میانوالی کی خبریں 10/10/2016

Mianwali

Mianwali

میانوالی : ضلع میانوالی کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا شاندار آغاز،ڈپٹی ڈائریکٹر (کالجز) ملک محمد ممتاز کی ذاتی دلچسپی سے میانوالی میں دو نئے زنانہ کالجز کا اضافہ :والدین کا اظہار تشکر۔تفصیلات کے مطابق ضلع میانوالی کا مختلف سرکاری کالجوں میں تعلیمی سال 2016-17 کا شاندار آغاز ہو گیا ہے۔ والدین اور اہل علاقہ کا سرکاری کالجوں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں 2016-17 میں سرکاری کالجوں میں ریکارڈ داخلہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہاں سے امر قابل ذکر ہے کا موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے چارج سنبھالنے کے بعدپہلے ہی تعلیمی سیشن میں 2011 سے افتتاح کے منتظر دو زنانہ کالجوں کندیاں اور موچھ میں کلاسز کاباقعدہ آغاز کیا ہے۔ان کالجوں میںکلاسز کا آغازعلاقے کے والدین کے لئے خوشی کا باعث ہے۔ جس سے دور دراز کی بچیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کاگراں قدر موقع ملا ہے۔ سرکاری کالجوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے موجودہ انتظامیہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے اپنی ذاتی دلچسپی سے خاطر خواہ حد تک کوشش کی ہے۔ جس کے نتیجے میں کالجز میں تعلیمی سرگرمیاں بلا رکاوٹ زورو شور سے جاری ہیں۔عارضی طور پر بھرتی کئے گئے اساتذہ C.T.Iکی بھرتی کا صاف شفاف عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اور تمام کالجز کی سٹاف کی کمی کو پورا کر دیا گیا ہے۔ضلع میانوالی کے سرکاری کالجز کے امسال بورڈ اور یونیورسٹی میں آنے والے نتائج انتہائی امید افزا ہیں۔ اس ضمن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز میانوالی پروفیسر محمد ممتاز ملک نے کہا ہے کہ خادم اعلی پنجاب کے پڑھو پنجاب مقصد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے والدین اوراساتذہ کا باہم تعاون بہت ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میانوالی()دھونوالہ کے مشہور مقدمہ “ارباز کیس” میں ایڈیشنل سیشن جج پپلاںشفقت اللہ خان نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہو ئے ضمانتیں کنفرم کر دیں ، شہریوں کا خیر مقدم۔تفصیلات کے مطابق تقریباًدو ماہ قبل تھانہ کندیاں پولیس کے ایک کا نسٹیبل ضیا ء الحق سوانسی نے ناجائز دوستی نہ لگانے پر میٹرک کے طالب علم محمد ارباز ولدمحمد اعجاز سکنہ دھونوالہ کے خلاف ڈکیتی کی نیت کے حوالے ایک مقدمہ نمبر306/16زیر دفعہ393ت پ در ج کرواکر پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ اسکے گھر بمقام دھونوالہ پر ریڈ کیا ،تھانہ کندیاں پولیس نے گھر میں موجودخواتین سمیت تمام افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ،اور تھانہ جاکر اس مظلوم خاندان کی خواتین سمیت گھر سب افراد کے خلاف ایس ایچ او تھانہ کندیاں کی مدعیت میں مقدمہ نمبر307/16زیر دفعہ186,324,353ت پ در ج کر لیا، مظلوم خاندان نے عبوری ضماتیں کر واکر متعدد بار تفتیش کے تھانے وافسران کے پاس گیا، لیکن مقامی پولیس نے خود مدعی اورخود تفتیش کرکے، مظلوم خاندان کو سنے بغیرہی گناہگار قراردے دیا ، محمد ارباز اوراسکے والد محمد اعجاز کی طرف سے تبدیلی تفتیش کیلئے ریٹ پٹیشن22A دائر کی گئی کہ ہر دو مقدمات کی تفتیش کسی ایماندار پولیس آفیسر سے کر ائی جائے ،ایڈیشنل سیشن جج پپلاںنے ریٹ پٹیشن22A منظور کر تے ہوئے ،ڈی پی اومیانوالی کو تبدیلی تفتیش کا حکم دیا ،لیکن تفتیش تبدیل نہ کی گئی،جس پر عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کوشوکاز نوٹس جاری کیا، اس سے قبل ڈی پی او میانوالی نے محکمانہ انکوائری میں کندیاں پولیس کے ایک کا نسٹیبل ضیا ء الحق سوانسی پیٹی نمبر 1521/C کو گناہگار قرار دیکر محکمہ سے بر خاست کر دیا ، مظلوم خاندان کے طرف سے مقدمات کی پیروی معروف قانون دان ملک صبح صادق ایڈووکیٹ ،ملک ظفر اقبال ایڈووکیٹ ،اسد خان نیازی ایڈووکیٹ اور محمد عاصم میکن ایڈووکیٹ نے عدالت میں مدلل دلائل پیش کئے ،جس پرایڈیشنل سیشن جج پپلاںشفقت اللہ خان نے میٹرک کے طالب علم محمد ارباز،خواتین سمیت اسکے گھر والوں کی ضمانتیںکنفرم کر دیں، ارباز وغیرہ کی طرف سے ریٹ پٹیشن22A بر خلاف ایس ایچ او تھانہ کندیاںکے خلاف آئندہ پیشی 18اکتوبر 2016ء کو ر پورٹ طلب کر لی ، علاقہ بھر میںایڈیشنل سیشن جج پپلاںشفقت اللہ خان کی جانب سے میٹرک کے طالب علم محمد ارباز،والد ،بھائی سمیت خواتین کی ضمانتیںکنفرم کر نے کے فیصلہ کو خیر مقدم کیا گیا ،اور مذکورہ فیصلہ سے انصاف کابول بالا ہوا ہے۔