مولانا مظہر الحق یونیورسٹی میں تقرری کے خلاف یونیورسٹی کے ملازمین کا ہنگامہ

Employees Turbulent

Employees Turbulent

پٹنہ: مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی میں غیر تدریسی عہدوں پر تقرری کا معاملہ ایک بار پھر ہائی کورٹ پہنچ گیاہے ۔ اس معاملے کو لے کر یونیورسٹی کے تقریباً ١٥اہلکاروں نے ہفتہ کویونیورسٹی کے گیٹ پر جم کر ہنگامہ کیا اور وائس چانسلر کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔انہوں نے تقرری میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور رشوت خوری کا بھی سنگین الزام لگایا ہے۔

انہوں نے اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ یونیورسٹی میں ٢٠١٠سے اسسٹنٹ کے عہدے پر کا م انجام دینے والی خاتون حنا کوثر نے کہا کہ اب تک جو کچھ ہوا اس میں وائس چانسلر سمیت سبھی دیگر اعلی عہدیدار اس کھیل میں شامل تو ہیں ہی ۔ مگر یہ کھیل یہیں ختم نہیں ہو رہا ہے ۔ اب شکنجہ ہم سبھی ملازمین کا بھی کسنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارا حاضری رجسٹر بھی ایک تھا ،مگر گزشتہ ٢٧اکتوبر سے وہ بھی علحیدہ کر کے حاضری بنوائی جارہی ہے اور ہمیں اپنے کام سے بھی بے دخل کر نے کی تیاری بھی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی میں ١٤نومبر ٢٠١٤کو ٤٠غیر تدریسی عہدوں پر تقرری کے لئے اشتہار جاری کیاگیا تھا۔ اس کے نتائج کی بنیاد پر تقرری بھی عمل میں آئی تھی ۔ مگر نتاء ج کے سامنے آتے ہی اس پر انگلیاں اٹھی تھیں اور یہ معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیاتھا۔اب یہ معاملہ دوسری بار ہائی کورٹ پہنچ گیاہے۔

ہائی کورٹ میں دائر عرضی (سی ڈبلیو جے سی ١٧٢٢٦حنا کوثرو دیگر بنام وائس چانسلر و دیگر )کے مطابق ان سبھی غیر تدریسی عہدوں پر تقرری میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام لگایا گیاہے اور فوری طور پر ان تقرریوں کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔ان تقرریوں میں ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاہے۔

یونیورسٹی کے گیٹ پر وائس چانسلر کے خلا ف نعرے بازی کرنے والے اسسٹنٹ محمد روح اللہ ،سید طاہر حسین جعفری ،عبدالغفار ، خواجہ شہزاد احمد نے کہا کہ گزشتہ ٥سالوں سے وہ اس یونیورسٹی میں کام انجام دے رہے ہیں ۔ انہیں بہتر کام کا تجربہ بھی ہے ۔اس کے باوجود دوسروں کی تقرری کی گئی اور اب ہمیں عہدے سے ہٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔

انہیں نے الزام لگا یا کہ تقرری میں جانب داری برتی گئی ہے اور انہیں ہٹانے کی سازش کی جارہی ہے ۔مگر ہم اس کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ تقرری میں بدعنوانی اور بدنظمی کے معاملے میں چانسلر و گورنر کو بھی مداخلت کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرائی جائے ۔ اس معاملے میں مولانا مظہر الحق عربی و فارسی کے رجسٹرار ڈاکٹر شرف الدین چودھری نے انقلاب سے بتایا کہ تقرری مقابلہ جاتی امتحان کی بنیاد پر کیا گیاہے اور بدعنوانی کا الزام بغیر بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب جب یہ معاملہ عدالت میں ہے تو ان کا ہنگامہ بھی بے بنیاد ہے۔ جب انہوں نے اس معاملے کو عدالت تک پہنچا دیا ہے تو اس کا فیصلہ آنے تک اس کا انتظار کرنا چاہئے۔یہاں ہنگامہ کر کے وہ یونیورسٹی کے تدریسی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی طرف سے انہیں ہٹانے کی اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ وہ یونیورسٹی کے رجسٹر میں اپنی حاضری بھی درج کرا رہے ہیں اور احتجاج بھی کر رہے ہیں جو بے معنی ہے۔ مظاہرین وائس چانسرپروفیسر اعجا ز علی ارشد کا گھیرا ؤ کرنا چا ہتے تھے ۔مگر ان کے وہاں آج نہ ہونے کے سبب وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔