محمد شکیل چغتائی کی فرزانہ باری، شازیہ مری، شنکائی ذہین کروخیل سے ملاقات

S. Chughtai & AMP S. Mari

S. Chughtai & AMP S. Mari

جرمنی (انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلن MCB یورپ کی اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں چیرمین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی، چیف کوآرڈینیٹر پاکستان عوامی تحریک یورپ ،عالمی سربراہ کشمیر فورم انٹرنیشنل، مشہور ایشین یورپی صحافی و شاعر، محمد شکیل چغتائی نے خصوصی دعوت پر ہائینرش بول فائونڈیشن کے سیمینار ”پاکستان ا ور افغانستا ن کی سیاست میں خواتین کے کوٹہ کا جائزہ” میں پاکستان و افغانستان کے وفود سے ملاقات کی۔

جن میں Centre of Excellence for Gender Studies قائد اعظم یونیورسٹی کی بنیادی ڈائریکٹر اور HEC کے تحت National Committed Gender Studies کی چیر پرسن، ڈاکٹر فرزانہ باری؛ پی پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری؛ پی ایم ایل (ن) کی رکن قومی اسمبلی، سکریٹری Caucus شائستہ پرویز ملک ؛افغانستانی وفد کی قائد، رکن افغان پارلیمنٹ، شنکائی ذہین کروخیل ؛افغان پارلیمنٹ کی سابق رکن، خصوصی کمیشن برائے انتخابی اصلاحات کی رکن، سبرینہ ثاقب اور افغان پارلیمانی رکن شاہ گل شامل تھیں۔

انہوں نے ظہرانے کے وقفہ میں ان خواتین سے تبادلہ ء خیال کیااور پاکستان و افغانستان کی سیاست میں خواتین کے کردار،بچوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی، ان ممالک میں حقیقی جمہوریت کے قیام،دہشت گردی کے خلاف کاروائیوںا ورموجودہ سیاسی و معاشی صورتحال کے بارے میں تفصیلاً بات چیت کی۔ شکیل چغتائی نے کہا کہ”سابقہ فوجی حکومتوں کو خراب صورت حال کا ذمہ دار قرار دینا فیشن بن گیا ہے اور انکی اچھی باتوں کو بھی جان بوجھ کرنظر انداز کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ٦٥سال میں خواتین کا سب سے بڑا پاکستانی وفدسابقہ صدرریٹائرڈجنرل پرویز مشرف کے دور میںبیرونی ممالک کے دورے پرگیا۔مہنگائی،بیرونی قرضوں اور داخلی امن وامان کی صورتحال آج سے کہیں بہتر تھی۔ آج جس جمہوریت کا ڈھول پیٹا جاتا ہے وہ صرف خالی خولی بیان بازی تک محدود ہے۔پاکستان میں عدل و انصاف ناپید اور جور، جبر ،جہالت عروج پر ہے۔حقیقت میں پاکستان کو سچی جمہوریت کبھی نصیب نہیں ہوئی۔پاکستان کے قیام سے اب تک ملک میںآمرانہ طرز حکومت کا دور دورہ رہا ہے،چاہے فوجی شکل میں ہو چاہے سول میں۔ہمیں آپس میں بات کرتے ہوئے سچ کو تسلیم کرنا چاہئے۔”

شازیہ مری نے تسلیم کیا کہ حقیقی جمہورت کے حصول کا سفر جاری ہے،خصوصاً خواتین کے سیاسی کردار کو موثر اوربارسوخ بنانے کے لئے کئی منازل طے کرنا باقی ہیں۔جبکہ شائستہ پرویز مصر رہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی پہلے تین سال کی کامیابیاں بھی مصنوعی تھیں ،جنہوں نے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔انکے خیال میں میاں محمد نواز شریف کا دور جمہوریت کا سنہری دور ہے، جسمیں ملک ترقی کا راہ پر گامزن ہے۔ یاد رہے کہ انکے شوہر بھی ن لیگ کی طرف سے رکن اسمبلی ہیں۔

ڈاکٹر فرزانہ باری بھی ملک میں بچوں و خواتین کے حقوق کی پامالی پر فکرمند تھیں اور حالات میں بہتری کے لئے جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں۔ اسی طرح افغان رکن پارلیمان شنکائی ذہین کروخیل بھی افغانستان میں حقیقی جمہورت کی منزل کے حصول میں، اپنی ساتھیوں سبرینہ ثاقب اور شاہ گل کی طرحپر امید نظر آئیں۔ ان کے خیال میں افغانستان میں حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں اور سیاست میں خواتین کو اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع دئے جا رہے ہیں۔دونوں ممالک کی خواتین رہنمائوں نے ان ممالک میں انتہا پسندی، جہادی عناصر کی ملک دشمن سرگرمیوں اور جہاد کی من مانی تشریحات پر تشویش کا اظہار کیا۔