گزشتہ روز شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کے زیر اہتمام 6 ستمبر کا پروگرام پیش کیا گیا

6 September Program

6 September Program

فرانس (شاہ بانو میر) یورپ میں کوئی پروگرام کرنا ہو تو جیسے جاں جوکھم کا کھیل ہے واحد یہ ادارہ ہے جہاں پروگرام ایک طے کیا جاتا ہے مگر اتنے شعبے اتنے دماغ اتنے موضوعات زیربحث آجاتے کہ پروگرام کی طوالت بھی بڑہتی اور علم کا فیضان بھی یہی کل ہوا پروگرام تھا 6 ستمبر کیلیۓ افواجِ پاکستان کے ساتھ خصوصی طور پے پشاور کے شہداء کو خراجِ تحسین پیس کرنے لیۓ مگر آسمان پر چمکتے ستارے جیسے سنت کے تحت کئے گئے دن کی روشنی میں اپنی چمک پھیلانے آگئےایک سے ایک بڑھ کر نام اور کارکردگی کے ساتھ نہ یہاں اینٹ گارے کو بھگو کر چار دیواری کھڑی کی گئی کہ مردہ ہوتے ادارے کو پیسے کے تحت زندہ کیا جایۓـ

نہ یہاں جعلی مصنوعی کارکردگی پر بانٹنے کیلیۓ مالِ حرام تھا کہ فی سبیل اللہ یوں کپ دیے جائیں کہ لینے والا نام سن کر پریشان ہو کر کپ دینے کی وجہ پوچھے الحمد للہ اس وسیع ہال میں پروگرام کا انعقاد اللہ پاک نے کروایا جہاں پورا ہفتہ قرآن پاک کی کلاس ہوتی اسی جگہہ پر جھوٹ نہیں ہوتا رحمت الہیٰ برکتِ خداوندی ہوتی ہے شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کسی عورت کا نام نہیں ہے نہ ہی کسی تشہیر کی غرض پوشیدہ ہے اس میں یہ ایک کوشش کا عنوان ہے ایک جدو جہدِ مسلسل ہے جس کو کئی بار سازشوں سے گرایا گیا کئی بار مسائل کا شکار کیا گیا قصور وہ عورت کی بات کرتی ہے مردوں کی اجارہ داری سیاست سے ہٹ کر صاف ادارے کی بنیاد چاہتی ہے ـ اور یہ بات ان ذہنوں کو قابل قبول نہیں جو آپس میں اختلاط سے ایک بے ہنگم جھوٹ اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کیلیۓ ایک دوسرے سے الگ ہونے کو تیار نہیں۔

لیکن ہر پریشانی کو جھیلا ہر مُصیبت کو برداشت کیا سچائی کے ساتھ اپنے پروردگار کو کہا
اے مالکِ دو جہاں میں ناتواں کرم کر اور میرے ارادے کی سچائی کو اپنی حمایت عطا فرما اور پھر اللہ کی مدد آئی اور اللہ پاک نے ایسی راہ دکھائی کہ دنیا فراموش ہو گئیـ دنیا کوچھوڑا اپنے ربّ کی خاطر تو اس نے اپنی بے شمار رحمتوں کے ساتھ سب کچھ واپس لوٹا دیا بے پناہ اضافے کے ساتھ الحمد للہ جھوٹے خوش آمدی رویے دیکھ دیکھ کر طبیعت جیسے اب باغی ہوگئی اس جھوٹے معاشرے اور ذاتی تشہیری اداروں سے شاہ بانو میر ادب اکیڈمی الحمد للہ آج کئی شعبوں پر مشتمل طاقتور اور مضبوط خواتین کا واحد ادارہ بن چکا جو فرانس میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یہی وجہ ہے بنیاد سچائی ہے۔

اس لئے یہ ادارہ ہر سازش ہر منفی سوچ کو روندتا ہوا اللہ کی رضا سے الحمد للہ حق کا پیغام ادب ہے یا دین بڑے ادب سے پھیلا رہا ہے ـ ذہین دماغ کسی ادارے کا اثاثہ ہوتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ رہنما خود جاہل نہ ہو اور چھوٹی سوچ کا مالک نہ ہو خوفزدہ نہ ہو دوسروں سے اپنی قابلیت (اگر ہے تو ) اس پر بھروسہ کر کے اپنے بازوؤں کو مضبوط کرے سیاست کی گندگی سے پاک صرف پاکستان صرف دین اور نسل کیلیۓ پُرعزم خواتین کا اجتماع جب ہوتا جب رہنما خود ایک قدم پیچھے رہے۔

اور پھر دیکھے کہ کیسے تروتازہ بادِِ نسیم کا ظہور ہوتا ایک سے ایک بڑا دماغ ذہین خاتون اور ان کا ہُنر ادارے کو خراماں خراماں کیسے آگے لے جاتا یہی کامیابی ہے اصل سچیّ کل کا پروگرام ہر دلعزیز سماجی رہنما خوش مزاج خوش گفتار بلند سوچ کی مالک پیپلز پارٹی کی صدر حق باھو ٹرسٹ کی صدر محترمہ روحی بانو کی ٹیم اور خواتین اور بچیوں کے ساتھ منایا گیا ـ روحی بانو صاحبہ ہاتھوں میں گلدستہ ـ مٹھائی کی سوغات لئے داخل ہوئیں تو دوسری جانب سامنے سے وہی منظر تھا اکیڈمی کی خواتین مہمان خصوصی کیلیۓ ہاتھوں میں گلدستہ تھامے اور مٹھائی کا تحفہ لئے کھڑی تھیں۔

محبتوں کا خوبصورت تبادلہ ہوا 6 ستمبر بیادِ پشاور شہداء اور شہداء 65 کی یاد میں منعقد کیا گیا ساتھ ہی ساتھ میگزین کی تقریب رونمائی کا چھوٹا سا پروگرام بھی تھا پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اس کے بعد محترمہ وقار النساء صاحبہ نے ادارے کی بانی اور در مکنون کی بانی محترمہ شاہ بانو میر صاحبہ کو خطاب کی دعوت دی کہ وہ آئیں اور اپنی ٹیم کا مکمل تعارف کروائیںـ شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کی روحِ رواں محترمہ وقار النساء صاحبہ جس جوش و جنون اور جزبے کے ساتھ پروگرام کیلیۓ بھاگ دوڑ کرتی رہیں وہ انہی کا خاصہ ہےـ

انیلہ احمد ٹیم کا ایک اور حساس خوبصورت نام نہ صرف عملی طور پر ہر جگہہ ثابت قدمی سے ہمارے ساتھ ہیں بلکہ ان کا لکھنے کا جنون مختلف اندازِ تحریر انکی الگ پہچان ہے نگہت سہیل صاحبہ اپنی ذات کی طرح خوبصورت پیاری شخصیت باوجود بے پناہ مصروفیات کے پھر بھی وہ کل کے پروگرام میں پہنچیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کیا شاز ملک صاحبہ نیا نام مگر سب سے مختلف حقیقی معنوں میں منفرد سوچ رب کی خاص خوبصورت عطا کہ پڑھنے والا آگے پڑھنا بھول جاتا کہ پہلے اس کا مطلب تو سمجھے ہماری اکیڈمی کی خوش نصیبی کہ اللہ پاک نے ہمیں درمکنون عطا کئے۔

بریکنگ نیوز ناصرہ خان صاحبہ کسی تعارف کی محتاج نہیں جہاں گئی ہیں وہاں کام کیا اور سامنے موجود باتیں بنانے والے عاجز لیکن شاہ بانو میر ادب اکیڈمی میں شمولیت پر اظہارِخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ان کو بہت اچھا لگ رہا ہے آج سب خواتین کے درمیان شاہ بانو میر صاحبہ وقار النساء انیلہ احمد شاز ملک نگہت سہیل صاحبہ نے انہیں گرمجوشی سے خوش آمدید کہا شعبہ اطلاعات و نشریات ان کو سونپا گیاـ نینا خاں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اکیڈمی کو مبارکباد پیش کی اور انکی کامیاب کاوش کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیاـ

شبانہ چوہدری اپنی جاب کی وجہ سے قدرے تاخیر سے پہنچیں لیکن مختصر وقت میں بھرپور حصہ لیا
ہماری سپورٹنگ ٹیم جن کے پاس تمام انتظامی معاملات ہوتے ہیں جو عرصہ دراز سے انصاف وویمن ایسوسی ایشن ہو یا شاہ بانو میر ادب اکیڈمی ہمیشہ کا ساتھ محترمہ رفعت جہانگیر صاحبہ طااہرہ شہزاد صاحبہ رخسانہ صاحبہ آپ کی پرخلوص کوشش کا بہت شکریہ نور القرآن کی جانب سے ہماری پیاری استاذہ محترمہ نوشین محمد صاحبہ تشریف لائیں اور انہوں نے خوبصورت اعلان کیا کہ انشاءاللہ 3 درمکنون بین القوامی ادارے نور القرآن کی ایڈمنز کے ساتھ بنایا جائے گا انشاءاللہ ہ اللہ کا خاص فضل ہوا کہ دین کو دنیا کے ساتھ اس نے جوڑا کہ ایک مکمل جامع پیغام سامنے جائے۔

سب خواتین نے اظہارِ خیال کیا یوتھ ٹیم مبشرہ نعیم مریم شباب احمد ایرج خالد اور انیسہ سہیل اپنی ماوؤں کی طرح بیحد حساس اور خوبصورت سوچ یہ کامیابی ہے اکیڈمی کی کہ اگلی نسل کو پاکستان سے جوڑ دیا انشاءاللہ یہ بچیاں یہاں پیدا ہوئی ہیں اس لئے ہم سے زیادہ مضبوط کام کریں گی فاطمہ موسوی صاحبہ نے سارے پروگرام کا ماحول تبدیل کر کے رکھ دیا جب انہوں نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ انتہائی جذب کی کیفیت سے سنائی پروگرام کے درمیان بچوں سے خواتین سے سوالات پوچھے گئے اور انہیں میڈلز دیے گئے جس پر وہ بے انتہاء مسرور تھے۔

محترمہ شبانہ عامر جو خود اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں انہوں نے اعلان کیا کہ انشاءاللہ خلوص اور محبت کے ساتھ اکیڈمی کے ساتھ مل کر چلیں گی آخر میں میں پیارے دلکش نرم و نازک انداز بیاں کی مالکہ خوبصورت سوچ رکھنے والی ہماری پیاری بہن روحی بانو صاحبہ نے اظہارِ خیال کیا ایسی ذہانت کے ساتھ کہ میں حیران تھی کہ انہوں نے پروگرام کو کس قدر گہرائی اور سنجیدگی سے سنا ہے ایک ایک پہلو پر خیال کا اظہار ان کی کامیابی کی اصل ضمانت ہے خود کو بڑہاوہ نہیں دیتیں اجتماعی بات کرتی ہیںـ

جبکہ ناکام ہوتے ادارے دیکھیں تو وہاں رہنما اپنی ذات سے باہر نہیں آتے نتیجہ ممبران دلبرداشتہ ہو کر بکھر جاتےـ روحی بانو صاحبہ نے شاہ بانو میر کی ماضی کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یہ عام اعلان نہیں پوری ذمہ داری سے کہہ رہی ہوں کہ وہ سوچیں جو مثبت کام والوں کو ملنے نہیں دیتیں کیونکہ ان کے اپنے کام میں قابلیت میں کہیں موجود ہے مگر آج میں اس ہال میں جہاں ہم سب موجود ہیں یہ اعلان کرتی ہوں کہ ہم سب مل کر چلیں گی اور محبت اتفاق اتحاد کے ساتھ رول ماڈل بنیں گی خواتین کو ہر اس پلیٹ فارم پر اکٹھے چلنا چاہیے جہاں سے مثبت کام کی حقیقی خوشبو آتی ہےـ بھرپور تالیوں میں ان کے اس بیان کو سراہا گیاـ

آخر میں شاہ بانو میر صاحبہ نے اس گھر کی خاتون کا خاص شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہال مہیا کیا آنے والی خواتین اور بچوں کا شکریہ ادا کیا مہمانِ خصوصی اور انکی ٹیم کا شبانہ عامر فاطمہ موسوی سب کا اور خاص الخاص اپنی پیاری مخلص ستاروں اور ہیروں جیسی جگمگاتی ٹیم کا خصوصی شکریہ جن کے بھرپور تعاون اور دن رات کی لگن اور محنت کے بغیر یہ پروگرام نہیں ہو سکتا تھا اپنی پیاری یوتھ ٹیم کا جن کی ٹیکنیکل سپورٹ ہر لمحہ ساتھ رہی اپنی سپورٹنگ ٹیم کا جن کے انتظامی معاملات کی گرفت ہر بار مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔

آخر میں خاص شکر اس اللہ پاک کی ذات کا جس نے اس عاجز پر اتنا کرم کیا کہ ایسے زبردست دماغ اور کامیاب نام عطا کئے کہ نہ صرف اکیڈمی بلکہ پاکستان کا نام بھی 6 ستمبر کے اس پروگرام میں عرصے کے بعد جگمگاتے سب نے دیکھا الحمد للہ آخر کار طویل محنت اور مشقت کے بعد اللہ کی رضا سے خواتین اور بچیوں کیلیۓ وہ پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہو گئی کہ جس پر آج ہر ذی شعور خاتون نے شمولیت اختیار کر کے اور مہمان کے طور پے شمولیت کر کے پسندیدگی کی مہر لگا کر
اسلام کے طریقہ کار کو حتمی رضامندی دے دی۔

خواتین انشاءاللہ خواتین کے ساتھ بغیر کسی تشہیری کوشش کے پاکستان کیلیۓ اپنی نسلوں کیلیۓ (اپنے لئے نہیں) انشاءاللہ پہلے سے زیادہ مضبوطی سے کام کریں گی در مکنون حاضر ہے شاہ بانو میر ادب اکیڈمی حاضر ہے تمام مثبت سوچ رکھنے والی خواتین کیلیۓ عمل والیوں کیلیۓ محنت والیوں کیلیۓ مخلص احسن نیت والیوں کیلیۓ بانو پلس بانو کے ساتھ خوبصورت آزاد سوچ کے ساتھ ہونے والی یہ تقریب باوقار انداز میں اپنے اختتام کو پہنچی قائد سے جنرل راحیل تک کے ادوار کو آج سمیٹا گیا اور استحکام پاکستان کیلیۓ ہر دل دعاگو رہا جزاک اللہ خیر۔