الطاف حسين حالي
مال ہے ناياب پر گاہک ہيں اکثر بے خبر شہر ميں کھولي ہے حالي نے دکاں سب سے الگ، اگر چہ ہم حالي کو جديد اردو شاعري کا باني مباني قرار نہيں دے سکتے کہ يہ سہرا آزاد کے سر بندھتا ہے،
تاریخ اشاعت : 2006-08-14فيض احمد فيض
فیض کو 1960ءمیں لینن ایوارڈ سے نوازا گیا1984ءمیں آپکا نام نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا جو بوجہ آپکو نہ دیا گیا۔
تاریخ اشاعت : 2006-08-13ابن انشا
ابن انشا اپنے اٹھارہويں صدي کے ہمنام انشا اللہ خان کي طرح نابغہ نہ سہي ليکن اس کے باوجود ان کي ہمہ صفتي ميں کلام نہيں،
تاریخ اشاعت : 2006-06-29بہزاد لکھنوي
بہزادکے کلام میں رونا اور تمام دنیا سے شکایات نہیں بلکہ وہ حالات کا بہت مثبت زاویہ پیش کرتا ہے۔
تاریخ اشاعت : 2006-06-23راغب مراد آبادي
کسی ٹھکرائے جانے والے شخص کی جو حالت ہو سکتی ہے وہ دکھ اور کسک ہمیں راغب کی شاعری میں نظر آئے گی
تاریخ اشاعت : 2006-06-14جوش مليح آبادي
جوش اپنے دبنگ لہجے بلند و بانگ انداز اور ولولہ انگيز طنطنے کي وجہ سے اردو شاعري ميں ايک نماياں مقام کے مالک ہيں،
تاریخ اشاعت : 2006-06-14شکيب جلالي
شکیب جلالی نے اردو غزل کو ایک نیا انداز دیا۔ جبکہ اس کی نظمیں بھی بے مثال ہیں۔ اس نے رباعی اور قطعات بھی لکھے۔
تاریخ اشاعت : 2006-06-08محسن بھوپالي
محسن بھوپالي کو بہت دکھ اور تکليف ملا، محسن بھوپالي نے اپني شاعري ميں بتايا کہ وہ پيار سے کيوں ڈرتے ہيں۔
تاریخ اشاعت : 2006-06-03احمد فراز
موجودہ دور کے توانا ترین شعراءمیں سے ہیں آپ کی شاعری روایتی اور آزاد طرز پر مشتمل ہے۔ آپ کا کلام شہرت کی بلندیوں پر ہے اور کئی ایوارڈ پا چکا ہے۔
تاریخ اشاعت : 2006-06-03امجد اسلام امجد
آبائي شہر سيالکوٹ لاہور ميں تعليم حاصل کي اور ايم اے او کالج لاہور سے ايک ليکچرار کي حيثيت سے عملي زندگي کا آغاز کيا،
تاریخ اشاعت : 2006-06-02معین احسن جذبی”1912“
ا یک ز ما نہ تھا کی جب معین ا حسن جذ بی کا یہ شعر اس بر صغیرکی ادبی وشعری فضائوں میں گونجتا تھا ۔ اور اب اگرچہ اس شعر کی گونج وقت کی تہوں میں لپٹ کر ہلکی ہو چکی ہے پھر بھی جذبی کا فن اسی رخشندہ وفروزاں ہے۔
تاریخ اشاعت : 2006-05-30حبیب جا لب
ب جا لب کا تعلق گا ﺅ ں میا نی ا فغا نا ںضلع ہو شیا ر پو ر (بھا رت )سے تھا جسے دو آ بہ بہشت کا گلا بہ بھی کہتے تھے ۔ میا نی ا فغاناں در یا ئے بیا س کے کنا رے وا قع ہے ۔یہ سر سبز و شا دا ب با غو ں کا علاقہ مہمند پٹھا نو ں کی ملکیت تھا ۔
تاریخ اشاعت : 2006-05-27خوا جہ غلا م فر ید 1845-1901
خو اجہ غلا م فر ید سر ا ئیگی ز با ن کے ایک عظیم صو فی شا عر ہیں ۔ان کا کلا رو ہی اور تما م سرا ئیگی و سیب کی تہذ یب و ثقا فت کی سچی تصویر پیش کر تا ہے۔ا نہیں بجا طو ر پر ا سرا ئیکی ا مام کیا جا تا ہے
تاریخ اشاعت : 2006-05-10مجید ا مجد1914,1974
مجید ا مجد اردو نظم کے ایک ا نتہا ئی ا ہم اور منفر د لہجے کے شا عر ہیں ۔ان کا کلا م معیا ر اور مقدار دو نوں ا عتبا ر سے بے مشا ل ہے ۔جتنا تنو ع ان کے ہا ں پا یا جا تا ہے ،وہ اردو کے کسی جد ید شا عر میں مو جو د نہیں
تاریخ اشاعت : 2006-05-02
























