مراد علی شاہ اپنی حکمرانی پر توجہ دیں

Murad Ali Shah

Murad Ali Shah

تحریر : محمد اشفاق راجا
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے منتخب ہونے سے پہلے ہی اس عزم کا اظہار کر دیا تھا کہ وہ یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کریں گے کہ سندھ حکومت کو دبئی سے چلایا جا رہا ہے، لیکن وہ جس انداز میں بھاگم بھاگ پہلی ہی فرصت میں دبئی پہنچے ہیں، اس سے تو یہ غلط یا صحیح تاثر اور گہرا ہوگا۔ آصف علی زرداری دبئی میں مستقل رہائش رکھتے ہیں، لندن اور امریکہ کا پھیرا بھی لگا لیتے ہیں لیکن پاکستان کا رخ نہیں کرتے۔ ان کے پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی طبیعت ناساز ہے، اس لئے وہ پاکستان نہیں آتے، لیکن اگر اس طبیعت کے ساتھ وہ امریکہ تک کا طویل سفر کرسکتے ہیں اور اکثر و بیشتر برطانیہ بھی آتے جاتے ہیں تو پھر دو گھنٹوں کی فلائٹ کے فاصلے پر کراچی آنے میں کیا امر مانع ہے؟ اس کا مطلب تو یہی لیا جاسکتا ہے کہ کراچی نہ آنے کا سبب کچھ اور ہے، ناسازء طبع نہیں ہے۔ ان حالات میں اگر وزیراعلیٰ حلف اٹھاتے ہی دبئی پہنچ جائیں گے تو دبئی سے حکمرانی کا تاثر ختم تو نہیں ہوگا۔

سید قائم علی شاہ کے ہوتے ہوئے یہ بھی کہا جاتا تھا کہ آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور ان کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی بھی وزیراعلیٰ بنے بیٹھے ہیں اور جو چاہے کرتے ہیں۔ سندھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز صحافی علی حسن ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فریال تالپور کا سندھ کے سرکاری امور میں کس حد تک عمل دخل ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس تھا، فریال تالپور مختلف معاملات میں قائم علی شاہ کی بار بار سرزنش کر رہی تھیں۔ انہیں (قائم علی شاہ کو) اس بات پر بار بار معتوب کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے جو کام کہے تھے، وہ نہیں ہوئے۔ اس اجلاس میں اس وقت کے وزیر سید علی نواز شاہ بھی موجود تھے، جب رسمی اجلاس ختم ہوگیا تو علی نواز شاہ نے فریال تالپور کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ تو قائم علی شاہ بے چارے پر گرج رہی ہیں، لیکن یہ کیا کریں جن لوگوں کی تقرریاں آپ کی سفارش پر ہوئی ہیں۔

وہ ان کو خاطر ہی میں نہیں لاتے۔ فریال تالپور کی روانگی کے بعد قائم علی شاہ، علی نواز شاہ پر برہم بھی ہوئے کہ تم میری نوکری ختم کرانا چاہتے ہو کیا؟” تمام تر احتیاطوں کے باوجود اب قائم علی شاہ کی نوکری تو ختم ہو ہی گئی، اب سوال یہ ہے کہ کیا سید مراد علی شاہ کو اس صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جو سینئر شاہ صاحب کو درپیش تھی اور اگر کرنا پڑے گا تو اس صورت میں وہ کیا طرز عمل اختیار کریں گے؟ آخر انہیں بھی تو نوکری عزیز ہوگی، قائم علی شاہ تو پھر بھی بزرگ تھے اور طویل سیاسی کیریئر میں تین بار وزیراعلیٰ رہ چکے، وہ اگر نوکری بچانے کے لئے فریال تالپور کی ڈانٹ ڈپٹ سن لیتے تھے تو کیا اب مراد علی شاہ کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔

PPP

PPP

سندھ میں پیپلز پارٹی کے وزرائے اعلیٰ کے لئے مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ صوبے اور کراچی شہر کے مخصوص حالات اور فضا کے اندر رہ کر ہی کام کرسکتے ہیں، پارٹی کی قیادت چونکہ شہر میں موجود ہوتی ہے، اس لئے وہ بھی بیوروکریسی کو براہ راست احکامات جاری کرتی رہتی ہے، بلکہ عموماً ترجیحی طور پر ایسے ہی کیا جاتا ہے۔ مراد علی شاہ کے والد سید عبداللہ شاہ کی وزارت علیا کے دوران تو میر مرتضیٰ بھٹو اپنے گھر کے باہر کلفٹن میں قتل ہوگئے تھے۔ وہ پولیس کی گولیوں کی زد میں آئے یا پھر اس کے پردے میں کسی اور کی گولی کا نشانہ بنے۔ ان کا خون سر چڑھ کر نہیں بولا، وہ خاک نشین بھی نہیں تھے۔

ان کی بہن وزیراعظم تھیں، صوبے میں اس پارٹی کی حکومت تھی جو ان کے باپ نے بنائی تھی اور میراث میں بے نظیر بھٹو کے حصے میں آگئی تھی، ان کی والدہ نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میر مرتضیٰ کو آگے بڑھا کر تخت اقتدار پر متمکن کریں لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ ان کا خون بھی رزق خاک ہوگیا۔ بے نظیر بھٹو ان کے قتل کے بعد کم از کم دس سال زندہ رہیں، لیکن وہ اپنی زندگی میں ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچا سکیں۔ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ کا خون جن کی پارٹی کی اب بھی سندھ میں حکومت ہے، اگر اس طرح رائیگاں چلا جائے تو تصور کیا جاسکتا ہے عام لوگوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔

ان حالات میں اگر یہ تاثر بنتا ہے اور گہرا ہوتا ہے کہ سندھ میں وزیراعلیٰ سے زیادہ فریال تالپور کا حکم چلتا ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد تو ہوگی۔ اب آصف علی زرداری جہاں کہیں بھی ہوں ان کا حکم تو چلے گا۔ وہ اب پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر بھی ہیں اور تمام پارلیمینٹرین اس پارٹی کے رکن ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مراد علی شاہ اس تاثر کو زائل کرسکیں۔ انہیں اس جانب زیادہ توجہ بھی نہیں دینی چاہئے۔ یہ تاثر تو زائل نہیں ہوگا، البتہ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد جو ٹارگٹ اپنے سامنے رکھے ہیں اس کے زیادہ سے زیادہ حصے پر عملدرآمد کرالیں۔ ان کے عہد میں اگر کراچی ہی میں پوری طرح امن قائم ہو جاتا ہے جو اگرچہ پہلے کی نسبت تو کافی بہتر ہے، تاہم امجد صابری جیسے قتل کے واقعات اب بھی ہوتے ہیں۔ دو ہفتوں کے اندر کراچی اور لاڑکانہ میں رینجرز کی گاڑیوں پر حملے ہو چکے ہیں، اگر مراد علی شاہ کے دور میں ایسے واقعات رک گئے تو انہیں اس کا کریڈٹ جائیگا۔

زرداری صاحب نے انہیں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی سمری پر فوری دستخط کی ہدایت کر دی ہے۔ دبئی سے حکمرانی کا تاثر ختم ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ تاثر بہرحال ختم ہونا چاہئے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ان لوگوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے جو کسی نہ کسی انداز میں میگا کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔

Rangers

Rangers

ڈاکٹر عاصم نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ سیاست سے تائب ہوتے ہیں۔ دراصل وہ جس انداز میں پیرا شوٹ کے ذریعے میدان سیاست میں دھڑام سے کودے تھے اور کودتے ہی اقتدار میں حصے دار بن گئے تھے۔ پٹرولیم کی وزارت میں انہوں نے جس طرح بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، اب وہ کوئی راز تو نہیں رہ گیا۔ انہوں نے اقتدار کی ٹھنڈی چھاؤں اور معطر ہواؤں میں زندگی بسر کی تھی، اب ذرا سی دھوپ پڑی تو انہیں کہنا پڑا کہ انہیں گورنر بھی بنایا گیا تو وہ نہیں بنیں گے۔

ان حالات میں مراد علی شاہ کے لئے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ اگر وہ اگلے انتخابات تک وزیراعلیٰ رہتے ہیں تو بھی ان کے پاس 22 ماہ کی مدت ہے۔ اس عرصے میں وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں اور سیاست پر انمٹ نقوش بھی ثبت کرسکتے ہیں۔ انہیں اپنی پارٹی کی قیادت پر یہ بات واضح کر دینی چاہئے کہ ان کے پاس ناکامی کا آپشن نہیں ہے۔ اگر سندھ کے حالات میں بہتری نہ آئی تو لوگ یہی کہیں گے کہ ناکام وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہو گیا۔

Mohammad Ashfaq Raja

Mohammad Ashfaq Raja

تحریر : محمد اشفاق راجا