میں ایسا اک نیا سفر چاہتی ہوں

میں ایسا اک نیا سفر چاہتی ہوں
اپنے لئے اک مستقل در چاہتی ہوں

جہاں رقص کرتی ہوں خوشیاں ہی خوشیاں
میں ایسا ہی بس اک گھر چاہتی ہوں

بہت ہو چکی ہیں اندھیروں کی باتیں
،میں روشن چمکتی سحر چاہتی ہوں

جو دیکھیں تڑپتے سسکتے ہوؤں کو
ایسی ہی سب کی نظر چاہتی ہوں

برس ہا برس کی مسافت سے تھک کر
کڑی دھوپ میں اک شجر چاہتی ہوں

Women Praying

Women Praying

تحریر : نویدہ احمد