مجھے ہے حکم اذان لا الہٰ الاللہ

Azaan

Azaan

تحریر : آصفہ ہاشمی
دنیا بھر کے تعلیمی اداروں اخبارات و جراید الیکٹرونک میڈیا میں نیی نسل کو اخلاق سوز تعلیم پر اکسایا جا رہا ہے وہ ہمیں آنے والے وقت سے خبردار کر رہا ہے وقت ضرورت آ پوھنچا اے مرد ا مجاہد جاگ ذرا……….. امام ابن قیمؒ کہتے ہیں: حَیْثمَاُ وُجِدَتِ الْمَصْلَحَۃُ فَثَمَّ شَرْعُ اللّٰہِ ’’جہاں مصلحت کا پلڑا بھاری ہوگا وہیں پر شریعت کا اقتضاء ہوگا‘‘۔صرف اِسی میدان میں نہیں، ہر ہر میدان میں ہم دیکھ رہے ہیں ’’دینداروں سے پاک‘‘ دنیا کا ایک نقشہ بڑی تیزی کے ساتھ رو بہ عمل ہے۔ ہماری نظر میں، معاشرے کا ایک ایک فورَم اِس وقت میدانِ جنگ ہے۔ ہمارے ہر ہر فرد کو معاشرے میں جو اچھی پوزیشن حاصل ہے اُس کو قابو رکھنا بلکہ اس میں اور سے اور اچھی پوزیشن پر جانے کی کوشش کرنا، اور دشمنانِ دین کو پوری قوت سے پیچھے دھکیلنا اِس وقت دین کا خصوصی اقتضاء ہے۔ ظالم یہ چاہتے ہیں کہ یہ معاشرہ ہم ان کے لیے چھوڑ جائیں۔

اُن کا بس چلے تو وہ یہاں ایک ایسا جہان آباد کریں جہاں ’دیندار مخلوقات‘ اُن کو نظر تک نہ آئیں! بلاشبہ اُن کی دشمنی اور دیدہ دلیری اِسی نوبت کو آچکی ہے، جس کا مظاہرہ اب صرف ’مغرب‘ میں نہیں ہمارے اپنے شہروں اور بستیوں میں ہونے لگا ہے! اُن کے تیور بڑی دیر سے پیغام دے رہے ہیں کہ ہم پیروکارانِ محمدؐ کے لیے صرف اُن کے ملکوں میں نہیں پوری دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے اور اِسی کا نام اُن کی زبان میں ’گلوبلائزیشن‘ ہے (یہاں رہنا ہے تو اُنہی کے دین اور شریعت پر رہو ورنہ یہاں سے کوچ کرجاؤ، کم از کم ’ہماری نظروں کے سامنے سے پرے ہوجاؤ‘!)۔

یہاں پر؛ اگر ہمارے دینی طبقوں میں ’’معاشروں سے فرار‘‘ کے رجحانات پرورش پانے لگتے ہیں تو سمجھئے ہم نے اپنے ہاتھ سے دشمن کو وہ چیز دے ڈالی جو اُس کو مانگے نہ ملتی۔ عین اِس موقع پر؛ دینداروں کے ایک طبقہ کے ہاں پائی جانے والی ’’گوشہ نشین‘‘ ذہنیت اور ’’مائل بہ پسماندگی‘‘ طرزِ فکر اگر ہمارے تحریکی نوجوانوں پر حملہ آور ہوتی ہے تو حالیہ ’’گلوبل ولیج‘‘ کے صورت گروں کے لیے یہ یقیناًایک نعمتِ غیرمترقبہ کا درجہ رکھے گی۔

ALLAH

ALLAH

آج ہمارے ہر مرد اور عورت پر فرض ہوگا کہ وہ اپنی حدود اور اپنی صلاحیتوں کا ایک بے لاگ جائزہ لے کہ ملت کی اِس ضرورت کو پورا کرنے میں وہ بہترین طور پر کہاں اور کس شعبہ میں کھپ سکتا ہے اور پھر اُس شعبہ میں وہ جتنا آگے جاسکتا ہو اتنا آگے جائے اور اللہ کے دشمنوں کے مقابلے کے لئے سینہ سپر ہو کر تیار ہو جائے اور وہاں پر __ اپنی استطاعت کی حد تک __ اسلام کو متمکن کرے۔ معاشرے پر اثرانداز ہونے والی اِن پوزیشنوں پر ہم نہیں پائے جائیں گے تو __ بقول مشہور عالم شیخ ابن عثیمینؒ __ یہ جگہیں خالی نہیں پڑی رہیں گی؛ اِن کو خبیث لوگ پر کریں گے۔ اِس تہذیبی جنگ میں کیا ہم اِس کے متحمل ہیں؟ یعنی؛ کیا ابھی اور بھی پیچھے ہٹیں؟! یقین کیجئے، اِس وقت جو جنگ ہورہی ہے وہ ’ملکوں‘ پر نہیں ’’معاشروں‘‘ پر قبضے کے لیے ہورہی ہے اور یہاں؛ ملت کا ہرہر فرد اہم ہوجاتا ہے۔ ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت ہماری ضرورت ہے۔

خصوصاً پندرہ پندرہ بیس بیس سال پڑھ کر اتنا سارا راستہ چل آنے والی ہماری لائق فائق بیبیاں اور ہمارے عبقری مرد جو تھوڑا مزید چل کر معاشرے میں اچھا خاصا راستہ بناسکتے ہیں، ان کا تو بہت بڑا فرض ہے کہ وہ اسلام کو اپنی نظریاتی پیش قدمی کے لیے یہاں پر راستہ بنا کر دیں اور اِن محاذوں کو سنسان مت چھوڑیں جہاں اسلام کو دیس نکالا دینے کے خواب دیکھنے والے ہی بالآخر دندناتے پھریں۔ معاشروں سے نکلنا اور گوشوں* میں جابیٹھنا، اور اِس کو دین اور شریعت کا اقتضا جاننا البتہ ایک سنگین غلط فکری ہے۔

عمل کی شدید ضرورت ہے لیکن عمل کے لئے علم کی شمع کا نظر انا ہر اس شخصیت میں ضروری ہے جو خوش قسمتی سے اپنے قدم آگے بڑھا رہے ہیں للیکن مقابلہ بازی اور تنقید برائے تنقید اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانےکی دھن نے مقصد سے دور کردیا ہے آج ہمیں اپنے مسلم پیشہ ور ماہرین کی ضروت پہلے کسی بھی دور سے بڑھ کر ہے۔ یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں ہے

Asifa Hashemi

Asifa Hashemi

تحریر : آصفہ ہاشمی