غالب کی نعتیہ غزل پر حالی کی شاہکار تخمیس پہلی قسط

Dr. Taaqi Abedi

Dr. Taaqi Abedi

تحریر: ڈاکٹر سید تقی عابدی، ٹورنٹو،کینیڈا / بشکریہ اپنا انٹرنیشنل
کینیڈا (APNAانٹرنیشنل/انجم بلوچستانی) ٹورنٹو بیوروکے مطابق وہاں عرصہ سے مقیم ادیب ،شاعر، محقق، تجزیہ کار، کئی ادبی تنظیمات کے اعزازی سربراہ، ماہر قلب ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کئی موضوعات پرقلم اٹھایا ہے۔انکاغالب کی نعت گوئی پر یہ مضمون دو قسطوں پر مشتمل ہے: ”حالی نے غالب کی ایک مشہور فارسی نو(٩) اشعار پر مشتمل نعتیہ غزل کے سات شعروں پر ایک فارسی مخمس تضمین کیا جو ان کے کلیات میں ضمیمے مشتمل بر کلام فارسی و عربی میں شامل ہے۔

حالی نے یہ تضمین مرزا غالب کی زندگی میں کی لیکن ہمیں اس کی دقیق تاریخ تصنیف نہیں معلوم گمان یہ ہے کہ یہ نعت حالی نے 1863ء اور 1869ء کے درمیان لکھی جب وہ شیفتہ کے پاس ان کے بیٹے کے اتالیق تھے اور فارسی میں شیفتہکے ساتھ مشق سخن جاری تھی اور غالب سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ غالب کی یہ نعتیہ غزل ان کے فارسی کلام مطبوعہ 1841ء میں موجود ہے۔ حالی کی تضمین شدہ سات بند کی مخمس نعت کے ترجمہ اور تجزیہ سے پہلے ہم غالب کی اس نعت کے بارے میں گفتگو کرکے غالب کے اُن نو اشعار کا سلیس ترجمہ اور تجزیہ کریں گے جن پر حالی نے تضمین کی تاکہ استاد اور شاگرد کے کلام اور مقام کا مظاہرہ ہو جائے اگر چہ غالب سے ہم یہاںحالی کا تقابل نہیں کر رہے ہیں کیونکہ غالب خدائے سخن ہے اور حالی اقلیم سخن کا ایک مطیع بندہ لیکن یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالینے استاد سے کیا اور کیسے استفادہ کیا اور چراغ سے چراغ جلا کر کتنی روشنی اپنے کلام میں پیدا کی۔

”غالب کی یہ نو(٩) شعر کی غزل مردف ہے اور اس کی ردیف”محمدۖ ست” ہے۔ اگر چہ اس نورانی ردیف سے مصرعے میں غضب کا اُجالا پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس اجالے میں عمدہ مضامین کوٹٹولنا اِس لئے ہر شاعر کے بس کی بات نہیں کہ اس روشنی سے عقل اور فکر کی آنکھیں مند ہوجاتی ہیں۔ اس غزل کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ اس میں دس قافیے ہیں اور کسی قافیے کی تکرار نہیں اگر چہ قافیہ پیمائی ذوق کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور غالب نے کبھی اس راستے کو نہیں اپنایا اور قافیے سے شعر نہیں بنایا بلکہ ان کے شعر میں قافیے نے خود اپنی جگہ بنائی جو ان کے کمالِ فن کی دلیل ہے۔ اس غزل میں آٹھ بار اللہ تعالی کے ناموں میں پانچ بار حق اور ایک بار کردگار، یزداں اور ذاتِ پاک استعمال ہوا جو مصرعوں اور مضمون کی رعایت سے رکھا گیا۔

شعر(١) : حق جلوہ گرزِ طرزِبیان محمدۖست ٭ آری کلامِ حق بزبان محمدۖست
(ترجمہ): حق ظاہر ہوا محمدۖ مصطفی کے اندازِ بیان سے ہاں حق کا کلام محمدۖ کی زبان سے جاری ہوا۔

(تشریح و محاسن): خدا کی معرفت اور دینِ اسلام حضرت محمدۖ کی گفتگو ہی سے ظاہر ہوئے اور بے شک قرآنِ کریم اور احادیثِ قدسی کو ہم نے محمدۖ کی زبان ہی سے سنا۔ مصرعہ اوّل میں ترکیب”طرزِبیان ” غالب کا منفرد ”طرزِبیان” ہے اور یہی پورے شعر کی جان بھی ہے۔ مسلمانوں سے ہٹ کر قریش کے کفار اور مکّہ و مدینہ کے مشرکین بھی اس بات کے قائل تھے کہ پیغمبرۖ اکرم سچے، امین اور صادق تھے۔ ان کی زبان سے کبھی غلط یا جھوٹا بیان ادا نہ ہوا۔ یہی محمدۖ کاا طرزِ بیان تھا اور یہی محمدۖ کے لہجہ کا اثر بھی تھا کہ جو شخص بھی انھیں سنتا تھا وہ دل سے ان کی صداقت کاقائل ہو جاتا۔

اسی لئے قرآنِ کریم اور احادیثِ قدسی کو جب لوگوں نے آپ کی زبانِ مبارک سے سنا تو بلا کسی تامل اور شک کے فوراً قبول کیا اور ان کو من و عن محفوظ کیا۔ مختصر الفاظ میں اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے خداکو، دینِ خدا کو اور کلامِ خدا کو محمدۖ کے ذریعہ سے پہچانا۔ غالب نے اس شعر میں سورہ النجم کی آیت تین اور چار سے استفادہ کیا کہ ”اور نہ اپنی خواہش سے منھ سے بات نکالتے ہیں یہ تو حکم خدا کہتے ہیں جو بھیجا جاتا ہے”۔ اس شعر میں صنعتِ مراعات النظیر کی دو مثالیں ہیں یعنی بیان، زبان، اور کلام کو ایک جگہ جمع کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے مناسبت رکھتے ہیں۔ حق، کلامِ حق اورمحمدۖ کو بھی ایک ہی جگہ نظم کیا گیا ہے۔ اس شعر میں صنعتِ تلمیح ہے جس میں حق سے مراد ہوالحق حقِ تعالی او رکلامِ حق سے مراد قرآنِ مجید ہے۔ پورا شعر صنعتِ تعلیق میں ہے۔

صنعتِ مسجع متوازی میں دونوں قافیے”بیان اور زبان” ہیں جو ہم وزن ہم عدد او رحروف روی میں برابرہیں:
شعر(٢): آئینہ دار پر توِ مہرست ماہتاب ٭ شانِ حق آشکار زشانِ محمدۖست
(ترجمہ): جس طرح چاند سورج کی روشنی کا مظہر(آئینہ دار) ہے اُسی طرح خدا کی شان بھی محمدۖ کی شان سے ظاہر ہوتی ہے۔

(تشریح و محاسن): جیسا ہم سب جانتے ہیں چاند کا اجالاسورج کی روشنی کی بدولت ہے یعنی رات کے وقت ہم جو روشن چاند کو دیکھتے ہیں اُس کی روشنی چھپے ہوئے سورج کی بدولت ہے جسے ہم نہیںدیکھ پاتے۔ چاند، سورج کی روشنی کا آئینہ ہے اسی طرح سے حضرت محمدۖ مصطفی خدا کی شان و شوکت کے مظہر ہیں۔ ہم نے محمدۖ مصطفی کی شان اور عظمت میں اللہ تعالی کی شان و شوکت کی جھلک دیکھی ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر یہ محمد مصطفی کی شان او رمنزلت ہے جس کی وجہ سے ہم اللہ تعالی کی شان و شوکت کو محسوس کرسکے۔ اس شعر کی ادبی خوبی یہ ہے کہ اس میں خوب صورت تشبیہ کی بنیاد پر پورا شعر تعمیر کیا گیا ہے۔

ذات اقدس کو سورج جس کی روشنی اور گرمی ذاتی ہے اور ذات ختمی مرتبت کو چاند جس کی روشنی اکتسابی ہے پیش کیا گیا ہے ۔ اس شعر میں غالب نے کم از کم تین قرآنی آیات جو آنحضرتۖ کی شان میں نازل ہوئے ہیں اس کی روشنی کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں روشنی نور اور رسالت آپ سے منسوب ہیں۔ سورہ الاحزاب آیت 45 اور 46 جس کا ترجمہ ہے۔ اے نبیۖ ہم نے آپ کو گواہ بنا کر ، خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا آپ خدا کے حکم سے خدا کی طرف بلانے والے چمکتے چراغ ہو۔ سورہ المائدہ کی پندرھویں(15)آیت میں ارشاد ہوتا ہے۔

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتا ب آئی۔ سورہ النسا کی آیت (174)میں ارشاد ہوتا ہے۔ اے لوگو بے شک اللہ کی جانب سے تمہاری طرف روشن دلیل اور روشن نور آیا۔ صنعت مراعات النظیر میں مہر (سورج)ماہتاب(چودھویں کا چاند) پرتوی(عکس) آئینہ شامل ہیں۔ صنعت لف و نشر مرتب بھی اس شعر میں موجود ہیں۔مہر اور ماہتاب اول اور اسی ترتیب سے ہیں جس طرح سے حق تعالی اور محمدۖ مصرعہ ثانی میں ہیں۔ صنعتِ تکرار میں شان کی تکرار نے شعر کی غنائیت، روانی، شفتگی کے علاوہ اس کے معیار کو بلند کردیا ہے۔ یہ شعر بھی صنعتِ تعلیق میں ہے جس میں پہلے مصرعے کی محکم دلیل نے دوسرے مصرعہ کو معتبر بنادیا یعنی حضرت محمد مصطفی کی شان بھی بلند اور ارفع اس لئے رہی کہ اللہ جل شانہ ہے۔ یہ شعر بھی نعتیہ مضمون کا عالی شعر ہے جو بہت سادہ ہوتے ہوئے بھی عمیق مطالب کا ترجمان ہے۔

شعر(٣): تیر قضا ہر آئینہ در ترکشِ حق ست ٭ اما کشاد آن ز کمانِ محمدۖست
(ترجمہ): تقدیر کا تیر بے شک حق تعالی کے ترکش میں ہے لیکن وہ محمدۖ کی کمان ہی سے چھوٹتا ہے۔

(تشریح و محاسن): بے شک کاتبِ تقدیر حق تعالی ہی ہے لیکن تقدیر پر عمل حضرت محمدۖ کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ یعنی بگڑی ہوئی تقدیریں حضورۖ کے دستِ مبارک ہی سے بن جاتی ہیں۔ یعنی حضور ۖ کی رضا مندی حق تعالی کی رضا مندی ہے۔ اس شعر میں بھی غالب دو قرآنی آیات کے مطالب نظم کئے ہیں۔”جو لوگ آپۖ کی بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ی سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوںپر ہے”۔(سورہ الفتح، آیت:10) ”جو خاک آپ نے پھینکی وہ آپ نے نہ پھینکی وہ اللہ نے پھینکی”(سورۂ الانفال، آیت:17) یہ شعر مطلب اور بیان کے لحاظ سے عمدہ ترین شعر ہے اور یہ سہل ممتنع میں شمار ہوسکتا ہے۔تیر قضا، ترکشِ حق اور کمان محمدۖ عمدہ اور نادر ترکیبیں ہیں۔ یہ شعر بلاغت کے لحاظ سے کم ترین الفاظ میں کثیر معنی کا نقیب ہے چنانچہ اس طرز بیان سے غالب کے مصرعہ کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔”کہتے ہیں کہ غالب کا ہے

اندازِ بیان اور”
شعر(٤): دانی اگر بہ معنیِ لو لاک وارسی ٭ خود ہر چہ حق ست ازانِ محمدۖ ست
(ترجمہ): اگر تو لولاک کے معنی سمجھ لے تو تجھے معلوم ہوگا جو کچھ خدا کا ہے وہ سب محمدۖ ہی کا ہے۔
(تشریح و محاسن): اگر تو حدیث قدسی ”لولاک لما خلقت الافلاک” کے معنی جان لے (اے محمدۖ اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو پیدا نہ کرتا) یعنی یہ کائنات کے باعثِ محمدۖ ہیں۔ پھر تجھ کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا کی اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب محمدۖ ہی کے طفیل سے ہے۔ مصرعہ اوّل میں صنعتِ تلمیح اور تضمین ہے۔ لو لاک سے مراد حدیث قدسی لو لاک ہے۔ اس شعر میں صنعتِ تعلیق ہے یعنی حضورۖ کے صدقے میں کائنات بنی ہے تو یقینا جو کچھ کائنات میں ہے وہ سب محمدۖ کی وجہ سے ہے۔ یہ شعر بھی نعت کے کلیدی موضوعاتی مضامین میں شامل ہے۔

شعر(٥): ہر کس قسم بہ آنچہ عزیز ست می خورد ٭ سوگندِ گرد گار بجانِ محمدۖ ست
(ترجمہ): ہر کوئی اس کی قسم کھاتا ہے جو اسے پیارا ہوتا ہے اسی لئے خدا تعالی نے حضرت محمدۖ کی جان کی قسم کھائی ہے۔

(تشریح و محاسن): غالب نے ایک عقلی اور منطقی معروضہ اور تجربہ پیش کیا ہے ہر شخص اپنی بات معتبر ثابت کرنے کے لئے اپنی پسندیدہ چیز کی قسم کھاتا ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے اپنے سب سے زیادہ محبوب بندے محمدۖ کی جان کی قسم کھائی ہے۔ غالب کے اس شعر کا مرکزی نقطہ محبت اور حُب ہے جو نعت کے موضوعات کا بھی مرکزی نکتہ ہے۔ یہاں غالب سورة الحجر کی آیت(72) کی طرف اشارہ کررہے ہیں(ترجمہ) آپ کی جان کی قسم بے شک یہ لوگ اپنے نشے میں بہک رہے ہیں۔ اس شعر میں محاورہ”قسم می خورد” کے استعمال نے شعریت میں اضافہ کیا ہے یہ شعر صنعت تضمین میں بھی ہے۔

شعر(٦): واعظ حدیثِ سایۂ طوبیٰ فروگذار ٭ کاین سخن ز سرور وانِ محمدۖست
(ترجمہ): اسے واعظ طوبیٰ کے سایۂ کی بات چھوڑ دے کیوں کہ اب یہاں حضرت محمدۖ کے سروِ رواں کا ذکر ہو رہا ہے۔

(تشریح و محاسن): طوبیٰ جنت کا وہ بلند درخت ہے جس کے سایہ میں جنتی رہیں گے۔ غالب نے اس مضمون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اے واعظ یہ طوبیٰ کی لن ترانی کو چھوڑ دے اب ہمیں طوبیٰ کے سایہ کی ضرورت اس لئے نہیں کہ اب ہمارے درمیان سروِ محمدۖ مصطفی بلند قامت موجودہے جس کا سایہ رحمت طوبیٰ سے زیادہ آرام بخش ہے اب ہم رحمت للعالمین کے سائے میں رہیں گے۔ یہاں یہ بھی ایہام ہے کہ حضورۖ کی ذات اقدس اور بلند مرتب شخصیت کا سایۂ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ہے۔

غالب نے اس شعر میں صنعتِ تلمیح یعنی سایۂ طوبیٰ سے شعر میں رنگ بھرا ہے اس میں صنعت تقابل اور صنعت استبتاع بھی موجود ہیں۔ طوبیٰ چونکہ بلند ترین بہشتی درخت ہے اس کی نسبت سروقد حضورۖ سے دی گئی ہے جس میں صنعتِ رجوع ہے۔ ان صنعتوں کے علاوہ اس میں صنعتِ مبالغہ کا مزا بھی موجود ہے۔ اگر چہ غالب صنعت گر نہیں لیکن لاشعوری طور پر یہ صنعتیں ان کے کلام میں اس قدر زیادہ تعداد میں نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے غالب کی زبان پر مہارت اور صنائع اور بدائع سے واقفیت ظاہر ہوتی ہے۔

( مضمون کی طوالت کے پیش نظر اسے دو قسطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔یہ پہلی قسط ہے، دوسری اور آخری قسط اگلے شمارے میںہو گی۔براہ کرم اسے پڑھنا نہ بھولئے گا۔ادارہ اپنا انٹرنیشنل)