مانو اسٹڈی سنٹر نظام آباد میں قومی یوم تعلیم تقریب ‘ محمد نصیرالدین اور دیگر کا خطاب

Mohammad Nasiruddin Speech

Mohammad Nasiruddin Speech

نظام آباد (اسلم فاروقی) مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے عظیم قومی رہنما ‘صحافی’ ادیب’شاعر’مصلح قوم مفسر قرآن پہلے وزیر تعلیم اور دانشور گذرے ہیں انہوں نے اپنی سیاستی بصیرت سے جہاں گاندھی جی اور دیگر ہندوستانی قائدین کے ساتھ مل کر ہندوستان کو آزادی دلائی اور تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمانوں کو اس ملک کا اٹوٹ حصہ قرار دیا وہیںآزادی کے بعد انہوں نے اپنی دانشوری اور علمی بصیرت اور دوراندیشی سے ہندوستان میں تعلیمی انقلاب لاکر اسے تعلیمی سوپر پاور بنانے میں مدد کی۔ بچوں کے لیے لازمی تعلیم’آئی آئی ٹی کا قیام’یوجی سی اور دیگر فنون لطیفہ اکیڈیمیوں کو انہوں نے اس زمانے میں قائم کیا جب کہ ہندوستانیوں کے ذہن میں تعلیم کا کوئی نقشہ اور تصور نہیں تھا۔

ان کے بنائے ہوئے تعلیمی ڈھانچے سے ہندوستان آج ساری دنیا میں علمی سوپر پاور کے طور پر جانا جاتا ہے اور ہندوستانی طلباء کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ یہ سب مولانا آزاد کی فراست کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان نے انہیں خراج عقیدت کے طور پر اپنا اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ بھارت رتن دیا جس سے اس اعزاز کا وقار بڑھ گیا۔ان خیالات کا اظہار جناب محمد نصیر الدین صاحب ماہر تعلیم’دانشور’مولانا آزاد اسٹڈی سنٹر نظام آبادکے کوآرڈینیٹر نے مانو اسٹڈی سنٹر نظام آباد میں منعقدہ قومی یوم تعلیم تقریب سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے دستیاب وسائل سے اپنی شخصیت کو نکھارا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پندرہ ہزار سے ذائد کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اور اپنے افکار کو اپنی تحریروں میں پیش کیا۔

وہ ایک سچے مسلمان تھے جنہوں نے قرآن کی تفسیر لکھی اور جیل کے قیام کے دوران غبار خاطر کے نام سے شائع اپنے خطوط سے انہوں نے زندگی اور حرکت و عمل کے فلسفے کو عام کیا۔نہوں نے طلبا پر زور دیا کہ ہم آزاد کی زندگی سے روشنی حاصل کریں اور مطالعہ’تصنیف و تالیف اور علمی بصیرت و دانشوری سے زندگی کو بہتر بنائیں۔اس موقع پر انہوں نے طلبا سے کہا کہ مولانا آزاد اسٹڈی سنٹر سر زمین نظام آباد پر 18سال سے تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے اور اس سنٹر سے ہر سال سینکڑوں طلبا و طالبات فارغ ہوئے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبہ ہائے حیات میں نمایاں کام انجام دے رہے ہیں۔اس مرکز میں ہر سال مختلف مواقع پر تقریبات کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس سے سابق وائس چانسلر تلنگانہ یونیورسٹی جناب اکبر علی خان اور پروفیسر سلیمان صدیقی رجسٹرار اردو یونیورسٹی اور دیگر دانشوروں نے خطاب کیا۔

اس موقع پر انہوں نے طلباء کو یکم دسمبر سے شروع ہونے والے امتحانات کے بارے میں ضروری ہدایات دیں۔ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد کے نام سے موسوم اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیم مرکز نظام آباد میں یوم تعلیم تقریب کا انعقاد خوش آئیند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ماحول میں جب کہ دنیا نومبر کو دہشت گردی کے واقعات سے جوڑتی جارہی ہے ہم 128سال قبل پیدا ہونے والی ایک شخصیت مولانا آزاد کی زندگی سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا آزاد نے کسی مدرسے اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی ان کی درسگاہ ان کے والدین کی تربیت اور گہرا مطالعہ تھا۔

انہوں نے جلسے میں بڑی تعداد میں شریک طالبات کو مشورہ دیا کہ ایک لڑکی کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہوتی ہے ہم پہلے زیور تعلیم سے آراستہ ہوں اپنی زندگی بہتر بنائیں اور سماج میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے تربیت اولاد اور زندگی کے مسائل کے حل کی کوشش کریں۔ انہوں نے مولانا آزاد کی زندگی کے مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے موجودہ دور کے طلبا سے کہا کہ وہ مولانا آزاد کی طرح صحافی’ادیب’شاعر’سیاست دان’قائد اور تعلیمی انقلاب لانے والے دانشور بن سکتے ہیں ۔ڈاکٹر محمد ناظم علی سابق پرنسپل موڑتاڑ ڈگری کالج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد ہندوستان کے عظیم سپوت تھے جن کی دانشوری کی روایت سے آج ہندوستان ترقی کی سمت گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا حجاز مقدس کی سرزمین پر پیدا ہوئے اپنے والدین کی تربیت سے اعلی انسان بنے اور چھوٹی عمر سے اپنی صحافتی اور مدبرانہ صلاحیتوں سے ہندوستان کو متاثر کیا۔

کم عمر میں وہ کانگریس کے صدر بنے اور آزادی کے بعد ان کے تعلیمی افکار سے ہندوستان کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔ محمد عبدالبصیر لیکچرر اردو ناگارام اقامتی جونیر کالج نے مولانا آزاد کی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سورج ہوں میں رمق چھوڑ جائوں گا۔ میں ڈوب بھی جائوں گا تو شفق چھوڑ جائوں گا۔ کے مصداق مولانا آزاد کی علمی و سیاسی بصیرت ہمیں زندگی کی تاریک راہوں میں روشنی فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران مولانا آزاد اسٹڈی سنٹر میں گزشتہ اٹھارہ سال تک اپنی خدمات انجام دینے والے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر جناب اعجاز صاحب کی رحلت پر بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ ناگارام اقامتی کالج کے فزکس لیکچرر جمیل نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا اور مولانا آزاد کے افکار سے موجودہ نسل کو آراستہ ہونے کا مشورہ دیا۔ محمد عبدالبصیر کے شکریہ پرقومی تعلیم تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ اس تقریب کو ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی کے فیس بک پر ساری دنیا میں براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔