المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام، ڈان باسکو اسکول، دربھنگہ میں ‘ایک شام عبد الصمد کے نام’ کا انعقاد کیا گیا

Dr. Mansoor

Dr. Mansoor

دربھنگہ (نمائندہ) المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام، ڈان باسکو اسکول، دربھنگہ میں ‘ایک شام عبد الصمد کے نام’ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے عبد الصمد کی شخصیت اور فن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبدا لصمد بہار کے وہ پہلے ادیب ہیں جنہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا تھا۔ تب کلیم الدین احمد، قاضی عبدالودود ، اختر اورینوی ، سہیل عظیم آبادی ، ش۔ مظفرپوری جیسی شخصیتیں اردو ادب میں اپنا مقام بنا چکی تھیں لیکن انہیں ہندوستان کی مرکزی سرکا ر کا سب سے بڑا انعام ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ نہیں ملا تھا۔ عبدالمصد کے ناول پر انعام ملنے کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوا۔ عبدالصمد صرف ناول نگار نہیں بلکہ اردو افسانے کی دنیا میںبھی اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ ناول اور افسانہ میں اپنی الگ پہچان رکھنے کی وجہ سے ان کا قد بہت اونچا ہے۔ ویسے دیکھنے میں بھی ان کی شخصیت دل آویز اور بلند قدر ہے۔ آج کی شام عبدالصمد کے نام کر کے ہم نے ان لہ عزت افزائی کی ایک معمولی سی کوشش کی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ عبد الصمد صاحب نے ہماری دعوت قبول کر کے ہمیں اعزاز سے نوازا ہے ۔ اپنے معاصرین میں عبدالصمد نے اپنی ٹکنک اور فن کی وجہ سے جو شہرت حاصل کی ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ عبدالصمد پر یوں تو بہت لکھا گیا ہے، کتابیں بھی چھپی ہیں لیکن آج کی شام ان کے بارے میں جو تاثرات پیش کئے جائیں گے جو باتیں ہوں گی ان کی اہمیت جداگانہ ہے۔۔ پروگرام کی صدارت عالمی شہرت یافتہ شاعر پروفیسر حافظ عبدالمنان طرزی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیر احمد آزاد اور منصور خوشتر نے انجام دئیے۔

عبد الصمد فن کا سرمایۂ غرور ہیں: پروفیسر طرزی
صدر مجلس پروفیسر عبدالمنان طرزی نے عبدالصمد کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برجستہ شعر کہتے میں بحمدہ تعالیٰ مجھے کوئی قباحت نہیں ہوتی ہے لیکن برجستہ تبصراتی و تنقیدی اظہار خیال وہ بھی محمد عبدالصمد جیسے عظیم ناول نگارپر ”شرط وصلِ لیلیٰ” سے کم نہیں۔ بہر حال موصوف کی فنکارانہ عظمت پر صرف ٥ اشعار پیش خدمت ہیں:
فنکارِ پختہ کار کا رکھتے ہیں وہ شعور
اس صنف کا وہ بن گئے سرمایۂ غرور
اجزائے واقعات کا وہ ربط دیکھئے
تعمیر ماجرائی کو آساں بھی جو کرے
قصے کے ارتقاء پہ بڑی سخت ہے نگاہ
کردارِ واقعات سے کرتے بھی ہیں نباہ
کردار کے لحاظ سے لاتے مکالمے
وہ مقتضائے حال سے غافل نہیں رہے
جذبوں کے انکشاف میں لفظوں کا انتخاب
کرتے ہیں نیکو کار گناہوں سے اجتناب

عبد الصمد کے یہاں فرد کے داخلی کرب کو اہمیت دی گئی ہے:پروفیسر رئیس انور رحمن

پروفیسر رئیس انور رحمن سابق صدر شعبۂ اردو ، ایل این ایم یو دربھنگہ نے بحیثیت مہمان خصوصی کہا کہ عبدالصمد دور حاضر کے ایک ایسے نامور ناول نگار ہیں جنہوں نے نہ صرف سماجی اور سیاسی حالات کو اپنے ناولوں میں فوکس کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ فرد کے اندر کا وہ کرب بھی ان کے ناولوں میں جھلکتا ہے جس سے ہر صحیح سوچ رکھنے والا دوچار ہے اور اسی طرح یا اپنے آپ کو اس دھماکہ خیز ماحول میں ایڈجسٹ کر رہا ہے یا خون کے گھونٹ پی کر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ نہ صرف ان کا موضوع بلکہ زبان و بیان اور اسلوب بھی اس پورے ماحول اور حالات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اردو کو منصور خوشتر جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے : عبد الصمد
اس موقع پرعبدالصمدنے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ دربھنگہ آمد پر مجھے اپنے پرانے ساتھیوں سے بیٹھ کر بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ منصور خوشتر اور ان کا ٹرسٹ بہت فعال ہے اور میری نیک دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ عبد الصمد نے دربھنگہ کے ادبی ماحول پر خوش گوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو منصور خوشتر جیسے فعال نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب گیا ضلع میں اسی طرح ادبی سرگرمیاں انجام پاتی تھیں لیکن اب وہاں بھی جمود ہے۔

عبدالصمد کا فن جیتی جاگتی دنیا کے نشیب و فراز سے گہرا تعلق رکھتا ہے: عطا عابدی

عطاعابدی (بہار قانون ساز کونسل پٹنہ) نے کہا کہ عبدالصمد کا فن جیتی جاگتی دنیا کے نشیب و فراز سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ وہ سامنے کے حقائق اور مسائل سے رشتے و رابطے کو اہمیت دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک خیال و خواب پر حقائق برتری رکھتے ہیں۔ ان کا فن خیالی منظر نامہ سے گریز کا فن ہے۔
عبد الصمد بے باکی سے اپنی بات رکھنے کا ہنر جانتے ہیں: پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی

پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی(بھاگلپور) نے بذریعہ فون عبدالصمد پر اپنی رائے کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا: عبدالصمد کے نئے ناول ”اجالوں کی سیاہی” میں فکر، دانائی، خلوص، نیک نیتی ،ہمدردی ، اکیسویں صدی کے مشکل اور صبر آزما وقت کی سچائی ، قائدانہ کارکردگی ، حکمت عملی ، مراسم کی کشمکش اور نظریاتی اختلاف کے ساتھ لوجہاد ، ایمان کی باتیں، حقوق العباد ، جنت اور جہنم کا تصور ، شہید کا درجہ ، فتوی کی اہمیت جیسے موضوعات کو بڑی بے باکی سے اٹھایا ہے۔

عبد الصمد نے اردو ناول کے جمود کو توڑا ہے : سید احمد قادری
سید احمد قادری گیا نے اپنے پیغام میں کہا کہ عبدالصمد ایک ایسے فنکار کا نام ہے جنہوں نے دو گززمین جیسا ناول لکھ کر نہ صرف اردو ناول کے جمود کو توڑا بلکہ ساہتیہ اکادمی حاصل کر ریاست بہار کے وقار میں اضافہ کیا ہے ۔ اس لئے کہ عبدالصمد سے قبل بہار کے کسی بھی مشاہیر ادب کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ نہیں ملا تھا۔ دو گز زمین پر ساہتیہ ایوارڈ ملنے کے بعد ١٩٨٠ء کی دہائی کے بعد کے افسانہ نگاروں میں بطور خاص ناول لکھنے کا نیا جوش اور ولولہ دیکھا گیاجس کی وجہ سے کئی اہم ناول سامنے آئے جو بلاشبہ عبدالصمد کی دین ہے۔

المنصور ٹرسٹ کی فعالیت قابل رشک: پروفیسر اسرائیل رضا
اسرائیل رضا (پٹنہ) نے اپنے پیغام میں کہا کہ اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کے سبب المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ نے دنیائے علم وادب میں اپنی ایک خاص پہچان بنالی ہے۔ یہ پہچان صرف اور صرف آپ کے دم سے قائم ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ ٹرسٹ آپ کی شخصیت اور علمی و ادبی سرگرمیوں کا حقیقی ترجمان ہے۔ اللہ کرے اس شوق کا ہو سلسلہ دراز۔ خورشید حیات نے اپنے پیغام میں کہا: معتبر تخلیقی فنکاروں کے نام ایک شام ، ایک اہم سلسلہ۔ مبارکباد عبدالصمد بھائی اردو ناول ، افسانے کے بہت ہی اہم دستخط ہیں۔ ماضی کا ایک بڑا گہرا حوالہ ان کی ناولوں میں موجود ہے۔ بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے اپنے پیغام میں کہا کہ میری تمام تر نیک خواہشات تم دونوں کے ساتھ ہیں۔ عبدالصمد کے نام شام کا انعقاد سے تمہارے ٹرسٹ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ ڈاکٹر جمال اویسی نے کہا کہ عبدالصمد کا ناول ”دو گز زمین” اسلوب نگارش کی وجہ سے اردوناولوں میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ ہندوستان پاکستان تقسیم کے تناظر میں ہے۔ عبدالصمد اپنے ناول کے Contentکی وجہ سے اپنی انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ”خوابوں کا سویرا” ناول میں ملت کالج دربھنگہ کا ذکر بھی عبدالصمد نے کیا ہے۔ یہ ناول دو گززمین کا Extensionہے۔ حیدر وارثی نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جناب عبدالصمد اردو ادب میں ایک معتبر اور بڑا نام ہے۔ مشہور زمانہ ناول ”دو گز زمین” نے ان کو شہرت دوام بخشا ۔ وہ عالمی شہرت یافتہ ادیب کہلانے کے مستحق ہوئے۔ ان کو ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ سے سرفرراز کیا گیا۔ پروفیسر لطف الرحمن ان کو دو گززمین والے کے نام سے ہمیشہ یاد کرتے رہے۔ ڈاکٹر آفتاب اشرف (ایم ال اس ام کالج) اورابو ذر ہاشمی کولکاتانے کہا کہ اپنے ناول ”دو گز زمین” میں عبدالصمد نے آزادی کے بعد ایک نہایت اہم مسئلہ کو اپنے ناول کا موضوع بناکر ایک خاندان کے پس منظر میں آزادی کے بعد سے اب تک کی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ڈاکٹر احسان عالم نے اس موقع اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عبدالصمد کی گنتی اس زمانے کے ممتاز فکشن لکھنے والے میں ہوتی ہے۔ وہ ناول اور افسانہ دونوں میں یکساں فنی صلاحیت رکھتے ہیں۔ناول ”دو گززمین”جو ١٩٨٨ء میں منظر عام پر آیا نے ان کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس ناول کے لئے انہیں ١٩٩٠ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ناول اور افسانہ دونوں میں ان کا انداز بیان نہایت ہی پرکشش اور دلچسپ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اس موقع پر کہا کہ عبدالصمد اردو کے نامور اور معتبر فکشن نگار ہیں۔

ان کے افسانوی مجموعے اور ناولوں کا مطالعہ یہ کہنے پر مصر کرتا ہے کہ فکر و فن پر ان کو دسترس حاصل ہے۔ اس کا اقرار و اعتراف اردو کے مشاہیر ناقدین نے کیا ہے۔ انہوں نے افسانوں میں زندگی کے ان واقعات کو پیش کیا ہے جن میں سماجیات اور نفسیات انسانی کا درک محسوس ہوتا ہے۔ سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے معاون مدیر کامران غنی صبا نے اپنے پیغام میں کہا کہ عبد الصمد کے نام خصوصی محفل کا انعقاد کر کے المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ نے بہار کے اس عظیم ناول نگار کو عزت بخشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبد الصمد نے ‘پروپیگنڈا’ کی سیاست سے خود کو الگ رکھا ہے۔ صبا نے کہا کہ Self Promotion کے اس دور میں عبد الصمد خاموشی کے ساتھ ادبی کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے قطر سے فروغ اردو ادب ایوارڈ کے لیے عبدالصمد کے انتخاب پر انہیں مبارکباد بھی پیش کی۔اظہر نیر (برہولیا) نے کہا کہ ناول دو گز زمین کو ساہتیہ اکیڈمی ملنا اہل بہار کے لئے فخر کی بات ہے ۔عالمگیر شبنم (صدر انجمن ترقی اردو ،د ربھنگہ ) ،ڈاکٹر سید احتشام الدین (سی ایم کالج )،مستفیض احد عارفی ، احتشام الحق نے بھی عبدالصمد کے تعلق سے قیمتی باتیں کیں۔ منظر سلیمان نے کہا کہ دو گز زمین کا میں میتھلی ترجمہ کر رہا ہوں ۔ یہ ناول واقعی تاریخی ہے ۔ ساہتیہ اکیڈمی نے اس ناول کو ایوارڈ دے کر بڑا صحیح فیصلہ لیا تھا۔ اس موقع پر موجود لوگوں میںڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی، منور عالم راہی ،منظر الحق منظر صدیق، اقبال مشتاق ، شاہنواز ، ڈاکٹر ایوب راعین ، ریاض احمد خاں، محمد حامد انصاری ، سمیر خاں، محمد افضل کے علاوہ درجنوں لوگ شامل تھے۔