کشمیر ای یو۔ویک کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کا خطاب

Kashmir Council EU- EU Week Opening

Kashmir Council EU- EU Week Opening

برسلز (پ۔ر) وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں اپنا کردار اداکرے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے برسلز میں کشمیرای یو ۔ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کشمیرای یو ۔ویک یا یورپ میں ہفتہ کشمیر جس کا اہتما م کشمیرک ونسل ای یو کررہی ہے، یورپی پارلیمنٹ میں گیارہ نومبرتک جاری رہے گا۔

یورپی یونین سے ثالثی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیرنے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے دوطرفہ مذاکرات ابھی تک کارگرثابت نہیں ہوسکے۔ اس لئے کشمیرپر بیرونی امداد کی ضرورت ہے، خاص طورپر یورپی کو آگے آکرکشمیریوں کا قتل عام اورنسل کشی بندکروانی چاہیے۔بھارت انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ سات عشروں سے کشمیریوں بھارتی بربریت کا شکار ہیں۔

اس تاثر کے بارے میں کہ بین الاقوامی تعلقات میں مالی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، وزیراعظم آزادکشمیرنے کہاکہ انسانی حقوق پر کبھی بھی سودابازی نہیں کی جاسکتی بلکہ تجارتی مفادات پر انسانی اقدارکو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اڑی میں بھارتی فوجیوں پر حملے کے بار ے میں راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ یہ بھارت کی طرف سے ڈرامہ تھاجس کا مقصد دنیاکی توجہ کشمیریوں پر جاری مظالم سے ہٹاناتھا۔انھوں نے کہاکہ مقبوضہ وادی میں گذشتہ چار ماہ سے ہزاروں لوگ زخمی ہوئے اور کئی شہید ہوچکے ہیں۔ نہتے لوگوں پر پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال ہورہاہے جس سے لوگوں کی آنکھوں اور چہرے مسخ ہورہے ہیں۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یوعلی رضاسید نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیرسے لوگوں کو باہر نہیں آنے دے رہاکیونکہ وہ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چاہتاہے۔ پہلے ستمبرمیں انسانی حقوق کے علمبردارخرم پرویز کویورپ آنے نہیں آنے دیا اور اب مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کے دوچشم دید ایک خاتون اور ایک مردکو یورپ سفرکرنے نہیں دیاگیا۔ وہ کشمیرای یو۔ویک میں شریک ہونے کے لئے کشمیرکونسل ا ی یو کی دعوت پر برسلز آرہے تھے۔علی رضاسید نے خرم پرویز کی رہائی کے لئے اپیل بھی کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن ای یو پارلیمنٹ سجادکریم نے کہاکہ مسئلہ کشمیرپر کسی بھی پیشرفت میں کشمیریوں کو ضرورت شامل کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یورپی یونین سے کہاکہ وہ بھارت کے ساتھ آزادتجارت کے معاہدے کے دوران مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھے۔

رکن ای یوپارلیمنٹ افضل خان نے کہاکہ حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ ہے اور اسے تسلیم کیاجاناچاہیے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیرجانے کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیرخطے میں ترقی میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے اور یہ اس لئے کیونکہ اس مسئلے کو اب تک سنجیدگی سے حل نہیں کیاگیا۔
رکن ای یوپارلیمنٹ مس جولی وارڈ نے کہاکہ یہ ہمارا فرض ہے کہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے معاملے کو اٹھائیں۔

خاص طورپر خواتین اور بچوں کے حقوق کو اٹھایاجائے۔ انھوں نے کہاکہ وہ آزادی کیلئے کشمیریوں کے مشن (تحریک) کی حمایت کرتی ہیں۔ایک اور خاتون رکن ای یوپارلیمنٹ ہالگا سٹیونزنے بھارت سے کہاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بندکرے۔رکن ای یوپارلیمنٹ امجد بشیرنے بھی مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیاں بندکروانے کا مطالبہ کیا۔

انسانی حقوق کی کارکن اورامورکشمیرکی ماہرمس سعدیہ میر نے افتتاحی تقریب کے دوران جو یورپی پریس کلب برسلزمیں منعقدہوئی، نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ کشمیرڈائس پورہ الائنس کے چیئرمین فاروق صدیقی (فارق پاپا) نے کہاکہ بھارت حقیقی جمہوریت کا علمبردار نہیں بلکہ وہ کشمیریوں کے جمہوری اور انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ بھارت نے اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لئے کشمیرمیںآٹھ لاکھ فوج تعینات کررکھی ہے۔

اس موقع پر آزاد کشمیر کے سینئر وزیرچوہدری طارق فاروق، ایم ایل اے راجہ جاوید اقبال، کشمیرکونسل ای یو کے سینئر عہدیدار سردارصدیق، کشمیرانفو کے چیئرمین میرشاہی جہان اور ماہرین، دانشوروں، سیاسی زعماء، انسانی حقوق کے علمبردار اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کشمیرای یو ۔ویک یا ’’یورپ میں ہفتہ کشمیر‘‘ جس میں بین الاقوامی کانفرنس، متعدد سیمینارز، مباحثے، ورکشاپس ، کشمیرپردستاویزی فلم اور عکاسی اور دست کاری کی اشیاء کی نمائش شامل ہے، یورپی پارلیمنٹ میں جمعہ گیارہ نومبر تک جاری رہے گا۔ ہفتہ کشمیرکے دوران مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال پر ایک رپورٹ بھی پیش کی جارہی ہے جس میں گذشتہ چار ماہ سے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بارے میں حقائق شامل ہیں۔

کشمیر کونسل ای یو کی طرف سے کشمیرای یو ۔ویک کی سالانہ تقریبات کا سلسلہ گذشتہ سات آٹھ سالوں سے جاری ہے۔اس کے علاوہ بھی کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے دیگر مواقع پر بھی مسئلہ کشمیرپر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام وقتاًفوقتاً یورپ کے قانون ساز، تحقیقی اورعلمی اداروں میں اجلاسوں، کانفرنسوں ، مباحثوں اورسیمیناروں کا انعقادکیاجاتاہے ۔ مختلف یورپی ممالک میں کونسل کی طرف سے کشمیرپر ایک ملین دستخطی مہم بھی جاری ہے۔ ان پروگراموں اورتقریبات کی وجہ سے یورپ کی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قابل توجہ آگاہی پیداہوگئی ہے۔ان تقریبات کے انعقادکے سلسلے میں کشمیرکونسل ای یو کے ساتھ یورپ کی دیگرکشمیری تنظیمیں بھی تعاون کر رہی ہیں۔