الہیٰ ہے جسے ہر حال میں مکمل ہو کر رہنا ہے خواہ جتنی مرضی مخالفت کی جائے ـ سوچئے وہ پاکستان پرجہاں آزادی کا سورج طلوع ہو گا تو ترو تازہ سوچ پنپے گی ـ تازہ نظام کی تعمیر ہوگی مایوس چہرے کھلِ اٹھیں گے ـ برابری ہوگی امن ہوگا دولت کا دائرہ عوام الناس تک پھیلے گا ـ وسائل تک رسائی ملے گی تو تخلیقات کا دور شروع ہو کر اس ملک کو نجانے کہاں لے جائے؟ سوچئے مایوسی سے پاک حسد سے بغض سے ہٹ کر دوسرے کی ترقی کو سازش سے ختم کرنے کی بجائے جا بجا تعلیمی ادارے مثبت سوچ دیں گے صرف اپنی محنت سے ترقی کو انسان وقت دے گا۔

تعلیم سے شعور بہتر ہوگا ـ معاشرہ سطحی سوچ سے اٹھے گا اور اوج کمال تک پہنچے گا۔ علم کو اگر درست معنوں میں سمجھنا ہے اور خالص ترقی حاصل کرنی ہے تو قرآن پاک کا ترجمہ ہر درسگاہ کی اسمبلی کیلئے لازمی جزو ہوگا ـ آپ کیلئے شاندار ترقی بہترین ملک کی اولین ضرورت ہے یہی سوچ ہے عمران خان کی جس کیلئے وہ اس پہاڑ سے ٹکرا گیا ہے جس کو روایتی سیاست نے خوامخواہ بلند کر رکھا ہے تا کہ کوئی اس سے ٹکرانے کا سوچے تو پاش پاش ہو جائے۔

مگرجب فیصلے تبدیلی کے آسمان سے اترتے ہیں تو فیصلے زمینی سیاست کے نہیں چلتے ـ عمران خان نے سیاسی پہاڑ کو گرانے کی پہل کر دی ہے اب مل کر اس کا ساتھ دینا ہے تا کہ اس پہاڑ نما سیاست کو ہٹا کر اصل سیاست جس کے براہ راست فوائد عوام کو پہنچیں اس کا آغاز ہو گینتی نے چین کی قسمت بدل دی تو کیا ہم سب پاکستان کی قسمت نہیں بدل سکتے؟ تبدیلی عمران خان سے ہے

Shah Bano Mir

Shah Bano Mir

تحریر : شاہ بانو میر