میرے چارہ گر میرے کوزہ گر

Sad Love

Sad Love

تحریر : شاز ملک
میرے چارہ گر میرے کوزہ گر زیر طبع ناول عشق کرب ذات زندگی کے چاک پر ابھی بھی میرے دل کی گیلی مٹی دھری ہوئی ہے گمان کے پردوں سے درد کی روشنی کی چھلنی سے گزر کر اس پر پڑ رہی ہے -ہجر کی ہوا نمناک آنکھیں لئے ہولے سے اسے چھوتے ہوئے گزر رہی ہے ،شک اور گمان کے ملگجےسائے اسے اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں یک لخت وسوسوں کے کالے گہرے سے اس پر اپنا کالا سایہ آگے ڈالنے کو بڑھے – اسی پل چاک سے پرے کوزہ گر کے ہاتھ اس مٹی پر آ کر ٹھہر گئے دست قدرت کا شیریں سا لمس اسس مٹی کے وجود میں تحلیل ہو گیا جیسے مٹی کی روح کے مشام جان میں آنا فانا یہ شیریں لمس جذب ہو گیا کوزہ گر نے اپنے نرم ہاتھوں سے اسے اٹھا کر گوندھنا شروع کیا

ایک شیریں سے پانی کی پھوہار میں بھگو دیا تھوڑی در کے بعد میری مٹی کو یوں لگا جیسے اسے کسی دہکتی آگ میں جھونک دیا گیا ہو میری مٹی اس تپش میں پگھلنے لگی -مٹی اپنے ضبط کے احساس کو کھونے لگی تو دست قدرت کے ہاتھوں نے شفقت سے چھو کر اس مٹی میں عشق کے گداز لمس کو اتار کر خوشگوار سی خوشبو سے آشنا کر دیا تو یوں لگا جیسے ایک انوکھی سی ٹھنڈک رگ و پے میں اتر گی جس میں میری مٹی فنا کے احساس سے دو چار ہو کر فنا ہو گئی اسی انہماک اور توجہ کے چاک پر میرے دل کی مٹی بکھری پڑی ہے میرے کوزہ گر میرے چارہ گر اسے ہو سکے تو سمیٹ لے

اور اپنے پاس رکھے جذب کے شفاف پیالے کے میٹھے پانی میں جس میں ابھی بھی تیرے ہاتھوں کے لمس کی شیرینی گھلی ہوئی ہے -تو اب یہ کمال کر دے کے میٹھے گھاٹ کے اس شہد آگیں پانی میں اپنے عشق کی مٹی کو گھول کر پھر سے میری مٹی کو اس دریا میں بہا دے یا ڈبو دے یا پھر یکجا کر دے -پھر چاہے تو اسے کسی بھی شکل میں ڈھال دے -اسکی روح کے سانچے کو ایسا نکھار دےاسے پھر سے اپنے ہاتھوں کی نرمی عطا کر کے اپنی توجہ کے چاک پر ڈال کر اسکی صورت گری کر دے -بگاڑ دے یا سنوار دے یہ تیرے اختیار کی بات ہے اسس میں میری بے اختیاری کا احساس بھی ہے جو میری بے ذائقہ اور بے رنگ مٹی کو رنگین کرتا جا رہا ہے

Summer Sun Shine

Summer Sun Shine

جیسے دھوپ پڑتی ہو سردی میں کسی شجر بے آس پر -جیسے بارش برستی ہے کسی دشت کی پیاس پر تیری آنکھیں جو اس چاک پر انہماک سے لگی ہیں تو ان سے تیری سوچ اور توجہ کے فسوں کا عکس اسے اجال رہا ہے کھنگال رہا ہے ایک آیئنے میں ڈھال رہا ہے جہاں بس تیرا ہی عکس سما رہا ہے اور تو ہی تو ہر طرف دکھا رہا ہے تو اس مٹی کا روم روم یہی پکار رہا ہے مگر یہ کیا کے اس علم تحیر میں صدیاں گزر گی ہیں چاک پر چلتے ہے تیرے ہاتھوں کے لمس کو ہٹے زمانے گزر گئے – اے میرے چاراگر میرے کوزہ گر تیری نگاہوں میں بکھرے توجہ کے بکھرے رنگ کسی اور مٹی کے رنگ میں الجھنے لگے ہیں اور میری مٹی کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ہیں –

تیرے ہاتھوں کا لمس ادھورا رہ گیا ہے میں بے بسی سے ایک طرف پڑا تیری توجہ کے دھنک رنگوں میں ڈھالنے کا منتظر ہوں -شاید یونہی پڑا رہوں صدیوں تلک اور یہی پکارتا رہوں

Sad Girl

Sad Girl

مجھے غم کے پلڑے میں پھر تول دے
میری مٹی میں عشق کو گھول دے

میرے کوزگر تو ہی کچھ سوچ لے
بنا دے چاہے توڑ کر رول دے

رہوں تیرے ہی لمس سے آشنا
مجھے اپنے ہاتھوں کویی مول دے *

کویی لمحہ تو قرب کا کر عطا
میری الجھی گرہوں کو پھر کھول دے

میرے سارے ہی لفظ پھر جی اٹھیں
میرے ٹوٹے قرطاس کو بول دے

تحریر : شاز ملک