غذائیت میں کمی کی بڑی وجہ بھوک نہیں موٹاپا ہے: تحقیق

Obesity

Obesity

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غذائیت میں کمی کی بڑی وجہ بھوک کے بجائے موٹاپا ہے، 44 فیصد ممالک کو غذائیت میں کمی اور موٹاپے جیسے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بھوکے رہنے والےافراد غذائیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں جس اُن کی نشوونما رک جاتی اور قوتِ مدافعت کم ہو جاتی ہے۔

گلوبل نیوٹریشن رپورٹ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں غذائیت میں کمی کی بڑی وجہ بھوک کے بجائے موٹاپا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ہر تیسرا شخص غذائیت کی کمی کا شکار ہے جبکہ 44 فیصد ممالک کو غذائیت میں کمی اور موٹاپے جیسے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فاقے اور بھوک غذائیت میں کمی کی اہم وجہ ضرور ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر موٹاپا کے شکار افراد کی تعداد بڑھنے سے نیا چیلنج سامنے آ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت کم ممالک نے موٹاپے اور اس سے منسلک بیماریوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ موٹاپے سے نجات دلانے کے لیے سیاسی عزم پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔