نریندرا مودی کی یورپ آمد پر برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا

Demonstration

Demonstration

برسلز: یورپ میں مقیم کشمیری ، پاکستانی اور بھارت کے اقلیتی گروپوں کے نمائندے جمعہ 13 نومبر کو بھارت وزیراعظم نریندرا مودی کی یورپ آمد پر پلیس لسمبرگ سکوائر برسلزمیں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ ہم بھارت کو ایک پیغام دیناچاہتے ہیں کہ وہ کشمیریوں اور بھارت کی اقلیتوں پر جن میں سکھ ، دللت، عیسائی اور مسلمان بھی شامل ہیں، جبرواستبداد زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا۔

پریس کانفرنس میں ورلڈ کشمیرڈائس پورہ الائنس یورپ کے صدرچوہدری خالد محمود جوشی، انفو کشمیر کے چیئرمین میر شاہجہاں او ر کشمیری رہنماء حاجی خلیل بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران بتایاگیاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ یورپ کے خلاف مظاہرے میں کشمیریوں کے علاوہ سکھ اور عیسائیوں سمیت بھارت کی اقلیتوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ مودی کی حکومت کشمیراور بھارت کے مختلف علاقے کے لوگوں کے خلاف اپنی ظالمانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارتی وزیراعظم کا تعلق ایک انتہاپسند تنظیم ’’آرایس ایس‘‘ کے ساتھ ہے جو ہٹلرکی نسل پرستانہ پالیسیوں پر یقین رکھتی ہے۔مودی کے وزارت عظمیٰ کے دوران انتہاپسندی کو فروغ ملاہے اور اس لعنت کو ختم ہونے کے بجائے جواز فراہم کیاجارہاہے۔بھارت میں سینکڑوں فنکاروں اور دانشوروں نے اقلیتوں کے ساتھ اس حکومتی رویئے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے ملنے والے اعزازات واپس کردئیے ہیں۔

علی رضا سید نے کہاکہ بھارت زبردستی کشمیر پر حکومت کررہاہے۔ اس بھارتی راج کو طاقت کے ذریعے، قتل وغارت کرکے، ریپ اور تشد کرکے جاری رکھاہواہے۔صرف پانچ نومبر کو کشمیرمیں ایک ہزار افراد گرفتارہوئے اور کاروائی مودی کی کشمیرآمد سے دودن قبل انجام پائی تاکہ یہ باور کروایاجاسکے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مودی کے دورے کا کوئی مخالف نہیں ۔مودی اور اس کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر ہندو انتہاپسندوں کی سرگرمیاں نظر انداز کردی ہیں۔یہ انتہاپسند ان لوگوں کو مارہے ہیں جو گوشت کھاتے ہیں یا اس کی تجارت کرتے ہیں۔

چیئرمیں کشمیر کونسل ای یو نے کہاکہ بھارت نے پاکستان کیساتھ مذاکرات کے درواز ے بند کردیئے ہیں اور علاقے میں صورتحال پر یشان کن ہے۔ جب بات چیت بند ہوجاتی ہے تو جنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس لئے دوایٹمی طاقتوں کے مابین جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اس بار ایک جوہری جنگ چھڑسکتی ہے جونہ صرف جنوبی ایشیاء کے لیے تباہ کن ہوگی بلکہ پوری دنیا کا سکون برباد کردے گی۔بھارت اپنے آپ کو ایک عالمی طاقت کے طورپر منواناچاہتاہے لیکن اسے اس کام کے لیے پہلے عالمی قوانین پر عمل کرناہوگا۔اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرناہوگااور کشمیریوں کو حق خودارادیت دیناہوگا جس کا ان سے وعدہ کیاگیاتھا۔

بھارت کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے جوستر سال سے بھارت کی مختلف حکومتیں کشمیریوں کے ساتھ کرتی آرہی ہیں۔انھوں نے زوردے کرکہاکہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ طاقت ، تشدداور دباکرکسی قوم کو زیادہ دیر تک غلام نہیں بنایاجاسکتا۔ بھارت کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق انہیں ان کا حق دیناہوگا۔ اب وقت آگیاہے کہ عالمی برادری آگے آئے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل میں مدد فراہم کرے۔ اسے جنوبی ایشیاء کے لوگوں اوررہتی دنیا کوممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی حکومت کو مذاکرات اور بات چیت پر آمادہ کرے تاکہ مسائل کوپرامن طورپر حل کیاجاسکے اور علاقے میں امن و خوشحالی آسکے۔انھوں نے کہاکہ کشمیرکونسل ای یوبزرگ کشمیری رہنماء سید علی گیلانی کی سات نومبرکو بھارتی وزیراعظم کی سری نگر آمد کے موقع پر پرامن ’’ملین مارچ‘‘ کی اپیل کی حمایت کرتی ہے ۔ اگر مودی ایک ریلی نکال سکتاہے تو پھر کشمیریوں کو بھی اجتماع کی اجازت ہونی چاہیے۔علی رضاسیدنے کہاکہ ہم کشمیری قیادت اور کارکنوں کی گرفتایوں کی اور بھارت حکومت کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

ہم تیرہ نومبر کو بھارت کی اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے مل کر مودی کی یورپ آمد کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور ہم بھارتی حکومت کی زیادتیوں کے خلاف آواز بلندکرتے رہیں گے اور کشمیریوں ، سکھوں، دللتوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈال کراسے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروانا ہوگا۔

پریس کانفرنس میں شریک رہنماوؤں نے بھارت پر زوردیاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشت گردی ختم کرے، نسل پرستی اور تشدد بندکرکے مقبوضہ کشمیرسے اپنی فوجیں واپس بلالے۔ تمام کشمیریو ں اسیروں کو رہاکیاجائے جو تحریک مزاحمت کی وجہ سے پابند سلاسل ہیں ۔بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیرآنے کی اجازت دے اور کشمیری قیادت کو سفرکی آزادی دی جائے اور مذاکرات کے عمل میں ان کی شرکت یقینی بنائے۔