نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنا موقف کھل کر بیان کریں۔ مجیب الحسن

UN General Assembly

UN General Assembly

نیو یارک: پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کیطرف سے لائن آف کنٹرول سمیت مسئلہ کشمیر کیلئے اپنا اور پاکستانی عوام کا موقف کھل کر بیان کریں مجیب الحسن پیپلز پارٹی امریکہ

پاکستان پیپلز پارٹی امریکہ کے اڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن مجیب الحسن نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں پاکستان اور پاکستان کی عوام کا موقف عالمی برادری پر کھل کر بیان کریں انہوں نے کہ اکہ بھارت کی طرف سے نہتے شہریوں پر بلا جواز فائرنگ کر کے لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے مجیب الحسن نے اقوام متحدہ ، امریکہ کے صدر اوبامہ سمیت عاملی برادری سے اپیل کی ہے وہ خطہ میں امن کیلئے خدارہ اپنا اثر و رسوخ کو بروئے کار لائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے بھارتی فوج کی دہشت گردی کے باعث ہزاروں بے گناہ کشمیری شہری شہید کر دیے گئے۔

انہوں نے کہ کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا خطہ میں امن و امان کی فضا ممکن نہیں، مجیب الحسن نے عالمی برادری سے کہا کہ اس وقت پاکستان دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے دوسری طرف بھارت اس دہشت گردی کی جنگ کو ناکام بنانے کیلئے باڈر پر بلا جواز لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے باعث بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں دہشت گردوں اور بھارتی دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں۔

مجیب الحسن نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک اچھے ہمسایہ کے ناطہ سے آپس میں بیٹھ کر امن کیلئے مذاکرات کر کے مسئلہ کا حل نکالیں جنگ مسئلہ کا حل نہیں جنگ میں دونوں ممالک کا نقصان ہو گا انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ وہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنمائوں کو پاکستان کے موقف کو کھل کر بیان کریں جمہوریت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔

نواز شریف اجلاس کے موقع پر بھارت کے وزیر اعظم سے ذاتی تعلقات خواہ وہ کاروباری ہوں بالائے طاق رکھ کر ایک پاکستان کے محب الوطن وزیراعظم کی حثیت سے عالمی برادری میں پاکستان کا کیس لڑیں گئے اگر نواز شریف صاحب کو ذاتی کاروبار کی فکر ہو تو اپنی جگہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ یا اعتراز حسین کو پاکستان کی نمائندگی کیلئے بھیج دیں۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کے وزیر اعظم کو ہمت و حوصلہ دینا کہ وہ گزشتہ دورے کیطرح ناکام نہ لوٹیں اور پاکستان کا موقف کو بلا جہیجک عالمی برادری کو پیش کر سکیںآمین۔