آئندہ الیکشن صاف و شفاف نہ ہوئے تو جمہوریت کا مستقبل تاریک ہو جائے گا: عبدالعلیم خان

Abdul Aleem Khan

Abdul Aleem Khan

لاہور (جیوڈیسک) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ 2013ء کے الیکشن والے دن تحریک انصاف کے 40 امیدواروں کو جھرلو الیکشن سے ہروایا گیا، 2018 کے الیکشن شفاف کروانے اور کرپشن کے خاتمے کے لئے تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جدوجہد نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تو ملک میں جمہوریت کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔

وہ گزشتہ روز دفتر نوائے وقت میں خصوصی گفتگوکر رہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ رمیزہ مجید نظامی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے الیکشن 2013ء میں دھاندلی ثابت کرنے کے لئے کل 4 نشستوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا لیکن تمام دروازے کھٹکھٹانے کے بعد مجبور ہو کر اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا۔ 126 دن کا دھرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اس دوران چیئرمین عمران خان نے اپنی تقریروں سے قوم کا شعور جگا دیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب ہم کرپشن کے خاتمے کا علم لے کر اٹھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف سمیت سب کا بلاامتیاز احتساب ہو لیکن مسلم لیگ (ن) اور ان کے حواری وزیراعظم پاکستان کو احتساب سے بچانا چاہتے ہیں۔ اگر نواز شریف وطن واپس آ کر بھی ضد پر اڑے رہے تو ہم ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث نواز حکومت سے عاجز آ چکے ہیں۔ عوام کی یہی اکثریت تحریک انصاف کی طاقت ہے۔

عوام نے تحریک انصاف کا ساتھ دیا تو ہم حکمرانوں کو مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیں گے اور اگر عوام سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت اچھا کام کر رہی ہے یا ان کی پالیسیوں سے بہتری کی امید ہے تو پھر وہ ہمارا ساتھ نہیں دے گی۔ اس سوال پر کہ سڑکوں پر طاقت آزمائی کرنے کی بجائے تحریک انصاف اپنی تنظیمی قوت کو بڑھانے اور اپنے ووٹ بنک کو یکجا کرنے کی طرف مائل کیوں نہیں ہے؟ اور کیا اچانک الیکشن ہونے کی صورت میں تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) سے پٹ نہیں جائے گی۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ سڑکوں پر 126دن رہنے کے تجربے نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے، ہمیں اپنی خامیوں اور غلطیوں کا خاصا اندازہ ہوا۔ دوسرے یہ کہ ہماری پارٹی تنظیم دھرنے سے مزید مضبوط بہتر ہوئی آج ہم بغیر تیاری کے اپنے کارکنوں کو کال دیں تو بھی ہزاروں لوگ نکل آتے ہیں۔

ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی مسلسل شکست اور مسلم لیگ (ن) کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں حکمران جماعت کے امیدوار ہی عام طور پر جیتتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ پچھلے دور میں کیا مسلم لیگ (ق) تمام ضمنی الیکشن نہیں جیتتی رہی۔ ہاں جہاں تک چار حلقوں کا تعلق ہے وہاں سب نے دیکھا کہ جہانگیر ترین اور میں نے کس طرح ثابت کیا عوام تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔