جنرل حمید گل

Jashn e Azadi

Jashn e Azadi

تحریر: شاہ بانو میر
جنرل حمید گل
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اگست 14 اور 2015 کو پاکستانی عوام کبھی نہیں بھول سکیں گےـ عرصہ دراز کے بعد جشن آزادی کی خوشیاں دل و دماغ پے چھائی ہوئی تھیںـ آج دن بھر مصروف گزرا ویک اینڈ تھا تو جشن آزادی کو آج منانے کا الہتمام تھا تا کہ پہلے قرآن پاک کی مبارک کلاس کے بعد دعائے خیر کی جا سکے پھر جشن آزادی کیلیۓ سب مل کر اپنے جزبات کا اظہار کریں اور ملی نغموں سے حب الوطنی کے جزبات بچوں میں اجاگر کریں ـ پھر شام کو اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کا اہتما تھا کہ سب مل کر پاکستان کی آزادی کو محسوس کریں یہی وجہ کہ آج فیس بک نہیں اوپن کی رات گئے جب خوب جوش و جذبے کے ساتھ جشن منا لیا بچوں نے جھنڈیاں اٹھا کر خوب خوشی منالی تو کھانا کھایا گیا ا ور دوبارہ کیک کاٹا گیا دعا کی گئی اور پھر رات گئے کھانا کھا کر بیٹیاں اپنے گھروں کو روانہ ہوئیںـ

جیسے ہی فراغت ہوئی تو فیس بک کھولی اور سارے دن کی خوشی لمحہ بھر میں کافور جنرل حمید گل میری پسندیدہ مخلص جزباتی سچے پاکستانی اب اس دنیا میں نہیں رہےـ جہاں اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے کچھ بے ضمیر بے حس مُردہ سوچ کے مالک افراد ہیں تو وہیں پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ اس مملکت عظیم کو محبت کرنے والے ایسے بھی ملے کہ جنہوں نے ایٹم بم بنا کر ناقابل تسخیر قوت بنا کر اس ملک سے محبت کا لازوال ثبوت دیا ـ جنرل حمید گل جیسے ملے جنہوں نے محدود وسائل میں ذہنی حکمت عملی سے افغان جنگ کا نقشہ پلٹ دیا ـ اور وقت کی سپرپاور کو دنیا میں منہ دکھانے لائق نہ چھوڑاـ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان کی آئی ایس آئی ابھر کر دنیا کے سامنے آئی اور دشمنوں کے سینے میں کسی پھانس کی طرح چبھ گئیـ

General Ret Hamid Gul

General Ret Hamid Gul

جنرل حمید گل ہر اس شخصیت کی طرح متنازعہ بنا دیا گیا کہ جس نے تمام عمر اس ملک کی خدمت کی بے لوث ہو کرـ قربانیاں دیںـ دل میں ذہن میں زندگی میں روح میں اس ملک کو بسایاـ اور اس ملک کے کچھ شر پسند عناصر نے اپنے مفادات کی خاطر ان کی شخصیت کو متنازعہ بنا دیا ـ کوئی کچھ بھی کہے مگر آج میں بطورِ پاکستانی بلکہ محب وطن پاکستانی کے یہ برملا لکھنا چاہوں گی کہ پاکستان کے ہر ادارے میں آج کامیاب جھوٹے بغیر علم و ہنر اور قابلیت کے اوپر نظر آتے ہیںـ جنرل حمید گل جیسے افراد ذاتی محنت مسلسل لگن اور پاکستان سے بے پناہ عقیدت ،کی وجہ سے ترقی حاصل کرتے ہوئے زندگی میں مقام حاصل کرتےـ پاک فوج کے وہ ہیرو ہیں جن پر پاکستان افواج ہمیشہ فخر کریں گیـ

جس وقت بھی پاکستان پر غیر ملکی حکومتوں کا دباؤ بڑھا باوجود عملی زندگی میں کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے جنرل حمید گل کسی شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے بغیر کسی مشکل کو خاطر میں لاتے ہوئے منظر عام پر ابھرتے ہیں اور دشمن کی بے بنیاد جھوٹی خبر کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتے ہیںـ پاکستان فوج کا یہ نڈر یہ بے باک یہ بے لوث انسان آج ہم سے جدا ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملاـ ان جیسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہےـ ایسے لوگوں کا دنیا سے اٹھ جانا بلاشبہ اس وقت پاکستان کیلیۓ کسی سانحے سے کم نہیں ہےـ لیکن مگر جس کی چیز تھی وہ لے گیا ہمیں کہاں اختیار اس کے فیصلے میں مداخلت کاـ

جس چیز نے مجھے اداس ہوتے ہوئے بھی مُسکرانے پر مجبور کر دیا وہ ایک باریک سا نقطہ تھا شائد آپ متفق ہوں زندگی میں جس انسان نے کسی مشن سے کسی مقصد سے کسی فیصلے سے محبت کی ہو اور جنون کی حد تک کی ہوـ پھر وہ اسے مسلسل کرب عظیم میں مبتلا دیکھے تو اس پر کیا بیتتی ہے یہ میں بخوبی سمجھ سکتی ہوں کہ اسی قسم کی محبت مجھے بھی اس ملک سے ہے جیسی کہ جنرل حمید گل کو تھیـ پاکستان کے بگڑتے ہوئے مایوس کُن حالات اور پے درپے ہر سطح پر ہوتی ہزیمت بتا رہی تھی کہ ہم پاتال کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں ـ اور اوپر ابھرنے کی سطح پر آنے کوئی امید اس لئے نہیں باقی بچی کہ یہ کچھ اپنے ہی ہیں جو اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے عوام کو غربت کا بھوک کا تحفہ دے کر خود ان کے مال کو حلال کر کے جہنم کی آگ اکٹھی کر رہےـ

Mafia

Mafia

ایسے میں ملک کیسے ترقی کر سکتا تھا جب ہر شعبہ میں مافیا سرگرمِ عمل ہوـ مایوسی تھی ناکامی کا دور دورہ تھا مگر اس کیفیت میں جب کبھی غلیظ دشمن نے غّرا کر دیکھا وہ وقت ہمیشہ جس کو دفاع کرتے دیکھا بلکہ دشمن کو سفارتی ثقافتی سطح پر پرے دھکیلتے دیکھا وہ جنرل حمید گل ہوتےـ وہ ہمیشہ پاکستان کیلیۓ روشن دور کی بات کرتے کہ اس ملک پر یہ غاصبانہ تسلط بہت عرصہ نہیں رہ سکتا اپنے ملک کو غیور آزاد بلند اور مضبوط دیکھنے کیلیۓ ہر محاذ پر لڑنے والا یہ شخص قدرت کی فیاضی کا جاتے جاتے بھی مشکور ہوگا کہ جانے سے پہلے اللہ پاک نے ان کو ٹوٹٹے بکھرتے تباہ ہوتے برباد ہوتے اس ملک کو پھر سے سنبھلتے اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑے ہوتے دکھایاـ

ہر متنازعہ دلیل کو مسترد ہوتے ہر منافق کو شرمسار ہوتے اور ہر غاۤصب کو ہر ہتھیارے کو ہر دہشت گرد کو پابندِ سلاسل دیکھاـ کراچی کو یرغمالی سے نکالا مستحکم ملک کی شہہ رگ بنانے کا عمل شروع ہوتے دکھایاـ خوف کا سفر جو کچھ غداروں کی سرپرستی میں چل رہا تھا وہ ریزی ریزہ ہو کر بکھرتے دکھایاـ سانحہ پشاور کے معصوموں نے کربلا کی یاد ایسی تازہ کی کہ گرجنے والے برسنے والے سیاستدانوں کو نوجوانوں نے یکسر مسترد کر دیاـ سوچ کا زاویہ بدلا کہ جو اپنے صوبے کے اندر حکومت میں رہ کر اپنے صوبے کے بچوں کا دفاع نہیں کر سکے تو کیا؟ وہ اتنے مضبوط لوگ رکھتے ہیں کہ پاکستان کو چلا سکیں گے؟ 2012 میں 200 دیانتدار پاکستانیوں کو تلاش کرنے والے آج بھی وہی مطالبہ دہرا رہے ہیں

تو میرا سوال ہے کہ اگر حکومت چلانے کیلیۓ ابھی تک 200 افراد نہیں ملے تو پھر پورے ملک میں ہنگامہ آرائی کی سیاست کیوں؟ پورے ملک میں بے مقصد سراسیمگی کیوں طاری کر رکھی ہے؟ کامیاب سیاسی عنوان کو ناکام سیاسی تحریک میں ڈھلتے دکھایاـ چنگھاڑنے والوں کو دھیمی تہذیب یافتہ زبان استعمال بولتے دکھایاـ پاک فوج کے سپہ سالارِ اسلام نے ایسی دیانتداری کے ساتھ ملک کے معاملات کو درست سمت میں چلایا کہ پورے پاکستان میں دہشت گردوں غنڈہ عناصر کی سرکوبی کے علاوہ ہر طرح کے مجرموں کو کہیں جائے پناہ نہیں مل رہی یہی ابتداء تھی جو اللہ نے ان کو دکھا دیـ

Pak Army

Pak Army

ہماری جانب جو ممالک ان کو دھکیل رہے تھے جنرل راحیل کی جنگی چالوں نے واپس انہی ممالک کی جانب ان منفی عناصر کو پھینک دیاـ
جارحانہ انداز میں فوج کا پورے ملک میں حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر ہر شعبے کو ہر شہر کو ہر ادارے کو بہتر کرنے کا ایسا شفاف عمل کمزور پاکستان میں کسی سیاسی حکمران کے بس کی بات نہیں تھیـ سدھرتے پاکستان کا یہ انوکھا نرالا سجیلا روپ جنرل حمید گل کو اللہ پاک نے دکھا دیاـ پاکستان کی معیشت کو ناکامی کے سمندر میں غرق ہوتے دیکھنے والی آنکھ نے اس معیشت کو اقتصادی راہداری اور ایرانی نیو کلئیر معاہدے کے بعد پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار دوام کی جانب بڑہتے دیکھاـ زرد کمزور چہرے والی عوام کو مسائل کے باوجود اب پُرامید دیکھاـ

دس سال سے 14 اگست محض رسم کے طور پر مُردہ جزبوں کے ساتھ منانے والوں کو نئے خوشحال کامیاب ملک کے باسیوں کو کسی جبر کے ساتھ نہیں بلکہ پرمسرت چہروں کے ساتھ 14 اگست مناتے دکھایاـ جو آخری خواہش تھی وہ پوری ہوئیـ ان کی زندگی کا مقصد پورا ہوا وہ سرخُروگئے کہ کامیابی کے افق پر نئے سرے سے ابھرنے والے طاقتور پاکستان کو پہلے حقیقی جشنِ آزادی کی بھرپور خوشیوں کے ساتھ منا کر مطمئین ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملےـ جنرل حمید گل آپ کو پاکستان اور اس کی عوام آپکی بہادری اور دلیری پر انشاءاللہ ہمیشہ یاد رکھے گی
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر ،کی نگہبانی کرے
آمین عظیم ملت عظیم سپوت جنرل حمید گل

Hameed Gul

Hameed Gul

تحریر: شاہ بانو میر