مقبوضہ کشمیر میں ایک کم سن بچے کی شہادت عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہے، علی رضا سید

Ali Raza Syed

Ali Raza Syed

برسلز (پ۔ر) کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک بارہ سالہ ایک کمسن طالبعلم ’’جنید احمد‘‘ کی شہادت عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہے۔ برسلز سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویش کا باعث ہے۔عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اور اس معصوم بچے کے خاندان اوردیگرشہداکے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس بچے کی شہادت بھارت کی طرف سے بدترین ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتاثبوت ہے۔جنیداحمد کوسری نگرکے قریب اس کے آبائی علاقے سیدپورمیں پیلٹ گن کا نشانہ بنایاگیا اور وہ زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے قریبی ہسپتال میں چل بسا۔ بھارتی سیکورٹی فورسزنے اس کمسن کے جنازے میں شریک لوگوں پر اشک آورگیس کے شیل استعمال کئے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ کسی کمسن کو نشانہ بنایاگیاہوبلکہ گذشتہ تین ماہ کے دوران پیلٹ گن کا نشانہ بننے والے اکثر افرا دنابالغ بچے ہی ہیں۔

اس سال جولائی کے دوران ایک چودہ سالہ لڑکی انشاء ملک کو بھی پیلٹ گن کانشانہ بنایاگیاجس سے وہ آنکھوں سے محروم ہوگئی اور اس کے دماغ پر زخم آئے۔ اس کی فیملی کا کہناہے کہ بھارتی فورسزنے اس پر درجنوں پیلٹ اس وقت فائر کئے جب وہ اپنے گھرپر موجودتھی۔گذشتہ دودن کے دوران مقبوضہ کشمیرکے مختلف علاقوں میں کرفیوسمیت دیگرپابندیوں کے باوجودلوگوں نے کم سن بچے کی شہادت کے خلاف مظاہرے کئے۔مظاہرین پر بھارتی فورسز کے حملوں میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کمسن جنید احمد کی شہادت اور مظاہرین پر حملوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہاکہ کشمیری اپنے حق خودرادیت کا مطالبہ کررہے ہیں اور عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو چاہیے کہ ان کا یہ حق دلوانے میں ان کی مددکرے۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں گذشتہ تین ماہ کے دوران اب تک ایک سو سے زائد لوگ شہیدہوچکے ہیں اور پندرہ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مسلسل تین ماہ سے کرفیواور پابندیوں نے مقبوضہ وادی میں عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثرکیاہے۔ لوگوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور تجارتی مراکز مسلسل بند ہیں۔